خطرناک کا خطرناک کھیل

16

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ہر پہلو کا احاطہ کیا۔ وہ تقریر کیا تھی دراصل ایک لیکچر تھا جس کی یو این او کو سادہ نہیں اشد ضرورت تھی۔ اس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ویٹو کے ظالمانہ اور غیر جمہوری اختیار کو دیگر ممبران تک پھیلانا اقوام متحدہ کے چھوٹے اراکین ممالک جن کی تعداد بہت زیادہ ہے، کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد اور خطے میں امن کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے تاکہ یہ ثابت ہو کہ کثیرالجہتی کامیاب ہو سکتی ہے۔ سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن، سلامتی اور اصلاح شدہ کثیرالجہتی پر بات کرتے ہوئے، وزیر خارجہ نے 15 رکنی کونسل کو جموں اور کشمیر کے بھولے ہوئے مسئلہ کی قرارداد یاد دلائی جس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے ایک کثیر القومی ہی نہیں اس سلامتی کونسل کا ایک ایجنڈا مانتے ہیں اور اگر آپ کثیر جہتی اور اس کونسل کی کامیابی دیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اس عمل کو مکمل کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کامیاب اور خطے میں امن قائم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ اور جنرل اسمبلی سلامتی کونسل کو مزید طاقتور بنائے گی تا کہ ادارہ بااختیار ہو اور اسے کام کرنے کا اخلاقی جواز مل سکے۔ اس سے دنیا بھر کے ممالک کو بہتر طور پر برابری کے حقوق ملیں نہ کہ چند ایک کی برتری ہو گی۔ اقوام متحدہ کے مقاصد اپنے اشرافیہ کلب میں مزید اراکین شامل کرنے اور ویٹو کی ظالمانہ طاقت بڑھانے سے پورے نہیں ہوں گے۔ سلامتی کونسل کو ”عصری عالمی حقائق“ کی عکاسی کرنی چاہیے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔ سلامتی کونسل کے زیر سایہ امن کے فروغ، تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی کو موثر طریقے سے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی مسئلہ کے فریق ایک دن بات چیت اور مذاکرات جبکہ دوسرے روز اس کے الٹ نہیں جا سکتے۔ پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل کی کوششوں سے ہمارے خطے سمیت دنیا کے مسائل کو موثر اور پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ”کثیرالجہتی“ کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں لوگوں کا حق خود ارادیت، طاقت کے استعمال یا دھمکی کے ذریعے علاقوں پر قبضہ کرنا، ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ہمہ گیر اور مستقل پابندی پر ہونی چاہیے۔ موجودہ عالمی حالات میں یو این چارٹر کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ سلامتی کونسل محض ”انتظام“ کرنے کے بجائے تنازعات
کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اسے تنازعات کی بنیادی وجوہات، جیسے غیر ملکی قبضے اور عوام کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کو دبانے پر توجہ دینی چاہیے۔ رکن ممالک کو چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت کونسل کے فیصلوں پر عمل کرنا چاہیے۔ سلامتی کونسل کو تنازعات کے پیدا ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ شروع ہونے سے پہلے ہی ”پیشگی اقدام“ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے درجے کی ریاستیں ہیں لیکن انہیں سلامتی کونسل میں برابر کے حقوق ملنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سب کی خود مختار برابری کے اصول پر کاربند رہنا چاہیے نہ کہ برتری کے اصول پر، نئے ”مستقل اراکین“ کی شمولیت سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت کے لیے سلامتی کونسل میں نمائندگی کے مواقع عددی طور پر کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نئے مستقل اراکین کو شامل کرنے سے سلامتی کونسل کی تباہی کے امکانات بڑھ جائیں گے جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا تھا جب فورم اپنے مستقل اراکین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر رہا تھا۔ اور یقیناً وہ ریاستیں جو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہیں انہیں کونسل کی رکنیت کے لیے کسی طور بھی قابل غور نہیں سمجھا جا سکتا۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ متعدد خطرات اور چیلنجز سے دوچار اس پیچیدہ دنیا میں، اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر جامع کثیرالجہتی عمل، امن و سلامتی، اقتصادی اور سماجی ترقی سب سے امید افزا امکانات ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے تمام اہم اداروں جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اقتصادی اور سماجی کونسل، انسانی حقوق کونسل، بین الاقوامی عدالت انصاف، سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ کو بااختیار بنانا اور مو¿ثر طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔ ہمیں عالمی مالیاتی اور اقتصادی حکمرانی کے ڈھانچے، خاص طور پر بریٹن ووڈز اداروں میں مساوات اور جمہوریت کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ سب سے بڑے اور عالمگیر عالمی فورم جنرل اسمبلی کو کثیرالجہتی کو تقویت دینے اور بین الاقوامی تعلقات میں مساوات اور انصاف کی ترویج میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے دنیا پر زور دیا کہ وہ تنگ نظری سے توجہ ہٹائے اور اجتماعی، کثیر الجہتی اور سب سے پہلے کووڈ وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی، جوہری خطرے اور دہشت گردی کی شکل میں نسل انسانی کو درپیش خطرات کا سامنا کرے۔ تنگ نظری اور آمریت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خاتمہ کے لیے ہمیں نفرت انگیز نظریات، زینوفوبیا، پاپولسٹ انتہا پسندی اور نسلی اور اسلاموفوبیا سمیت مذہبی عدم برداشت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کچھ ممالک کمزوروں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد یہاں تک کہ نسل کشی کے خطرات مسلط کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے دوسرے مقصد عالمگیر سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول تک عالمی نظم و نسق، امن اور استحکام کو فروغ دینے کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ کووِڈ کے وبائی مرض، بڑھتے ہوئے تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے زیادہ بار بار اور شدید اثرات کے نتیجے میں، تقریباً ایک سو ترقی پذیر ممالک انتہائی معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ جی 77 کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کثیرالجہتی کے وسیع ایجنڈے پر عمل پیرا رہے گا۔ کوپ 27 کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے نقصانات کے ازالے کے لیے فنڈ کا قیام موسمیاتی انصاف ہے۔ پھر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزام میں اسامہ بن لادن تو مارا گیا جبکہ گجرات کا قصائی نریندر مودی بھارت کا وزیراعظم بن گیا۔ اس کھل نائیک نے گجرات کو مسلمانوں کا ذبیح خانہ بنا دیا۔ پھر چند سال قبل ہی سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ ایک ہولناک کھیل جاری ہے۔ کرفیو میں انہوں نے اپنے مردے گھروں میں دفنائے، شہید ہونے والے 60 سالہ شخص کے سینے پر بیٹھے ہوئے اس کے نواسے اور ہندو فوجی بھیڑیے کی ایک مسلمان کشمیری بیٹی کی آبرو پر سڑک پر حملہ کی تصویریں مجھے آج بھی خون کے آنسو رلاتی ہیں۔ بلاول بھٹو کے مودی کھل نائیک کو گجرات کا قصائی اور دہشت گرد کہنے پر پورے بھارت میں بلاول کے خلاف آگ لگ گئی اور وہ یعنی بھارتی پاکستان کے ٹوٹنے کا طعنہ دیتے رہے، جس کی وجوہات کچھ اور تھیں۔جبکہ اسامہ بن لادن تو وقوعہ سے بہت پہلے وفات پا چکے تھے، امریکی اوباما الیکشن جیتنے کے لیے ڈرامہ کر گئے تھے۔ بھارت کو مدر آف ڈیموکریسی قرار دیتے رہے۔ جس نے کشمیری عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور 75 سال سے حق خود ارادیت تسلیم کرنے کے بجائے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ بلاول بھٹو کی تقریر پر مجھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی اقوام متحدہ میں تقریر جس کی تاب نہ لاتے ہوئے سورن سنگھ اٹھ کر چلا گیا اور جناب بھٹو نے کہا کہ Dog is going کتا جا رہا ہے۔ پھر 1971 کی تقریر جس میں پولینڈ کی قرارداد پر بھٹو صاحب نے اپنی تقریر کے لیے پوائنٹس نوٹ کر رکھے تھے۔ سوال کیا کہ What about the troups یعنی جنگ بندی تو ٹھیک ہے جو فوجیں پاکستانی علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں یہ واپس مسلط کرنے والی پوزیشن پر جائیں گی جس پر جواب آیا کہ نہیں۔ اس پر بھٹو صاحب نے اپنے نقاط پھاڑے اور جو چند منٹوں کی تقریر کی، ٹھڈے مارتے وہاں سے نکلے کہ میں وقت برباد کرنے نہیں آیا اور آ کر ملک کو 5 سال میں بھارت سے کہیں زیادہ اور دنیا میں اعلیٰ مقام دلایا۔ بات دوسری جانب نکل گئی۔ ان کی تقریر پر بی بی سی کا تبصرہ تھا کہ بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران کرب اور تکلیف سے بھارتی مندوب پہلو بدلتے رہے۔ مگر مجھے افسوس ہے ان نا معلوم ولدیت رکھنے والے اینکر اور ٹک ٹاکر اور یوتھیا پیداوار کے یوٹیوبر پر جو آج بھارت کی حمایت کر رہے ہیں اور بلاول بھٹو کے متعلق بکواس کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عرصہ کے بعد پاکستان کو ایک وزیرخارجہ ملا ہے جس کے تیر نے بھارت اور مودی کی خالی جگہ پُر کر دی۔

تبصرے بند ہیں.