پولٹری انڈسٹری…… تباہی کے دہانے پر!

21

پھلیوں کی ایک قسم سویابین جسے سوئے بین بھی کہا جاتا ہے، افادیت کے سبب دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر کاشت کی جانے والی فصل ہے۔ انسانی صحت کے لیے مفید غذاؤں کی بات کی جائے تو اب تک جمع شدہ حقائق کے مطابق ماہرین سویابین کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔غذائی ماہرین کے مطابق سویابین پر مبنی خوراک کے استعمال کے نتیجے میں صحت سے جڑے مسائل بالخصوص امراض قلب کا حل اور علاج ممکن ہوتا ہے۔سویا بین کو پروٹین کا سب سے اہم اور خاص ذریعہ مانا جاتا ہے، جسم میں پروٹین کی کافی مقدار میٹابولزم کی کارکردگی بہتر بنانے اور مجموعی طور پر جسمانی نظام کی بہتری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پروٹین انسانی جسم کے لیے ایک بہترین جزو ہے، جو جسمانی وزن میں کمی، مسلز اور خون کے خلیات کو بنانے اور ان کی مرمت کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ ریسرچر ڈین پریٹ کا کہنا ہے کہ سویا بین میں اعلی سطح کے اینٹی آکسیڈنٹ شامل ہوتے ہیں اور اس میں فائبر کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ انسانی جسم میں کینسر کے خطرات کم دیتی ہے اور دل کی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔
سویا بین اور کنولہ پولٹری فیڈ کا اہم ترین حصہ ہیں۔ سویا بین کا اس وقت متبادل نہیں اور اس کی عدم موجودگی میں پولٹری فیڈ تیار نہیں ہو سکتی۔ بن قاسم بندرگاہ سے سویا بین اور کنولہ اگر فوری ریلیز نہ کی گئی تو پولٹری انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پولٹری انڈسٹری کا پہیہ رک جائے گا اور پاکستان کے عوام چکن اور انڈوں کی شکل میں سستی پروٹین سے محروم ہو جائیں گے۔ مزید دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔
گزشتہ دنوں چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن چوہدری محمد اشرف نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میاں جان محمد جاوید‘ ڈاکٹر حسن سروش اکرم اور دیگر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بھی چند گزارشات کیں جو قابل توجہ ہیں۔ بن قاسم بندرگاہ پر موجود سویا بین کے جہازوں کو فوری ریلیز نہ کیا گیا تو پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اگر خدانخواستہ سپلائی چین میں ایک بار تعطل آگیا تو اس کی بحالی میں نہ صرف کثیر سرمایہ درکار ہوگا بلکہ ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ بھی لگے گا۔ اگر سویا بین فوری ریلیز نہ کی گئی تو پولٹری انڈسٹری سے جڑے لاکھوں خاندان احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ پولٹری پراڈکٹس سپلائی چین سائیکل ایک طویل المدتی پراجیکٹ ہے‘ برائلر بریڈنگ آپریشن گرینڈ پیرنٹ فلاکس سے شروع ہوتا ہے اور پیرنٹ فلاکس کے نتیجے میں برائلر چوزے کی پلیسمنٹ سے ہو کر برائلر مرغی کی تیاری تک تقریباً 16 ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ سائیکل ٹوٹ جائے تو پیداوار کو دوبارہ اس سطح تک پہنچانے کے لئے خطیر رقم اور وقت درکار ہوتا ہے۔ لیئر فلاکس جن سے انڈے حاصل ہوتے ہیں ان کے سائیکل کو بحال کرنے کے لئے بھی خطیر رقم کے علاوہ 5 سے 6 ماہ درکار ہوتے ہیں۔ ماضی قریب میں جو پولٹری انڈسٹری پر اضافی ٹیکس لگایا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔ مزید زرعی فارمرز کی طرح پولٹری فارمرز کو بھی بجلی کمرشل اور مہنگے نرخوں کے برعکس رعایتی قیمت پر مہیا کی جائے جو کہ منسٹری آف کامرس کے بھی نوٹس میں لائی جا چکی ہیں۔
سویابین ریلیز نہ ہونے سے فیڈ کی پیداوار رک جائے گی جس سے مکئی کی کھپت بھی نہیں ہو سکے گی اور اس سے زرعی فارمرز بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوں گے۔ سویا بین کی عدم دستیابی سے لائیو سٹاک فیڈ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بھی متاثر ہوگی اور ان کی قیمتوں میں انتہا کی حد تک اضافہ ہو جائے گا۔
سویابین اس وقت ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے ہم پولٹری انڈسٹری کو چلانے کے لئے بیرون ملک سے سویابین میل درآمد کر رہے ہیں جس پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ سویابین کی امپورٹ اگر کسی وجہ سے بند ہو جائے تو ہماری پولٹری انڈسٹری ڈوب جائے گی کیونکہ اس کے بغیر اب پولٹری فیڈ بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہم پولٹری فیڈ میں تقریباً 30 فیصد تک سویابین میل استعمال کرتے ہیں۔ ڈیری اور مچھلیوں کی خوراک میں بھی سویابین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ابھی سویابین میل اور سویابین کے بیجوں کی درآمد پر حکومت نے 17 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی ہے جس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں برآمد ہو گا جو کہ پولٹری کی صنعت کے لئے ٹھیک نہیں ہو گا جو پہلے ہی مختلف مشکلات کا شکار ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ مختلف ڈیوٹیوں کو نافذ کرتے وقت کم از کم قومی معاملات کا جائزہ ضرور لے کہ ان کے دورس نتائج کیا مرتب ہوں گے۔
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری اس وقت حیواناتی لحمیات (مرغی کے گوشت اور انڈے)فراہم کرنے کا سب سے سستا ترین ذریعہ ہے اور پولٹری انڈسٹری میں سویابین کا استعمال ایک اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے اگر خدانخواستہ آنے والے دور میں معاشی جنگ خطرناک صورت حال اختیار کر گئی اور ہمیں مختلف اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور سویابین درآمد رک گئی تو پھر پولٹری انڈسٹری کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ پولٹری انڈسٹری کا پہیہ جام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسانوں کا بھی گلہ گھونٹ دیا جائے گا جو پولٹری انڈسٹری کو مکئی کی صورت میں اہم غذائی جنس فراہم کر رہے ہیں جس کے بغیر پولٹری فیڈ تیار ہی نہیں کی جا سکتی۔پولٹری انڈسٹری نے مکئی کی پیداوار میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور کسانوں کو اس سے اپنی معیشت حالت درست کرنے کا موقع ملا۔ اگر پولٹری انڈسٹری بند ہوتی ہے تو پھر مکئی کی خرید کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور نہ ہی ہمارے پاس مکئی کو استعمال کرنے کے لئے دیگر ذرائع موجود ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سویابین کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر سویابین کی پیداوار میں اضافے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔

تبصرے بند ہیں.