عمران خان کا پرویز الہٰی کے بیان پر رد عمل آگیا، جنرل باجوہ کو بغیر ثبوت کرپٹ بھی قرار دے دیا

73

 

لاہور : سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پرویز الہٰی کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ ثابت ہوگیا جنرل باجوہ خود کرپٹ تھے۔

 

نیو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی جانب سے دیے جانے والے بیانات کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس ہوا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کہا کہ پرویز الٰہی کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔

 

قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو کرپٹ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی جنرل (ر)باجوہ کا مسئلہ ہی نہیں تھا ‘ یہ کہنا درست نہیں کہ اقتدار میں آکر باجوہ کے خلاف کارروائی کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر خود کہہ چکے ہیں کہ وہ نیوٹرل رہیں گے‘اسمبلیاں ٹوٹنے کی صورت میں تین ماہ میں الیکشن کرانا نیوٹرلز کا اصل امتحان ہے ‘ نوے روز میں انتخابات نہ ہوئے تو سمجھ لیں کوئی بھی نیوٹرل نہیں ہے ‘ اگر فوج کو صحیح استعمال کرلیں تو ملک کو بحرانوں سے بچایا جاسکتا ہے‘وفاق کریش ہوچکا ‘ صوبوں کے لئے فنڈز موجود نہیں ہیں‘اگر ہمارے دور میں کرپشن ہوتی تو کیا صرف گھڑی کا کیس اٹھاتے ؟ ۔

 

عمران خان کا کہنا تھاکہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ باجوہ کے ساتھ جھگڑا میری ذات کا ہے، جنرل (ر) باجوہ نے ہماری حکومت گرائی، فوج کو اپنے ادارے کا خود جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جس وقت فیض حمید کو ہٹایا گیا تو پتہ چل گیا تھا کہ حکومت گرانے کا پلان بن چکا ہے‘جنرل باجوہ کو سمجھایا کہ شہباز شریف پر 16 ارب کے کرپشن کیسز ہیں، اسے کس طرح لا سکتے ہیں؟ پتہ چلا کہ کرپشن باجوہ کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کو بتایا تھاکہ اگر دس بارہ بڑے کرپٹ لوگ پکڑلیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن قمر جاوید باجوہ نے زور دیا کرپشن کیسز کو ختم کرو،معیشت بہتر کرو‘ثابت ہو گیا کہ جنرل باجوہ خود کرپٹ تھے۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلیاں ہر صورت توڑ یں گے، دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان سب کا احتساب کریں گے جو خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، الیکشن نہ کروائے گئے تو پاکستان سیدھا سیدھا ڈیفالٹ کر جائے گا، 66 فیصد پاکستان میں الیکشن ہوگئے تو انہیں بھی عقل آجائے گی۔

 

تبصرے بند ہیں.