!سانحہئ سقوط مشرقی پاکستان

16

ہرسال دسمبرکے آتے ہی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کے دولخت ہونے کا غم تازہ ہوجاتا ہے۔یہ ایسا درد ہے جو شاید کبھی ختم نہیں ہوسکے گا،اگرچہ 75سال بعد بھی پاکستان اپنے بنیادی مقصد اسلامی نظام کے نفاذ سے محروم ہے،مگر قوم کے اندر اس نظام کے نفاذ کی تڑپ اب بھی موجود ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد50ء ہی میں پاکستان کو ڈی ٹریک کردیا گیا تھا۔ملک میں نظریہ کی بالا دستی کا خواب چکنا چور کردیا گیا۔بعد میں آنے والوں نے غلامانہ ذہنیت کے تحت فیصلے کئے۔56ء تک تو وزراء تاج برطانیہ سے وفاداری کا باقاعدہ حلف اٹھاتے رہے۔اس کے بعد امریکی غلامی کا دم بھرنے لگے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم،اقربا پروری،سب کچھ سمیٹ لینے کی ہوس اورآئین و قانون کو ذاتی مفاد اور خواہشات کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے والوں نے ایسے ایسے گل کھلائے تاریخ دم بخود رہ گئی۔پاکستان کوتوڑنے اور مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں اپنوں کے علاوہ بین الاقوامی سازشوں کا بھی بڑا کردار ہے۔انڈین قیادت نے پہلے دن سے ہی طے کرلیا تھا کہ نظریہ توحید کی بنیاد پر بننے والے ملک کو دو لخت کیا جائے۔جس کیلئے انہوں نے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو توڑنا ممکن ہو۔اسی طرح مغربی سامراج کے کئی ممالک نے مل کر اس سازش کو کامیاب کیا۔
انڈیا بھی ہمارے ساتھ ہی برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تھا مگر وہاں ایک دن کیلئے بھی مارشل لاء نہیں لگاجبکہ ہمارے ہاں پہلے مرحلہ میں جنرل ایوب خان 1953 سے 1958 تک سویلین حکومت میں وزیر دفاع اور وزیر داخلہ رہے اور صدر اسکندر مرزا کے 1958 میں وزیر اعظم فیروز خان کی انتظامیہ کے خلاف مارشل لا لگانے کے فیصلے کی حمایت کی۔قائد اعظم ؒ کے تمام فرمودات کو پس پشت ڈالتے ہوئے فوج کو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کا موقع دیا گیا۔56ء کے آئین پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ایوب خان کے طویل مارشل لا ء نے قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا اور باہمی اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کردیا۔ہر طرف نسلی و لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو ابھارا گیا،صوبائیت کی نفرتوں کو پروان چڑھایا گیا اور قوم نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیکر جس ملک کو حاصل کیا تھا اس میں مقتدر اشرافیہ نے اپنا اپنا الوسیدھا کرنے کے مواقع تلاش کرنا شروع کردیئے۔
جب ہر طرف نفرتوں کی آگ بھڑک اٹھی تو تعصبات کی سرانڈکو چھپانے کیلئے خوبصورت قالین بچھایا گیا خاص طور پر مشرقی پاکستان کے لوگوں کے حقوق دبایا گیا۔بنگلا زبان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور آدھی آبادی کی مادری زبان کو بے وقعت کردیا گیا،ایک بہت بڑے علاقہ پر مغربی پاکستان کی زبان کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔جس کی وجہ سے زبان کی بنیاد پر بھی فسادات شروع ہوگئے۔حکومت پاکستان جو پہلے ہی میوزیکل چیئر بنی ہوئی تھی،ایوب خان کے مارشل لا نے رہی سہی کسرپوری کر دی۔
مادر ملت فاطمہ جناح ؒ کے انتخابات میں مشرقی پاکستان کے سیاستدان اور عوام بڑے جوش و جذبہ سے حصہ لے رہے تھے،وہ بجاطور پر فاطمہ جناح کو قائد اعظم ؒ کی بہن اوربڑی سیاسی رہنما سمجھتے ہوئے ایوب خان پر ترجیح دیتے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن فاطمہ جناح ؒ کی انتخابی مہم کے انچارج تھے۔مشرقی
پاکستان کے عوام نے فاطمہ جناح کی زبر دست پذیرائی کی۔لیکن دھونس اور دھاندلی کے ذریعہ فاطمہ جناح کو نا صرف ہرایا گیا بلکہ ان کی اہانت کے لئے اخلاق باختہ مہم چلائی گئی۔بنگالیوں کے بارے میں یہاں تک کہا گیا کہ ان کا قد چھوٹا ہے جس کی وجہ سے انہیں فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔وفاقی سیکریٹریوں میں مشرقی پاکستان کے چند لوگ ہوتے تھے،ان کا بھی مذاق اڑایا جاتا تھا۔ یہی وہ تضحیک آمیز اور انسانیت سوز رویہ تھا جس نے مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں نفرتوں کا بیج بویا۔مسلسل محرومیوں کے نتیجہ میں اندر ہی اندر پکنے والا لاوہ بالآخر پھٹ پڑا۔اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں نے اپنا گھناؤنا کھیل کھیلا اورکلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداد اددو حصوں میں بٹ گئی۔
اب باقی ماندہ پاکستان کو متحد رکھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو دل و جان سے تسلیم کرلیا جائے۔پس ماندہ علاقوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو۔بلوچستان جو معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے اسے غربت،بے روزگاری احساس کمتری کا شکار کردیا گیا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ جیسے شہر میں بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور نہ انہیں بجلی اور گیس مل رہی ہے۔اندرون سندھ کے لوگ طویل عرصہ سے ایک پارٹی کے رحم و کرم پر ہیں جس نے ان سے ترقی،خوشحالی اور خوشی چھین لی ہے،بدترین غربت نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔طاقت ور اشرافیہ،جاگیر دار اور وڈیر ے لوگوں کے جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لینے پر تلے ہوئے ہیں۔وی آئی پی کلاس مزے اڑا رہی ہے،انہی کے لاڈلوں اور شہزادوں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور پھر اعلیٰ مناسب ہیں،ہزاروں مربع زمین پر قابض یہ ظالم و جابر وڈیرے عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ مسائل کا ایک انبار ہے جو حکمرانوں نے عوام کی گردنوں پر لاد دیا ہے۔
عام مشاہدہ یہی ہے کہ جہاں کا وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بنتا ہے وسائل کا دریا اسی علاقے میں بہنا شروع کردیتا ہے۔ سارے وسائل اسی علاقہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جھونک دیئے جاتے ہیں،سرکاری ادارے اور محکمے ادھر کا رخ کرلیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں موٹر ویز،ذیلی سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا دیا جاتا ہے جبکہ اسی علاقے سیکڑوں قصبے اور دیہات بے بسی اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔جب ملتان کا وزیر اعظم بنتا ہے تو ملتان،گوجر خان کا بنتا ہے تو گوجر خان اور لاہور کا بنتا ہے تو لاہور مرکز نگاہ ٹھہرتا ہے اور پورے ملک اور صوبے کے وسائل ان شہروں کی ترقی پر خرچ ہونے لگتے ہیں۔اب پنجاب کے وسائل دھڑا دھڑ گجرات پر خرچ ہورہے ہیں،بلینز روپے کا ایک سمندر ہے جو گجرات کی طرف بہہ نکلا ہے۔عام آدمی اقتدار کے ایوانوں کے دروازوں میں جھانک بھی نہیں سکتا۔ یہی وہ ناانصافیاں ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں نفرت کی آگ پھیل رہی ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مشرقی پاکستان کے لوگوں نے قیام پاکستان کے لئے ہم سے زیادہ قربانیاں دیں اور زیادہ جوش و جذبہ سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا،خود شیخ مجیب تحریک پاکستان کا پر جوش سپاہی تھا۔لیکن مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے انہیں کبھی برابر کے شہری کا درجہ نہیں دیا۔70ء کے انتخابات میں شیخمجیب الرحمن نے 160سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی نے81 سیٹیں حاصل کیں مگر شیخ مجیب الرحمن کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا گیا۔اگر اسے پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا جاتا جو اس کا حق تھا تووہ پاگل نہیں تھا کہ محض ایک حصہ کا وزیر اعظم بننا پسند کرتا،اگر جمہوریت کی بات ہوتی تو سب لوگ اسے تسلیم کرتے مگر یہ تو کھلم و کھلا آمریت تھی۔جبر و اکراہ کا یہ عالم تھا کہ کامیابی کے بعدشیخ مجیب کو مغربی پاکستان کی جیل میں ڈال دیا گیا۔جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ایسی آگ بھڑکی جس نے سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا۔بدقسمتی سے اس وقت صدر پاکستان جنرل یحییٰ ٰ خان اور فیلڈ مارشل ایوب خان تھے۔
حالات نے ایک بار نہیں بار بار ثابت کیا ہے کہ جب تک،”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“جو ایک نظریے کا نام بھی ہے اور نظام کا بھی،وہ عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاتا،جس طرح آئین کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی حکومت جس میں عوام قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔وہ نہ ہو تو پاکستان مستحکم نہیں ہوسکتا۔آئین کی دفعہ 2 میں واضح لکھا ہے کہ ملک کا قانون قرآن و سنت کے مطابق ہوگا جس میں ہر کوئی اسلام کے بنیادی اصولوں اور قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے گا۔ ہم ایک نظریے کی بنیاد پر ہی ایک ناقابل تسخیر قوم بن سکتے ہیں۔یہ اللہ کا احسان ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی شبانہ روز محنت کی بدولت پاکستان ایٹمی پاور تو بن گیا۔مگر ایک ایٹم سے بھی زیادہ طاقتور قومی نظریہ ہوتا ہے۔جو قوموں کو عروج پر پہنچاتا ہے۔اب ہماری صلاحیتوں اور اہلیت کا امتحان ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کیلئے کیسے ایک کلین،گرین،مضبوط اورخوشحال اسلامی پاکستان بناتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.