کہاں سے آئی ہے لوگو! ۔۔۔۔۔۔بتاؤ رسم جہیز

20

ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا
کتنی نامراد ہے یہ بدرسم جہیز بھی
روئے زمین پر سب سے مقدس رشتہ والدین اور اولاد کا ہوتا ہے رب العالمین نے جہاں بیٹے کو نعمت بنایا ہے وہیں بیٹی کو رحمت بناکر بھیجا ہے۔ ہمارے مسلم معاشرے میں آج بھی کچھ روایات اور دقیانوسی رواج برقرار ہیں ، جن کی وجہ سے ہماری بیٹیاں بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔آج ہمارا معاشرہ طرح طرح کی برائیوں کی آماج گاہ بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امن و سکون ، انسانیت ، رواداری ، انسان دوستی ، آپسی الفت و محبت اور بھائی چارے کی لازوال دولت رخصت ہوتی جا رہی ہے ۔ بے شک دین اسلام ایک مکمل نظام ِحیات ہے جو تمام شعبہ زندگی پر محیط ہے،ایک ایسا مذہب جس نے تمام معاملات کو مکمل واضح ترین انداز میں بیان کر دیا ہے نیز زندگی اور معاشرے کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات موجود نہ ہوں مگر افسوس کے آج دینِ اسلام کی تعلیمات سے دور ہونے کے باعث ہمارے معاشرے میں بہت سے پہلو اور گوشے ایسے ہیں جن پرچلتے ہوئے ہم جاہلانہ رسم و رواج پر عمل کرتے ہیں نتیجتاً ہم بہت سی خرابیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہی خرابیاں ہمارے لیے روگ اور نا سور کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس کی ایک کڑی جہیز کی رسم ہے ۔صدیوں کے تسلسل کے ساتھ انسانی معاشرہ جس مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے اس کا بنیادی ستون خاندان ہے ۔خاندان کی کئی اکائیاں ہیں جن میں سے اہم اکائی ایک رشتہ ازواج ہے ۔ ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں شادی بیاہ کی بیشتر رسومات ہندوانہ کلچر سے مستعار لی گئی ہیں ۔ ہم بچپن سے ہی درسی کتابوں میں جہیز کی رسم کو ایک لعنت پڑھتے اور لکھتے آئے ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں جہیز کی فرسودہ رسم دن بہ دن کسی ناسور کی طرح پنپ رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشتوں سے کہیں زیادہ اہمیت دولت کو دی جاتی ہے جس کی وجہ سے جہیز جیسی فرسودہ رسم مزید پھیل گئی ہے ۔ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین اسلام کی نظر میں عورت کا بہتر جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے ۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نکاح کو جس قدر آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی نظام نے اسے اتنا ہی مشکل بنا
دیا ہے ۔ آج جہیز کو ہمارے معاشرے کی نظر میں آرائش و زیبائش کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ جہیز ایک ایسی لعنت ہے جس نے مسلم معاشرے کو مختلف زاویوں سے ذلیل و رسوا کر رکھا ہے ۔ یہ حقیقت کہ علم و ہنر کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں ،بے معنی ہو کر رہ گئی ہے ۔آج ہمارا معاشرہ حقائق سے چشم پوشی اختیار کر کے محض سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے ، ہم فرسودہ رسومات کی بے جا پیروی کرتے ہوئے اپنے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے گڑھا کھود رہے ہیں ۔افسوس کے ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو بھلا دیا جس کے باعث کئی برائیوں نے ہمارے معاشرے میں جنم لینا شروع کر دیا ، ہم بھول گئے کہ اسلام سادگی کا درس دیتا ہے ۔جہیز کو عورت کی کمزوریوں کا مداوا قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ، جہیز کا سامان لڑکی کی کسی بھی کمزوری کا مداوا نہیں کر سکتا ۔ مقام ِ فکر ہے کہ آج دورِ جدید میں بھی جہیز کی اس روایت کو فروغ دینے میں ہم سب کی بے حسی کار فرما ہے آخر کب تک ہم ان خود ساختہ اور فرسودہ روایات کے پھندوں کے جال میں جکڑے رہیں گے ۔جہیز ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جس کے باعث پریشان تو ہر کوئی ہے مگر جہیز نامی اس بلا سے نجات کی سبیل پیدا کرنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتااس حقیقت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس معاشرے میں جہیز ایک لعنت کا مقام رکھتاہے وہیں خود کو مسلمان گرداننے والی قوم جہیز جیسی فرسودہ رسم کو نبھانے کے لیے سود پر جہیز پیکج دے رہی ہے جس کی تشہیر پرائیویٹ بنک ، ، کمپنیز اور سرعام کھلے بڑے بڑے سٹور بڑے فخر سے کرتے نظر آتے ہیں ۔یہ سب یورپ یا کسی غیر مسلم ملک اور معاشرے میں نہیں بلکہ اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی سر زمین پاکستان میں مسلم حکومت کے زیرِ سایہ ہو رہا ہے ۔اس سب کے بعد لوگ یہ سوال کرتے پائے جاتے ہیں کہ رشتوں اورخاندان میں برکت ، عزت و تکریم اب کیوں ناپید ہے ، بیٹی کو تر بیت اور تعلیم کے بجائے جہیز کے وزن تلے رخصت کرنا جب فیشن اور روایت بن چکا ہو اور رشتہ کرنے والے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی کی آمدن دیکھ کر رشتہ کرنے پر آمادہ ہوں تو پھر خاندان تباہی اور بربادی کی طرف ہی گامزن ہوں گے ۔ مزید افسوس تو اس بات کا ہے کہ سب کو معلوم ہے یہ رسم دینِ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے مگر پھر بھی اس کو لینے سے انکار کوئی بھی نہیں کرتا ۔ بقول شاعر۔۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
ہمارے مسلمان گھرانوں میں کتنی ہی لڑکیاں جہیز نا ہونے کے باعث گھر میں بیٹھے بیٹھے ہی بڑھاپے کی دہلیز پار کر جاتی ہیں تو کہیں جہیز کم ہونے کا طعنہ بہت ساری لڑکیوں کی زندگی کو اجیرن بنائے رکھتا ہے ،ان کی معصوم آنکھوں میں بسے روشن دنوں کے رنگین خواب چھین لیے جاتے ہیں ،ان کی آرزﺅں تمناﺅں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ کرہم انہیں نا امیدی ، مایوسی اور اندھیروں کی دنیا میں دھکیل دیتے ہیں ۔ دینِ اسلام کے مطابق تو بیٹیاں ربِ دو جہاں کی رحمت ہیں مگر ہمارے ناقص علم اور فرسودہ رسومات کی بے جا پیروی کی بدولت بیٹی کو اللہ کی رحمت کے بجائے زحمت بنا دیا گیا ہے جس کی بدولت آج کے اس دور میں بھی زمانہ قدیم کی طرح بیٹی کی پیدائش پر کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے ۔ مادیت پرستی ہمارے معاشرے میں زہرِ قاتل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ،بلکہ پیسے کی اہمیت نے تو ہمارے معاشرے کو کئی درجوں میں تقسیم کر دیا ہے ، درحقیقت یہ سب مسائل انسان کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں جو انسان کے دل کی خواہشات سے جڑ کر دماغ پر حاوی ہو جاتے ہیں ،جہیز کی خواہش بھی ہمارے اندر کی خواہشات میں ہی ترویج پاتی ہے ۔یہ ایک ایسی قبیح رسم ہے جس سے صرف غریب والدین زندہ درگور ہو رہے ہیں اور محض اس آس پر بیٹھے ہیں کہ کوئی فرشتہ صفت انسان اس رسم کی پیروی نا کرتے ہوئے چند جوڑی کپڑوں میں ان کے لختِ جگر کو قبول کر لے ۔ بیشتر والدین جہیز کا سازو سامان اکٹھا کرنے کے لیے اپنے گھر اور زمین تک گروی رکھنے پر مجبور ہیں ۔ ہم ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والے لوگ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر کب عمل کریں گے کہ جس کی بیٹی ہو وہ اسے اچھی پرورش کر کے رخصت کر دے اس کے لیے جنت ہے ۔ہمارا معاشرتی نظام رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے بالکل الٹ چل نکلا ہے جس کے نتائج کی صورت ملنے والے نقصانات پر اگر غور نہ کیا گیا تو آئندہ چند سالوں میں وہ وقت دور نہیں جب ہماری قوم بدتر اخلاقی اور معاشی حالت کو پہنچ جائے گی ۔
رسم جہیز نے مار دی ہیں بے شمار بیٹیاں ۔۔اب تو اس رواج سے ہیں بیزار بیٹیاں
کیسے انہیں جہیز دے کیسے شادیاں کرے ۔۔جس غریب باپ کی ہوں دوچار بیٹیاں

تبصرے بند ہیں.