تعاقب اور جان کو خطرات کا معاملہ، مراد سعید کا صدر مملکت کو اہم اور مفصل خط

11

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما مراد سعید نے تعاقب کئے جانے اور جان کو لاحق خطرات پر کاروائی کیلئے صدر مملکت کو تفصیلات پر مبنی اہم ترین خط بھجوا دیا ہے اور ان سے مذکورہ معاملے پر نوٹس اور ضروری ایکشن لینے کی استدعا کی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کے بعد نامعلوم افراد کی جانب سے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما مراد سعید کے تعاقب اور ان کی جان کو لاحق خطرات پر کاروائی کے معاملے پر مراد سعید نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو تفصیلات پر مبنی اہم ترین خط بھجوا دیا جس میں مشکوک افراد کی جانب سے تعاقب، انہیں دی جانے والی دھمکیوں اور ان کی سلامتی کو لاحق خطرات کی تفصیلات درج ہیں۔
مراد سعید کا کہنا ہے کہ میرا ایمان ہے زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میرا اللہ پر بھروسہ اور کامل ایمان ہے وہی کن فی فیکون ذات ہے۔ میں موت سے ڈرتا نہیں اور حق بات کہتا رہوں گا۔صدر مملکت سے معاملے پر نوٹس اور ضروری ایکشن لینے کی استدعا کی۔12 جولائی کو ارشد شریف نے بھی آپ کو خط لکھا لیکن کسی نے نوٹس لیا اور نہ ہی ارشد شریف کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا جس کے باعث پاکستان ایک وفادار اور محب وطن شہری اور قابل ترین تحقیقاتی صحافی سے محروم ہوا۔ 
انہوں نے کہا کہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے میرے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے، جولائی میں ملاکنڈ میں بدامنی نے سر اٹھانا شروع کیا،تو میں نے بروقت اس کے اسباب و وجوہ کی نشاندہی کی۔ میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامیوں پر تنقید کی اور سوالات اٹھائے، اس کے بعد میرے خاندان کو ڈرانے دھمکانے کے سلسلے کا آغاز ہوا۔
مراد سعید نے بتایا کہ مجھے فیملی کو کہیں اور منتقل کرنے کا کہا گیا لیکن اللہ پر ایمان اور اپنی مٹی سے محبت کی وجہ سے آج تک ایسا نہیں کیا اور واضح پیغام دیا کہ ہمارا جینا مرنا اس مٹی میں ہے۔اگست سے اب تک مجھے جان سے مارنے کی کئی دفعہ منصوبہ بندی کی گئی، مجھے اس سے نہ صرف مقامی پولیس نے آگاہ کیا بلکہ دیر، باجوڑ کے دورے کینسل کرنے کا بھی کہا گیا۔مالاکنڈ میں جب لوگوں کو امن کیلئے آگہی مہم چلا رہا تھا تب بھی مشکوک افراد میرے تعاقب میں رہے لیکن اللہ نے حفاظت کی۔ 18 اگست کی رات کو 2 بجے سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلحہ افراد میری عدم موجودگی میں میرے گھر آئے۔
پی ٹی آئی رہنماءکا کہنا تھا کہ مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا کہ ان کا تعلق قانون نافذ کرنے والے کس ادارے سے تھا یا یہ کوئی جرائم پیشہ لوگ تھے۔میں نے مدد کیلئے دوستوں کو بلوایا جن کے آنے پر وہ مسلح افراد فرار ہو گئے، مراد سعید نے کہا کہ یہ مسلح افراد ریڈ زون کی جانب فرار ہوئے جہاں پولیس چیک پوسٹ ہے،انہیں گزرنے کی اجازت دی گئی، نے مقدمے کے اندراج کی درخواست دی مگر کوئی مقدمہ درج نہ کیا گیابلکہ پولیس نے ڈائری نمبر کے اجراءہی سے انکار نہیں کیا بلکہ درخواست واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔انکا جواب سادہ سا تھا کہ اوپر سے احکامات ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔میں نے ریڈزون کے کیمروں کی ریکارڈنگ تک رسائی کی بھی درخواست کی جو منظور نہ کی گئی۔مجھے حکام کی جانب سے بار بار بتایا گیا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔پوری ریاستی مشینری ان عناصر کی معاونت کرتی دکھائی دے رہی ہے جو میری جان کے درپے ہیں۔
 مراد سعید نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جناب صدر آپ سربراہ ریاست اور افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، امید کرتا ہوں کہ ریاستی اداروں اور محکموں کی جانب سے ارشد شریف کے خط کے حوالے سے برتی گئی غفلت کو نہیں دہرایا جائے گا، جس ملک میں سابق وزیراعظم اور مقبول ترین لیڈر پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر تک درج نہ سکے، وہاں انصاف کی امید مشکل لیکن درپیش خطرات پر ریکارڈ پر لانا ضروری ہے۔مجھے اتنا بتایا جائے کہ یہ کون لوگ ہے؟ اگر یہ جرائم پیشہ لوگ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ریاستی مشینری کی پشت پناہی انہیں کیوں اور کیسے حاصل ہے؟ انشاءاللہ اسی عزم سے اپنے علاقوں کے امن کے قیام ملکی خودمختاری اور عوام کی ترجمانی کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔

تبصرے بند ہیں.