حالات کا جبر یا نوشتہ دیوار سے بچنے کی پیش بندی۔۔۔

37

اسے حالات کی ستم ظریفی کا نام دیا جائے یا جیسے کرنی ویسے بھرنی کا احساس سمجھا جائے یا عنقریب سامنے آنے والے نوشتہ دیوار سے بچنے کی پیش بندی سمجھا جائے، جو بھی سمجھا جائے، جو بھی کہا جائے یا ان میں سے جو بھی نام دیا جائے، بڑی حد تک درست ہوگاکہ تحریک انصاف کے قائد اور سابق وزیر اعظم جناب عمران خان کے عسکری قیادت کے بارے میں لب و لہجے، اندازِ گفتگو اور تخاطب کے لیے الفاظ کے چناؤ میں بڑی حد تک تبدیلی آچکی ہے۔ اگلے دن لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران جناب عمران خان نے آرمی چیف کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اور جس لب و لہجے اور لجاجت بھرے انداز میں گفتگو کی ہے کیا اس کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہی کپتان عمران خان ہیں کہ جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ مقتدر ریاستی اداروں کی اعلیٰ قیادت کو ایسے ہتک آمیز ناموں، القابات اور خطابات سے پکارنا شروع کر دیا جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اعلیٰ ترین عسکری قیادت کو تنقید اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے ساری حدیں ہی پھلانگ لی گئیں۔ کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ فوج میں منافرت کے بیج بونے کے ساتھ فوج کے سپہ سالار کو بزدل اور غدار قرار دینے کے لیے میر صادق اور میر جعفر جیسے رسوائے زمانہ غداروں سے تشبیہ دی جائے گی تو نیوٹرل جانور ہوتے ہیں جیسے جملے کہہ کر آرمی چیف کے انتہائی باوقار اور باعث تکریم منصب پر فائز شخص اور ان کے ساتھیوں کی مزید توہین اور تضحیک کی جائے گی۔ چشم فلک نے ہی یہ سب کچھ ہوتے نہیں دیکھا بلکہ اہل وطن کی سماعتوں سے یہ توہین اور تضحیک آمیز الفاظ بھی ٹکراتے رہے ہیں۔ یقینا یہ سب کچھ ہوا ہی نہیں بلکہ گزشتہ سات، آٹھ ماہ کے دوران پورے زور شور اور گھن گرج کے ساتھ جاری رہا ہے۔ اس سیاق و سباق میں جناب عمران خان نے اگلے دن لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران نئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے بارے میں بدلے لب و لہجے میں ارشاد فرمایا ہے کہ نیا آرمی چیف آیا ہے، اس کو وقت دینا چاہیے۔ ان کی بہت تعریفیں سنی ہیں۔ حافظ قرآن ہیں۔ اُمید رکھتا ہوں امر بالمعروف پر چلیں گے۔ ہم تو ان سے اُمید لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں فوج تب مضبوط ہوتی ہے جب قوم اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے وغیرہ۔
نئے آرمی چیف کے بارے میں جناب عمران خان کے یہ خیالات یقینا اُمید افزا اور خوش آئند ہیں لیکن کیا اسے جناب عمران خان کے رویے میں ایک مثبت تبدیلی سمجھا جا سکتا ہے؟ ایسا سمجھنا شاید آسان نہ ہو۔ اس لیے کہ یہ وہی فوج ہے، وہی فوجی قیادت ہے، وہی فوجی جرنیل ہیں جن کے بارے میں جناب عمران خان یہاں تک کہتے رہے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری ایسا آرمی چیف لگائیں گے جو ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔ یہ کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف نہیں لگانا چاہیں گے جو ان کی کرپشن اور بدعنوانیوں کو روک سکے۔ گویا عمران خان کے نزدیک پانچ، چھ تھری سٹار سینئر جنرلز جن میں سید عاصم منیر بھی شامل تھے اور جن میں سے کسی ایک نے آرمی چیف اور کسی دوسرے نے چیئرمین جوائنٹ سٹاف آف کمیٹی کے مناصب سنبھالنے تھے، ان میں ایسے جنرل بھی تھے جو تگڑے تھے نہ ہی محب وطن۔ مگر اب ان ہی میں سے ہی ایک جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئرمین جوائنٹ سٹاف آف کمیٹی کا منصب سنبھال چکے ہیں اور دوسرے جنر ل سید عاصم منیر آرمی چیف کے اعلیٰ اختیاراتی اور طاقتور ترین منصب پر فائز ہو چکے ہیں تو ا سے حالات کا جبر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ جناب عمران خان جنرل عاصم منیر کی تعریف و تحسین ہی نہیں کرنے لگے ہیں بلکہ ان سے بہت سی اُمیدیں بھی وابستہ کر لی ہیں۔
جناب عمران خان جنرل عاصم منیر کے بارے میں یہ کہتے ہوئے کہ ان کی بہت تعریفیں سنی ہیں شاید یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں بذات خود کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ حالانکہ یہ کھلا راز ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر وہی شخصیت ہیں جن کو جناب عمران خان نے بطور وزیر اعظم ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے نو ماہ کے مختصر عرصے کے بعد ہی ہٹا دیا تھا۔ جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ کہہ کر اس تبدیلی کی مخالفت کی تھی کہ جنرل عاصم منیر اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک انتہائی دیانت دار اور قابل افسر ہیں۔ مگر عمران خان کب کسی کی سنتے تھے خاص طور پر ان حالات میں جب بطور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر نے کچھ ایسی بدعنوانیوں یا خرابیوں کی نشاندہی کی تھی جن کے ڈانڈے وزیر اعظم کے حرم یعنی ان کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی المعروف بہ پنکی پیرنی یا ”مرشد“ سے جڑتے تھے۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم جناب عمران خان اپنے چہیتے جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر بٹھانا بھی چاہتے تھے۔ جنرل فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں کا اس حد تک تارا بنے رہے کہ ستمبر / اکتوبر 2021 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں (جنرل فیض حمید) کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کمانڈر پشاور کور مقرر کرنا چاہا جو کہ جنرل فیض حمید کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور آئندہ کی ترقی (اگر ہو) کے لیے ایک لازمی تقاضا تھا جو عمران خان نے جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے سے اگر مکمل انکار نہیں کیا تو لیت و لعل سے کام لینا شروع کر دیایہاں تک کہ جنرل باجوہ کو وزیر اعظم کے سیکرٹری اعظم خان کے ذریعے وزیر اعظم تک یہ پیغام پہنچانا پڑا کہ اگر ان کے جنرل فیض حمید کے ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا کر کمانڈر پشاور کور مقرر کرنے کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو وہ (جنرل باجوہ) چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر کام کرنا چھوڑ دیں گے۔ بات سے بات نکل رہی ہے ورنہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب عمران خان اگر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی بڑی تعریفیں سنی ہیں تو شاید یہ درست نہیں ہے کہ جناب عمران خان جنرل عاصم منیر کی تعریفوں یا ان کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں سے بڑی حد تک پہلے سے ہی آگاہ چلے آرہے ہیں۔ یہ کھلا راز ہے کہ جنرل باجوہ کی 29نومبر کو بطور آرمی چیف ریٹائر منٹ پر نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے جو کھچڑی پکتی رہی اور اس عہدے کے لیے جن تھری سٹار جرنیلوں کے نام سامنے آتے رہے۔ جنرل سید عاصم منیر وہ شخصیت تھے جن کے نام پر جناب عمران خان کو غالباً سب سے زیادہ اعتراض تھا، یہاں تک کہ جناب عمران خان جنرل باجوہ کو بطور آرمی چیف چھ ماہ کی توسیع دینے پر تیار ہو گئے تھے تاکہ اس دوران لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر 27نومبر کو ریٹائر ہو کر گھر چلے جائیں اور ان کا نام آرمی چیف کے متوقع اُمیدواروں میں شامل نہ ہوسکے۔ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فارمولے پر عمل نہ ہو سکا تو پھر یہ کوشش بھی کی گئی کہ جی ایچ کیو کی طرف سے آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ سٹاف کمیٹی کے عہدوں پر تقرری کے لیے جن پانچ یا چھ سینئر تھری سٹار جنرلز کے ناموں پر مشتمل سمری بھیجی جائے اس میں جنرل عاصم منیر کا نام اس بنا پر شامل کرنے سے روکا جائے کہ وہ جنرل باجوہ کی 29نومبر کوبطور آرمی چیف ریٹائرمنٹ سے دو دن قبل 27 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔
قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ سارے حربے اور منفی فارمولے اکارت گئے اور جنر ل سید عاصم منیر اپنے نیک نام ماں باپ کی دعاؤں سے بفضل تعالیٰ آرمی چیف کے منصب ِ جلیلہ پر فائز ہیں اور جناب عمران خان جو شاید ان کا نام بھی سننا نہیں چاہتے تھے اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ان (جنرل سید عاصم منیر) کی تعریفیں سنی ہیں وہ حافظ قرآن ہیں، ہمیں انہیں وقت دینا چاہیے۔ اللہ کرے جناب عمران خان نے یہ جو کچھ کہا ہے یہ ان کی مثبت سوچ کا مظہر ثابت ہو اور آئندہ ملک کے حالات صحیح ڈگر پر چل سکیں۔

تبصرے بند ہیں.