پھول مسلے گئے، کلیاں کچلی گئیں

11

16 دسمبرہماری قومی تاریخ کا ہولناک ترین دن ہے۔ 2014ءکو اسی روز پشاورمیں جو قیامتِ صغریٰ برپا ہوئی اس کے اثرات اب تک دلوں میں غم کی لہریں اٹھارہے ہیں اور یہ مستقبل میں بھی ہمیشہ محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ جن خاندانوں کے چشم و چراغ، پھول اور کلیاں اس ظلم و سفا کی کی بھینٹ چڑھے وہ تو اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ ان کی آنے والی نسلیں بھی اسے ایک سوگ اور اندوہ کے ساتھ یاد کیا کریں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں بہت بڑے آپریشن جاری ہوں اور درجن سے زائد انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ملک میں سرگرم عمل ہوں تو ایسی غفلت، بے خبری اور لاپروائی کا کیا جواز ہے؟ یہ سکول جس میں قیامت گزری کسی دور دراز ویران جگہ پر نہیں بلکہ پشاور جیسے اہم ترین صوبائی صدر مقام کے پررونق علاقے میں واقع ہے۔ سکول کا نام (آرمی پبلک سکول) بذات خود اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

اس سکول میں سویلین آبادی کے بچے بھی پڑھتے ہوںگے مگر زیادہ تر مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے نونہال یہاں زیر تعلیم ہوں گے۔ فوج خود دفاعی ادارہ ہے اور اس کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فول پروف ہیں۔ اگرچہ یہ مفروضہ اس سے پہلے بھی جی ایچ کیو راولپنڈی، ایئر فورس کے اہم مرکز کامرہ اور واہگہ بارڈر کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ کے سانحات میں بھی غلط ثابت ہوچکا ہے۔ لیکن پشاور کے واقعے نے تو قوم میں بہت ہی زیادہ بددلی اور مایوسی کی کیفیت پیدا کردی۔ ان تمام اداروں کا نئے سرے سے جائزہ لیا جانا چاہیے جن پر ملک کی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ملک کی حفاظت کے لیے جتنا بھی بجٹ صرف کیا جائے اس کا جواز موجود ہے، مگر اس کے نتائج بھی تو تسلی بخش ہونے چاہییں۔

جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا تو ملک ہی نہیں پورا عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا سکتے میں آگئی تھی۔ واقعہ قابل مذمت بھی تھا اور رہے گا، مگر لمحہ¿ فکریہ بھی ہے کہ ہم کیسے معاشرے اور کیسی حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے پہلے ہی دن بہت واضح الفاظ میں کہا گیا تھا کہ دہشت گرد پہچان لیے گئے ہیں، ان کی اصلیت ظاہر ہوگئی ہے، کہاں سے انھیں ہدایات مل رہی تھیں اور کون لوگ ان کے ساتھ رابطے میں تھے، سب کچھ معلوم ہوچکا ہے۔ اسی ادارے کی اطلاعات کے مطابق یہ سارے دہشت گرد قتل ہوگئے تھے۔ تاہم یہ نہ بتایا گیا کہ آیا انھوں نے خود اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا کر خودکشی کی یا ہماری سیکورٹی فورسز نے یہ کارنامہ سرانجام دیا، آج تک پوری تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ ان میں سے کوئی دہشت گرد وہاں سے نکل کر بھاگنے میں بھی کامیاب ہوا تھا یا نہیں؟ نیز ان کے نام اور اصلیت بھی تو منظر عام پر آنے چاہیے تھیں۔ مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

اصل حقائق قوم تک پہنچانا حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے، جس کا ہمارے ہاں ہمیشہ فقدان رہا۔ اگر مجرم معلوم ہو جائیں اور ان کے تانے بانے اور ڈانڈوں کو طشت ازبام کر دیا جائے تو آیندہ کی پیش بندی اور احتیاطی تدابیر آسان ہو جاتی ہیں۔ نیز عوام الناس بھی مطمئن ہوتے ہیں کہ ہمارے سرکاری ادارے بیدار اور فرض شناس ہیں اور اپنا اپنا کام ٹھیک انداز میں کر

رہے ہیں۔ اب تک ہماری پالیسی یہ رہی کہ حادثہ ہونے کے وقت اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر بعد میں نتیجہ صفر برآمد ہوتا ہے۔ پھر جو مجرم پکڑے بھی جائیں اُن کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اُن کا انجام کیا ہوا؟ کیا ہماری سرزمین پر ریمنڈ ڈیوس کے قبیح جرم اور پھر اُس کے بغیر کسی تادیب و سزا کے ملک سے بھگا دیے جانے کو قوم بھول سکتی ہے؟

اسی طرح ہمارے بدترین دشمن انڈیا کے وہ ایجنٹ جنھوں نے یہاں دھماکے کیے، پھر پکڑے گئے، کئی انسانی جانوں کے قاتل ثابت ہوگئے اور عدالتوں نے اُنھیں سزا بھی دے دی مگر حکمرانوں نے کمال غیرذمہ داری سے بزدلی کی چادر اوڑھنے کا فیصلہ کرلیا۔ دشمن ملک بھارت سے خیرسگالی کی خاطر اپنے شہریوں کے خون کو روندتے ہوئے ان مجرموں کو چھوڑ دیے جانے کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ کیا سربجیت سنگھ کا واقعہ ہم بھول سکتے ہیں؟ سزائے موت کا حکم کسی پارلیمانی قانون کے نتیجے میں نافذ نہیں ہوا تھا، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور قتل و غارت گری کو روکنے کے لیے قصاص کا قانون عطیہ خداواندی ہے۔ یہ فیصلہ عدالت نے پورا کیس سننے کے بعد صادر کیا تھا۔ اگر ایسے فیصلوں کا نفاذ ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یقینا قتل کی وارداتوں میں کمی ہوتی ہے۔ یورپین یونین اور امریکہ کے دباﺅ پر اس قانون کو معطل کرنا کیا اللہ تعالیٰ سے بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا؟

بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

پشاور کا یہ سانحہ رونما ہونے کے بعد چند مثبت چیزیں سامنے آئیں۔ ہر اچھی بات کی تحسین کی جانی چاہیے۔ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے راہنماﺅں نے ایک متفقہ موقف اختیار کیا جو نہایت خوش آیند تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب نے اپنے طویل دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب نے سزائے موت پر عمل درآمد کے تعطل کو ختم کرتے ہوئے قانونِ قصاص کو بحال کر دیا۔ یہ تمام امور تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوئے تھے۔ ہم ان نے سب کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ امن دشمن اور دہشت گردی کے مرتکبین کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ نیز یہ کہ اصل مجرم باقاعدہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد جب سزائے موت کے مستحق قرار پائیں تو کسی ادارے یا شخصیت، خواہ و ہ پارلیمان ہو یا صدرِ مملکت، کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ قاتلوں کو معاف کر دیں۔ افسوس صد افسوس کہ ہمیشہ کی طرح یہ امیدیں بھی خاک میں مل گئیں۔

ایک اور بات جس کی طرف ہم تمام، سابقہ، موجودہ اور آیندہ ذمہ دارانِ حکومت اور رائے عامہ کو متاثر کرنے والی شخصیات کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہر پاکستانی کو یاد ہوگا کہ اندرا گاندھی نے ۶۱ دسمبر ۱۷۹۱ءکے سانحہ مشرقی پاکستان کے موقع پر بڑے تکبر سے کہا تھا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگالہ میں ڈبو دیا ہے۔ آج پھر سالہاسال سے انڈیا میں اندرا گاندھی سے بھی بدتر پاکستان اور مسلم دشمن سیاست دان نریندرا مودی حکمران ہے۔ ۶۱ دسمبر ۴۱۰۲ءکے اس واقعہ میں بھارتی کردار کو بھی یکسر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جوہر ٹاﺅن کے دھماکے میں بھارتی ایجنسیوں کا کردار سامنے آ چکا ہے، اسی طرح امریکہ کے بلیک واٹرز ملک کے چپے چپے پر اب بھی موجود ہیں۔ بھارتی رائ، اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے ہر ملک اور قوم سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی تنظیم ذمہ داری قبول کرتی ہے تو یقینا جرم کی ذمہ دار وہی ہوتی ہے۔ مگر ایسی تمام تنظیموں کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کرنا چاہیے کہ ان کے اصل ڈانڈے کہاں ملتے ہیں، اُن کی بنیاد کس نے رکھی اور اُن کی مالی مدد کون کر رہا ہے۔

اگر قومی وحدت پر اتفاق رائے خدا خدا کر کے پیدا ہوجائے اور سیاسی وذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اہم قومی ایشوز پر تمام قوتیں ایک موقف اپنائیں تو ہماری دفاعی قوت اور اندرونی سلامتی میں بہت بہتری آسکتی ہے، مگر اللہ جانتا ہے اس وقت سیاست دان ذاتی مفادات کی خاطر ہر اخلاقی قدر کو پاﺅں تلے روندتے چلے جا رہے ہیں۔ ملک میں حکومتیں بدلتی ہیں۔ یہاں ہر حکمران، سابقہ ہو یا موجودہ ایک دوسرے کو گالیاں دینا ضروری سمجھتا ہے، مگر ہر ایک کی پالیسی ایک ہی ہوتی ہے۔ خدارا! اب تو بالغ نظری کے ساتھ قومی معاملات پر متفقہ سٹینڈ لینے کی روایت قائم کریں۔ کشمیر کو مودی نے ہڑپ کرنے کا جرم کردیا۔ بھارت میں مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ان حالات میں ایک زندہ قوم بن کر اپنی غیرت کا مظاہرہ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ ایسا کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے حالات میں بہتری پیدا نہ ہو۔ وما علینا الا البلاغ !

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند!

تبصرے بند ہیں.