17 دسمبر: عمران خان نہیں تو کوئی بھی نہیں

8

اس بارے میں قطعاً دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں کہ پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ سیاست ہو یا سفارت اور معیشت بھی بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ معاملات دگرگوں ہیں۔ شدید پریشانی ہے عامتہ الناس کی زندگی اس کے شب و روز درست نہیں ہیں۔ آٹا، دال، چاول، چینی ہی نہیں، بجلی گیس اور تیل بھی اس کی دسترس سے نکل چکے ہیں۔ قدر زر پست سے پست تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ عام انسان کی قوت خرید جامد ہو چکی ہے کورونا پہلے ہی ہماری معیشت پر کاری ضرب لگا چکی ہے رہی سہی کسر گزرے سال کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے خوفناک سیلاب نے پوری کر دی ہے۔ ہماری قومی معیشت حقیقتاً سرخ لائن کراس کرتی نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کے 4 سالہ دور حکمرانی کی نالائقیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ لیکن انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد اس کی شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کی پالیسی اختیار کر کے قومی معیشت کو اندھے غار میں دھکیل دیا ہے۔
اتحادی حکومت معاملات سدھارنے کی سرتوڑ کاوشیں کر رہی ہے حتیٰ کہ مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کی شکل میں معاشی شہ دماغ بھی میدان میں اتارا جا چکا ہے لیکن عوام کی امیدیں بلند آہنگ ہیں، مسائل پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا پہنچے ہیں، مشکلات پہاڑ جیسی ہیں اس لئے معاشی حالات میں درستی کی رفتار اتنی نہیں ہے جو نظر آ سکے اور عوام کی تشفی و تسلی کا باعث بن سکے۔ معاشی معاملات کی فوری بہتری نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یوکرائن کی جنگ بھی ہے جس نے عالمی منظر پر بے یقینی کی صورت حال طاری کر رکھی ہے امریکہ اس جنگ کے ذریعے روس کے ساتھ حساب چکتا کرنا چاہتا ہے۔ اپنی برتری قائم رکھنے اور دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے اور بٹھائے رکھنے کے لئے جنگ کی بھٹی دہکائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ چین کے ساتھ براہ راست پنگا لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے چینی تعمیروترقی اور سفارتی پرواز نے اس کی پوزیشن مستحکم کر دی ہے امریکی دھمکیوں اور سازشوں کے علی الرغم چین، امریکہ کے ہاتھ لگنے والا نہیں ہے اس لئے امریکہ نے روس کو یوکرائن کی جنگ میں الجھا کر ایک طرف اپنی کمزور معیشت کوسہارا دینے کی پالیسی اپنا لی ہے دوسری طرف اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کا ذریعہ بنا لیا ہے جنگ طول پکڑتی چلی جا رہی ہے یورپ اس جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ اناج اور توانائی کے ذرائع کی منڈی افتراق و تفریق کا شکار ہو چکی ہے ایک طرف اشیا کی رسد متاثر ہے تو دوسری طرف ان کی طلب میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے جس کے باعث بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، جرمنی ہو یا جاپان اور فرانس وغیرہم سب نے اپنی اپنی معیشتوں کو سہارنے کے لئے شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کر رکھا ہے ترقی یافتہ ممالک بھی طلب و رسد کے تفاوت کے باعث مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ کارخانے بند بھی ہو رہے ہیں ایئرلائنز اور ریلوے ملازمین اپنی تنخواہوں میں
اضافے کے لئے ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں نرسوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے ہڑتال کا سہارا لیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے منسلک تمام اقوام، شدید معاشی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے پاکستان بھی اگر معاشی مسائل کا شکار ہے تو یہ انہونی بات نہیں ہے لیکن انہونی بات یہ ہے کہ معاملات درست کرنے کی قوت کمزور نظر آ رہی ہے۔
قومی معیشت کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہے۔ ہمارے ہاں سیاست اس مقام تک جا پہنچی ہے جہاں سیاسی عدم استحکام کے سوا کوئی اور نتیجہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ عمران خان اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت سے رخصت ہونے کے بعد سے سیاسی توازن کھو چکے ہیں۔ ان کی غیرمتوازن پالیسیوں نے جاری سیاسی انتشار میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے چار سالہ دور حکمرانی میں بھی سیاسی مار دھاڑ جاری رکھی۔ اپوزیشن کو نیب اور دیگر حکومتی و ریاستی اداروں کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں الجھائے رکھا۔ سیاست میں انتقام اور عدم رواداری کے رویوں کے فروغ کے ذریعے نہ صرف سیاست کو مکدر کیا بلکہ معاشی عدم استحکام کو بھی فروغ دیا۔ اپریل 2022 میں حکومت سے رخصتی کے بعد انہوں نے ایسے ہی رویوں کو زیادہ شدت سے جاری رکھا۔ فوج کے سیاست سے علیحدہ ہونے کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا عمران خان فوج کی آشیرباد کھو جانے کے بعد میدان سیاست میں تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں ان کی تمام پالیسیاں اور بیانیے نہ صرف ناکام نظر آ رہے ہیں بلکہ ان کی تمام پالیسیاں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں وہ نہ صرف اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں بلکہ وہ کرپشن و فراڈ کے الزامات کے تحت تیزی سے سزاؤں کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں اس لئے وہ ساری بساط سیاست کو ہی لپیٹنے اوراتحادی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے ”خودکش“ حملہ آور کا روپ دھار چکے ہیں۔ سیاسی انتشار و افتراق کو بڑھانا اور بڑھاتے ہی چلے جانا ان کی پالیسی تو ہے ہی وہ تو ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے حوالے کرنے کی بھی شعوری کاوشیں کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام تو پہلے ہی ملک کو انتشار کی طرف لے جا رہا ہے عمران خان بڑے شدومد کے ساتھ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں وہ اپنے آپ کو ہی ملک اور اپنے آپ کو ہی پارلیمان سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے دور حکمرانی میں اپوزیشن کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ اپوزیشن لیڈر کو برے برے ناموں سے پکارتے رہے ان سے ہاتھ ملانے سے بھی انکاری رہے۔ اب جبکہ 14 جماعتی اتحاد کی حکومت قائم ہے اور شہباز شریف اس کے سربراہ ہیں جو پہلے اپوزیشن لیڈر تھے تو عمران خان اس حکومت کو بھی نہیں مانتے۔ لیکن وہ اسی حکومت کو فوری الیکشن کرانے کے لئے مجبور بھی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس سے بھی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس آئینی ادارے نے الیکشن کا انعقاد کرانا ہے اس کے سربراہ کے بھی عمران خان لتے لیتے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن انہی کا منتخب کردہ ہے وہی انہیں ڈھونڈ کر لائے تھے اور اپنی دریافت پر دن رات تعریفوں کے پل باندھتے تھے لیکن اب وہ اس کے خلاف ہو چکے ہیں چیف الیکشن کمیشن کو ن لیگی ایجنٹ قرار دیتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان کا حکومت سے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے جس حکومت کو وہ امپورٹڈ کہتے ہیں، جس کے سربراہ کو چور اور لٹیرا قرار دیتے ہیں اس سے الیکشن کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے پھر جس آئینی ادارے نے الیکشن کرانے ہیں اس پر دشنام طرازی کرتے ہیں ایسے میں عمران خان کے الیکشن کرانے کے مطالبے کو انتشار اور افتراق کی سوچی سمجھی پالیسی نہیں تو اور کیا سمجھا جائے۔
آج بروز ہفتہ17 دسمبر 2022 وہ دو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تاریخ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں اس بارے میں بھی ابھی کوئی حتمی رائے نہیں ہے کہ وہ ایسا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اب تک ان کی پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ ہر وہ بات کرتے ہیں جس سے سیاسی بے چینی پھیلے، معاشی ابتری میں اضافہ ہو آج بھی وہ کچھ ایسا ہی کرنے کا اعلان کریں گے جس سے پاکستان کے بارے میں پایا جانے والا منفی تاثر اور بھی گہرا ہو سیاسی بے چینی بڑھے، معیشت پر اور بھی منفی اثرات مرتب ہوں، حکومت کی ناکامی میں اضافہ ہو، پاکستان ڈیفالٹ کی طرف بڑھے اور بس ایسا ہی ہوتا رہے۔ میں نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں۔

تبصرے بند ہیں.