انسانی حقوق اور مقبوضہ کشمیر

6

انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے بات کی جائے تومقبوضہ کشمیرکے عوام اس میں سرفہرست ہیں جہاں گزشتہ 75سالوں میں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق صرف پامال ہی نہیں کیے بلکہ نت نئے مظالم کی وہ تاریخ رقم کی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی مگراقوام متحدہ کا انسانی حقوق کایہ عالمی دن کشمیریوں کےلئے ان مظالم سے نجات کاپیغام نہیں لاسکا ۔ بلکہ جموںوکشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے5 اگست2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے ماورائے قتل ، جبری گرفتاریوں، املاک کی تباہی اور انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوںمیں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو تین برس سے زائدعرصہ ہوچکاہے اگران تین برسوں کے بھارتی مظالم کاجائزہ لیاجائے تواقوام متحدہ کوبیدارکرنے کے لیے کافی ہیں مگراقوام متحدہ اورانسانی حقوق کے دیگرادارے خاموشی کی چادرتان کرسوئے ہوئے ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 662کشمیریوںکو شہید کیا۔جس میںکل جماعتی حریت کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی سمیت درجنوں کشمیری رہنماءشامل ہیں ۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پر امن مظاہرین پر فائرنگ ، پیلٹ گنزاور آنسو گیس کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے 2 ہزار 278 کشمیری شدید زخمی ہو ئے۔ 05اگست 2019کے بعد سے شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 2011 ، 2012، 2013، 2014اور2015 میں ہونے والی شہادتوں سے کئی زیادہ ہے۔مودی کی فسطائی حکومت نے کشمیریوںکودبانے کے لیے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالاقانون اورنوجوانوں کی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق یو اے پی ے لاگو کیا ۔جس کی آڑمیںپورے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی پر تشدد کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران پے درپے وحشیانہ تشدد کے ذریعے نوجوانوں کوشہید کیا جارہاہے ۔ اگست2019کے بعد سے ان شہادتوں کے نتیجے میں 38خواتین بیوہ جبکہ 91بچے یتیم ہو ئے ہیں ۔ فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 1 ہزار 93 مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ کیں، 115 خواتین کی عصمت درری کی اور پورے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران معمر خواتین اور چھ کے قریب لڑکیوں سمیت 17 ہزار 993کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5اگست 2019 کوبھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35Aکی منسوخی کے بعد سے خاص طورپر کشمیریوں کی زندگی جہنم بن چکی ہے ۔ان مذموم اقدمات کا اصل مقصد مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے کشمیریوں سے انکی شناخت چھیننا ہے ۔ اس وقت پورے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ حریت رہنماﺅں ، کارکنوں ، مذہبی اور سیاسی رہنماﺅں ، تاجروں ، سول سوسائٹی کے ارکان سمیت ہزاروں کشمیری اس وقت مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں جنہیں 5اگست 2019کے بعد گرفتار کیاگیا تھا ۔
یہ توتین سالہ مظالم کی ہلکی سی جھلک ہے اگر 1990سے اب تک بھارتی مظالم کاجائزہ لیاجائے تو مجموعی طورپر96 ہزارکشمیری شہید 22 ہزار کشمیری زخمی11 ہزار خواتین کی عصمت دری ، ایک لاکھ بچے یتیم،ایک لاکھ سے زیادہ مکانات اور انفراسٹرکچر تباہ 8 ہزار اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں ,2014 سے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کر کے 120 کشمیری شہید، ,15ہزار شدید زخمی ہوگے۔ 2014 سے حراست میں تشدد سے اب تک 30 ہزار سے زائد افراد کو بدترین قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تشدد کی تکنیکوں میں واٹر بورڈنگ، جبری فاقہ کشی، نیند کی کمی اور لاشوں کو جلانا شامل ہے۔
مقبوضہ علاقے میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ریفرنڈم کے نتائج کو تبدیل کرنے کے مقصد سے کشمیریوں کو ان کے آبائی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 3.5 ملین سے زائد جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔بھارت کی مودی حکومت کشمیرکے حوالے سے "اسرائیلی ماڈل” پرعمل پیراہے، کشمیریوں کوبے گھرکرکے وہاں اپنا غیر قانونی تسلط مضبوط کرنے کے لئے کالونیاںبنارہاہے ۔ 1991سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کے تحت 9 لاکھ ہندوستانی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ اس خطے پر تسلط جمائے رکھے۔آج، فوجی اور شہری تناسب 1:8 ہے جو مقبوضہ کشمیر کو دنیا کے سب سے زیادہ عسکری خطوں میں سے ایک بناتا ہے۔ آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان بنے ہوئے ہیں ، آج کشمیر کے ہر گھرسے آزادی کی آواز بلند ہورہی ہے ۔ کشمیری سوشل میڈیاکے اس دورمیں اپنی مددآپ کے تحت اپنی آوازعالمی برداری تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔مقبوضہ کشمیرمیں آزادی صحافت کو مسلسل خطرہ لاحق ہے اور صحافیوں کو نظربند اور حراساں کیا جا رہا ہے ۔ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں متعارف کرائی گئی نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں میڈیا پر مزید شدید قدغنیںعائد کر دی گئی ہیں۔انسانی حقوق کی پامالی کا عالم یہ ہے کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں متعددمرتبہ جبکہ جموں خطہ کے کشتواڑ اور بدھرواہ علاقوں میں کئی بار نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الہی کا طواف کر رہی ہیں۔

 

تبصرے بند ہیں.