سائنسی انداز میں گلے ملنے والے روبوٹ کا تیسرا ماڈل جاری

28

برلن: جرمنی میں ماہرین نے گلے ملنے والے نرم روبوٹ کا تیسرا ماڈل جاری کر دیا ہے۔ روبوٹ کو ہگی بوٹ 3.0 کا نام دیا گیا ہے ۔

 

جرمنی میں واقع مشہور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ انٹیلی جنٹ سسٹم سے وابستہ ایلیکسس ای بلاک اور ان کے ساتھیوں نے یہ روبوٹ بنایا ہے جو سائنسی انداز میں گرمجوشی سے گلے ملتا ہے۔ اس طرح بالخصوص نفسیاتی معالجین اور بالخصوص تنہا افراد کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’یہ دنیا کا واحد روبوٹ ہے جو قدِ آدم کے برابر ہے۔ اس کا خاص سافٹ ویئر سامنے والے کو دیکھ کر گلے ملتا ہے اور اسی لحاظ سے خود کو مرتب کرتا ہے۔‘ اس میں سینسنگ کا ایک خودکار نظام ہے جسے ’ہگی جیسٹ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے اندر ہوا بھرے پولی وینائل کلورائیڈ چیمبر ہیں جو انسانی سینے کی نقل کرتے ہیں۔

 

دوسری اہم شے اس کے بازو ہیں جنہیں دھاتی فریم سے بنایا گیا ہے اور ہر ممکن حد تک آرام دہ اور محفوظ انداز میں ڈھالا گیا ہے۔ روبوٹ کے سینے کے اندر بیرومیٹرک پریشر سینسر اور مائیکروفون بھی ہے۔ جیسے ہی کوئی انسان اس کے قریب آتا ہے تو وہ مائیکروکںٹرولر کے ذریعے ڈیٹا کو اس کے آپریٹنگ سسٹم تک پہنچاتا ہے جسے روبوٹ آپریٹنگ سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔ روبوٹ کا سر تھری ڈی پرنٹر سے بنایا گیا ہے۔

 

 

تبصرے بند ہیں.