کرپٹ عناصر۔۔شیطان کا دوسرا روپ؟

33

ہمارے آج کے کالم کا موضوع اخبارات میں شائع ہونے والی تین خبروں سے متعلق ہے ، ا ۔ امریکی ایوان نمائندگان نے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون منظور کر لیا ہے ۔ واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل امریکہ میں پہلی بار سیاہ فام ہم جنس پرست خاتون Karine Jean-Pierre کو وائٹ ہاوس کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ بہرحال ایسے مادر پدر آزاد معاشروں میں یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے اس حوالے سے ہمارے کرپٹ عناصر بھی کسی سے کم نہیں بلکہ اس فعل بد میں امریکیوں سے بھی ایک ہاتھ آگے ہیں ۔ جی ہاں کچھ روز قبل وزیر خارجہ جناب بلاول زردار ی بھٹو نے جہاں ایک جانب ہم جنس پرستی پر مبنی فلم ”جوائے لینڈ“ کی ریلیز کی اجازت دی تو دوسری جانب اس فحاشی و عریانی کو عام کرنے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ خبر کے مطابق جب اس اخلاق باختہ فلم کی ریلیز کو رکوانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو سندھ ہائیکورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ تاریخی جملے بول کر درخواست مسترد کرتے ہوئے شاہی فیصلہ صادر کر دیا، کہ غیر ضروری سنسرشپ معاشرے کی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ جبکہ آرٹیکل 19کے تحت فلم ساز کو بھی اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔ حیرت ہے کہ موصوف جج صاحبان نے اس بات کی وضاحت کرنا گوارا نہیں کی کہ وہ کس معاشرے کی بات کر رہا ہے مسلم معاشرے یعنی پاکستانی معاشرے کی یا پھر مادر پدر آزاد مغربی و امریکی معاشرے کی ۔ جہاں پر دنیا کی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے کم
از کم ۰۳ فیصد ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں جن کو ان کے اصل باپ کا ہی نہیں پتا ہوتا ۔ باقی رہا اظہار رائے کی مکمل آزادی کا سوال ۔ حیرت ہے جج صاحبان کو یہ تو نظر آگیا کہ ہم جنسی پرستی کو روکنا اظہار رائے پر بہت بڑا پاپ ہے لیکن ان کو آئے روز رحمت للعالمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گستاخی کے مرتکب مجرم نظر نہیں آتے۔ یا پھر جج صاحبان کی نظر میں نعوذ باللہ یہ گستاخیاں بھی اظہار رائے کی آزادی کے زمرے میں آتی ہیں ۔تیسری اور آخری خبر کے مطابق ٹرانسپیرنسی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپٹ ترین اداروں میں پہلے نمبر پر پولیس ، تیسرے نمبر پر عدلیہ اورچوتھے نمبر پر محکمہ تعلیم ہے ۔ یقین کریں کہ اس ر پورٹ نے میرے سمیت قانون، سچائی و عدل کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ جس ملک کے تین بنیادی Piller ہی کرپٹ ہوں یعنی عوام کی جان ومال اور عزت و آبر کے ضامن ہی قانون و عدل فروش ہوں ، جس ادارے نے مستقبل کی نسل نوح کی سچائی کی بنیادوں پر روحانی تربیت کرنی تھی جب وہ بھی علم فروش بن جائیں تو پھر اس معاشرے میں ایمان برائے فروخت ہی ہوتا ہے ۔ جس ملک کی اسمبلیوں میں حکومت اور اپوزیشن مل کر ختم نبوت پر ترمیم کر نے کو عار محسوس نہ کریں ۔ کلمہ طیبہ ، توحید کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے ملک خدادا میں جب سرعام غیر اسلامی ( کپل سوئیپ نائٹ جیسے ) Eventمنعقد ہوں جس میں جوڑے 25ہزار کا ٹکٹ لے کر داخل ہوں ، رقص وسرور کی محفل ہوں، جینڈر بل کو پروموٹ کرنے والے اپنی بیویوں کا ادل بدل بھی کریں ، المیہ یہ ہے کہ اللہ کی بغاوت پر مبنی اس پروگرام کی خوب تشہیر بھی ہو۔ وہاں اللہ کا عذاب نازل نہ ہو تو پھر کیا ہو۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن مجید میں واضح فرماتے ہیں۔
( بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ خوب جانتا ہے تم نہیں جانتے )، سورة النور 19۔ اسی لیے راقم ایک سال سے ہر پلیٹ فارم پر ببانگ دہل کہتا چلا آرہا ہے کہ ” کرپٹ مافیادرحقیقت شیطان کا دوسرا روپ ہے “ ۔ کرپشن سب سے پہلے
لاقانویت کو جنم دیتی ہے پھر اس جنم سے وطن فروش، ملت فروش، ایمان و دین فروش، عدل فروش اور علم فروش جیسے ناسور پیدا ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ابھی تک اس فحاشی و عریانی کے خلاف کسی نے آواز بلند نہیں کی ۔ کیا اسلام کے نام پر حاصل کیے گے ملک میں ابلیس کے پیروکار اتنے شتر بے مہار ہو گے ہیں کہ طاقتور ، دینی ، مذہبی اور قانونی حلقے ان کے آگے بے بس ہوچکے ہیں۔ جب انسان سرکشی کی تمام حدوں کو عبور کرنے کی جسارت کرتا ہے اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا تب اللہ سبحانہ وتعالیٰ مجرموں سمیت گناہگار قوم کو بھی اسی ماحول ، انہی حالات میں اور انہی اسباب کے ذریعے عذاب سے دوچار کرتا ہے ۔ ( اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے ، یقینا اس کی پکڑ بہت ہی المناک اور سخت ہے )، سورة ہود، 102 ۔

تبصرے بند ہیں.