افغان طالبان: ٹی ٹی پی کی رگ جاں

20

عالمی سفارتکاری میں ریاستوں کی اپنی اپنی ضرورتیں اور مفادات ہوتے ہیں جنہیں آگے بڑھایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں جب امریکی افواج نے افغانستان سے راہ فرار اختیار کی اور بدحواسی کے عالم میں اپنا اسلحہ گاڑیاں اور جنگی جہاز تک چھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلے تو شرمندگی سے بچنے کیلئے امریکہ نے اس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا کہ امریکی شکست میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پاکستان کے اس وقت کے انٹیلی جنس چیف جنرل فیض حمید کی سیرینا ہوٹل کابل میں چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑنے والی تصویر اس ڈاکٹرائن کا استعارہ بن گئی جس کا جنرل صاحب کو خود بھی خمیازہ بھگتنا پڑا۔
پاکستان کا افغان طالبان کیلئے خیر سگالی کا اظہار اس لئے تھا کہ ان کے برابر اقتدار آنے سے TTP کی سرحد پار حمایت میں کمی آئے گی کراس بار ڈر کارروائیاں رک جائیں گے دہشت گردی کم ہوگی اور پاک افغان بارڈر کے ذریعے کابل وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کے راستے کھل جائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغانستان سے ملحقہ ہمارا 2400 کلو میٹر مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا لیکن تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ ان مقاصد میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں ہوا۔
اس ہفتے چمن بارڈر پر افغانستان کے اندر سے فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان کے 8 بے گناہ سویلین شہری شہید ہوئے ہیں۔ اس سے 2 ہفتے قبل افغانستان میں پاکستانی سفیر قاتلانہ حملے میں بال بال بچے ہیں۔ 2 دن پہلے چمن بارڈر واقعہ کے بعد پاکستان کے خدشات اسی طرح برقرار ہیں۔ وزیرا عظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران افغانستان کی طرف سے جن خطرات کا خدشہ ظاہر کیا تھا وہ اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے جواب میں افغان ڈپٹی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے اربوں ڈالر کے بدلے اپنی سرزمین افغانستان پر امریکی ڈرون حملوں کیلئے استعمال کرنے کیلئے رضا مندی دے چکا ہے اس بیان پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے ساتھ ہی بارڈر پر جو کشیدگی نظر آرہی ہے اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ TTP اور افغان طالبان اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے دوران افغان حکومت ان کے ضامن کے طور پر معاملہ کر رہی تھی مگر ٹی ٹی پی کے مطالبات اتنے سخت تھے کہ پاکستان نے اپنی خود مختاری برقرار رکھتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن مذاکرات میں ڈیڈ لاک آنے سے پہلے پاکستان درجنوں TTP فائٹرز کو جیلوں سے رہا کر چکا
تھا۔ TTP والے یہاں تک مطالبہ کرتے تھے کہ سانحہ APS پشاور کے ملزمان کو بھی چھوڑا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ آرمی کریک ڈاؤن کے بعد جو TTP بھگوڑے افغا نستان بھاگ چکے ہیں انہیں اسلحہ سمیت واپس آنے دیا جائے اور واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے اور آخری اور سب سے قابل اعتراض شرط یہ تھی کہ فاٹا کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کی جائے گویا ٹی ٹی پی کا موقف یہ تھا کہ ہم آپ کے کسی آئین کو نہیں جانتے۔ یہ وہ وجوہات تھیں جس کی پر سیز فائر ختم ہوا اور مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد ان کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا۔
اس وقت بھی ایسی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ TTP کی طرف سے آنے والے دنوں میں حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے چارج سنبھالنے کے بعد TTP والے دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی پالیسی کیا ہے اس لئے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں کہ فوج کی نئی قیادت ان سے کیا سلوک کرتی ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم نے 11 سال کے بعد پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں 5-5 دن کے 2 ٹیسٹ میچ بھی کھیل لیے جس کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ TTP والے کرکٹ ٹیم کے اس اعلیٰ ترین Event کو فلاپ نہیں کر سکے یعنی اس قابل نہیں تھے کہ کوئی مہم جوئی کر سکیں جس کا کریڈٹ ہماری سکیورٹی فورسز کو جاتا ہے۔
افغان طالبان اپنے پیش رو حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ساتھ ایک قدر مشترک رکھتے ہیں کہ باقی ہر معاملے میں ان کے اختلافات ہیں مگر اس بات پر سب کی ایک ہی پالیسی رہی ہے کہ وہ پاک افغان سرحد کو عالمی بارڈر تسلیم نہیں کرتے۔ یہ سوچ ہی سارے فساد کی جڑ ہے۔
اس وقت پاکستان میں ضرور ت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان اور TTP کے بارے میں ایک نئی پالیسی تشکیل دی جائے۔ طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ 40 سال میں پہلی بار ایسی حکومت قائم کرنے میں کا میا ب ہوئے ہیں جو افغانستان پر مرکزی کنٹرول حاصل کر چکی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں اسلامک سٹیٹ آف خراسان جو کہ داعش کا گروپ ہے وہ اب بھی کابل میں دہشت گردی کررہا ہے گزشتہ ہفتے کابل کے ایک ہوٹل میں جہاں چینی باشندے قیام پذیر تھے وہاں خود کش حملہ ہوا ہے جس کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ آف خراسان نے قبول کی ہے۔ افغان طالبان حکومت کی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ TTP کی حمایت کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے جس طرح اقتدار میں آنے کے بعد عورتوں کی تعلیم اور مساوات کے موضوع پر یوٹرن لیا ہے وہ عالمی برادری کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ شروع میں پاکستان نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ ملک میں وسیع البنیاد حکومت قائم کریں جس میں سارے دھڑے شامل ہوں مگر اس تجویز پر توجہ نہیں دی گئی۔ امریکہ اندر سے یہ سمجھتا ہے کہ اگر طالبان کو اس طرح چھوڑ دیا گیا تو افغانستان میں داعش اور زیادہ مضبوط ہو جائے گی اس لئے امریکا ایک دفعہ پھر پاکستان کے ساتھ مل کر وہاں ایسا کردار ادا کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک اس منصوبے کی شکل و صورت واضح نہیں ہے۔ لیکن یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک افغان طالبان اپنے چھوٹے بھائی TTP کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے خاتمے کیلئے رضامند نہیں کر لیتے۔
عالمی سطح پر بری خبر یہ ہے کہ افغانستان پر اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ملک میں ہونے والی بے روزگاری اور مہنگائی کے سبب افغان حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی ڈرگ انڈسٹری جو کہ افغانستان میں ہے اس پر کریک ڈاؤن کرنے سے احتراز کیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شمال مغربی علاقے عبد الودود بازارمیں Methameta cine (نشہ آور مواد بشمول چرس ہیروئن آئس) بنانے کی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں اور پوست کی کاشت پر کوئی پابندی نہیں اس سلسلے میں خام مال کی قیمت جو کبھی 1.80 ڈالر فی کلو تھی وہ اب 0.75 ڈالر فی کلو ہے اس کی وجہ منڈی میں رسد میں اضافہ ہے جو طلب کے مقابلے میں رسد بڑھ جانے سے قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اس وقت دنیا کی 85 فیصد منشیات افغانستان میں پیدا ہوتی ہیں جو کرغستان اور تاجکستان کے راستے دنیا بھر میں سمگل ہوتی ہیں افغانستان اور پاکستان کے در میان بارڈر پر باڑ لگنے کی وجہ سے اب پاکستان کی جانب ہیروئن سمگلنگ کا جو حربہ تھا وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے البتہ پاکستان کے اندر اب بھی جو ہیروئن ہے اگر افغان حکومت زیادہ دیر تک بین الاقوامی تنہائی کا شکار رہتی ہے تو وہاں ڈرگ انڈسٹری اور زیادہ فروغ پائے گی۔ BBC نے اپنی ایک حالیہ نشریات میں سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی افغان فیکٹریوں کی تصاویر جاری کی ہیں جہاں نار کو ٹکس تیار ہو رہی ہے۔
افغان طالبان کے اندر فرسٹریشن بڑھ رہی ہے وہ اپنی تمام تر مہارت اور کنٹرول کے باوجود کرزئی اور اشرف غنی کی طرح ابھی تک کابل کو فول پروف سکیورٹی نہیں دے سکے جو کام وہ کرزئی اور غنی حکومتوں کے خلاف حملوں کی شکل میں کیا کرتے تھے اب وہ دہشت گرد حملے ان پر اسلامک سٹیٹ آف خراسان کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔ وہ بوکھلا ہٹ میں کبھی روس کی طرف دیکھتے ہیں اور کبھی چائنا کی طرف لیکن جلد یا دیر سے ایک نہ ایک دن انہیں ہم اپنے پرانے اتحادیوں یعنی پاکستان اور امریکہ کی طرف واپس رجوع کرنا پڑے گا اور ملک میں سیاسی اصلاحات کا وعدہ پورا کرنا پڑے گا اور بالآخر TTP کی ناجائز طرفداری سے اپنے ہاتھ روکنا ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں.