10لاکھ قومی رضا کار ۔۔ویلڈن جماعت اسلامی

5

جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے 10 لاکھ تربیت یافتہ قومی رضاکار تیار کرے گی کیونکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تمام ادارے، دیگر قومی اداروں اور محکموں کی طرح اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ زلزلہ، سیلاب اور کورونا وبا کے وقت ایسے اداروں کی مایوس کن کارکردگی نے اس بات کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے کہ کوئی تو ایسا غیر حکومتی ادارہ ہونا چاہئے جو مصیبت کے وقت قوم کے ساتھ شریک غم ہو سکے، مصیبت کے وقت ان کی دادرسی کر سکے۔ جماعت اسلامی قومی سیاست میں نام اور مقام بنانے کی سنجیدہ کاوشوں میں مصروف ہے نظری و فکری محاذ پر سکہ بند تنظیم کے طور پر جماعت ایک معتبر اور مقبول نام ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی اور فلاحی کام کرنے کے حوالے سے ایک روشن ہی نہیں بلکہ تابناک تاریخ کی وارث بھی ہے لیکن اس محاذ پر جماعت اپنا مقام اور مرتبہ برقرار نہیں رکھ سکی ہے ایک وقت تھا کھالیں اکٹھی کرنے، سماجی خدمات سرانجام دینے، قدرتی آفات میں عامتہ الناس کی دادرسی کرنے اور ایسے ہی دیگر فلاحی کاموں کے حوالے سے جماعت صفِ اوّل میں نظر آتی تھی۔ جماعت کے نوجوان اور بزرگ اعانت/ چندہ ایک دینی فریضہ سمجھ کر اکٹھا کرتے تھے اور جماعت کی طرف سے دراز کیا گیا دستِ سوال خالی نہیں رہتا تھاجماعت کے نظریاتی مخالف بھی جماعت کو امین گردانتے اور مانتے تھے۔ جماعت کی دیانت ہی نہیں بلکہ صلاحیت اور کارکردگی بھی کسی شک و شبہ سے بالاتر تصور کی جاتی تھی۔
ویسے ہماری دینی جماعتیں فلاحی کاموں میں صف اوّل میں نظر آتی تھیں ہمارے بڑے بڑے ادارے، ٹرسٹ اور ان کے زیرانتظام چلنے والے تعلیمی ادارے، یتیم خانے شفاخانے اپنی مثال آپ تھے معاشرے میں خدمات سرانجام دینے والے یہ ادارے بغیر کسی سرکاری درباری معاونت کے، عامتہ الناس کی مالی معاونت سے عامتہ الناس کے لئے کام کرتے تھے اجتماعی دانش اور اجتماعی کاوش معاشرے پر غالب تھی معاشرے میں استحکام تھا۔ پھر معاشرہ زوال پذیر ہونے لگا اور ایسے ادارے زوال پذیر ہونے لگے۔ جماعت اسلامی کا حالیہ اعلان اس دورِ زریں کی بحالی کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔
مولانا مودودیؒ عالم اسلام کی ایک ایسی شخصیت ہیں جو شرقاً غرباً اور شمالاً جنوباً پوری دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھی و پڑھی جاتی ہیں آپ کی تحریروں نے عرب و عجم کو یکساں طو پر متاثر کیا ہے۔ ان کی تفسیر ”ترجمان القرآن“ دنیا کی کئی زبانوں میں شائع ہو کر نسلوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے ان کی درجنوں دیگر تصانیف شائع ہو کر مسلمانوں کی فکری و عملی رہنمائی کا کام کر رہی ہیں وہ لاریب اپنے دور کی منفرد شخصیت اور داعی الی الخیر ہیں اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔
ان کی تخلیق کردہ جماعت اسلامی، ایک مثبت فکروعمل کو فروغ دینے والی معروف تنظیم کے طور پر پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بھی برسرپیکار ہے اس کی تنظیمی شاخوں کا سلسلہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ مولانا مودودی کے تخلیق کردہ لٹریچر سے استفادہ کرنے والے دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں وہ خیر کی قوتوں کے موئید و ساتھی ہوتے ہیں۔
پاکستان میں جماعت اسلامی فکری و نظری سیاست میں اپنا ایک نام اور مقام رکھتی ہے۔ مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے متاثرین اور موافقین کی ایک بڑی تعداد ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ قومی اتحادی تحاریک میں جان ڈالنے اور قربانیاں دینے کے حوالے سے جماعتی بھائیوں کا جواب نہیں ہے اجتماعیت کے لئے ایثار و قربانی دینے کے حوالے سے بھی جماعتی نیک نامی کے حامل ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے دورِ امارت کے بعد میاں طفیل محمد جماعت کو انہی خطوط پر لے کر آگے بڑھتے رہے جو مولانا نے ترتیب دیئے تھے۔ پھر جماعت فکری و عملی میدان میں کمزور پڑنا شروع ہو گئی۔ قاضی حسین احمد کے دور امارت میں جماعت کو عوامی بنانے کا تجربہ کیا گیا۔ جماعت کی عوامی پذیرائی میں اضافہ ضرور ہوا لیکن اس کی دینی و نظریاتی شناخت کمزور ہوئی پھر سید منور حسن کے دور امارت میں جماعت کے نظریاتی و دعوتی تشخص پر کام کیا گیا۔ جماعت کا تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبہ سرحد میں حکمرانی کا تجربہ اچھا رہا۔ جماعت کے سیاسی تشخص میں بہتری پیدا ہوئی۔
معاشرے کی تہذیب کے لئے نوجوانوں کی فکری و نظری تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی معاشرتی تنظیم و تہذیب بھی ضروری ہے۔ ہماری مذہبی جماعتیں یہ فریضہ سرانجام دیتی رہی ہیں لیکن مولانا مودودیؒ نے اس حوالے سے منفرد کام کیا ایک تو انہوں نے دور جدید کے مسائل کے حوالے سے معاملات کی دینی تشریح کی دور جدید کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی نقطہ نظر پیش کیا دوسرا انہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مخاطب کیا پوری ایک نسل افکارِ مودودیؒ کی روشنی اور رہنمائی میں پل بڑھ کر تیار ہوئی اور اس نے کمیونزم اور سیکولرازم کے خلاف بڑھ چڑھ کر فکری و عملی جدوجہد کی۔ افکارِ مودودی نے مشرق وسطیٰ میں اخوان المسلمین کو بھی متاثر کیا۔ افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین بھی افکار مودودیؒ سے متاثر تھے۔ جمعیت اسلامی افغانستان نے پروفیسر فرہان الدین ربانی اور حزب اسلامی افغانستان کے گلبدین حکمت یار تو باقاعدگی سے منصورہ شریف کی زیارت کے لئے لاہور آیا کرتے تھے پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ نوجوانوں کے ہراوّل کے طور پر تعلیمی اداروں میں دین اسلام کا دفاع کرنے کے حوالے سے مصروف تھے۔ جاوید ہاشمی، لیاقت بلوچ، امیر العظیم، فرید احمد پراچہ، خرم مراد، پروفیسر خورشید احمد اور ایسے ہی دیگر قدآور شخصیات اسی دور عظمت کی روشن مثالیں ہیں۔
جماعت کی موجودہ قیادت جماعت کو فکری و نظری میدان میں آگے بڑھانے کی شعوری کاوشیں کر رہی ہے 10 لاکھ رضاکاروں کی تیاری اس سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ یہ بھی کرنے کے کام ہیں جن سے ہمارے پالیسی سازوں اور حکمت کاروں نے نظریں چرائی ہوئی ہیں جماعت اسلامی نے اس اہم کام کو کرنے کا ذمہ لے کر ایک ذمہ دار جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے جس کے لئے جماعت کی قیادت حقیقتاً شاباش کی مستحق ہے۔ ویل ڈن۔ جماعت اسلامی۔

تبصرے بند ہیں.