نئے سیٹ اپ کے بعد مزاحمتی سیاست اپ سیٹ

13

تعیناتی اور نئے سیٹ اپ کے بعد مزاحمتی سیاست اپ سیٹ ہوگئی ہے۔ بیانیے اپنا اثر کھو رہے ہیں۔ سسٹم کے خلاف مزاحمتی جدوجہد دم توڑ رہی ہے۔ ٹائی ٹینک مضبوط چٹان سے ٹکرانے کے بعد ڈوب رہا ہے۔ مسافر چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ خان صاحب کو اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور تعاون کے بغیر سیاست کا تجربہ نہیں تھا اب آلو ٹماٹر کے بھاﺅ معلوم ہو رہے ہیں۔ نئے ”باس“ نے آتے ہی اعلان کردیا کہ وہ حکومت کو ڈکٹیٹ کرسکتے ہیں نہ کریں گے، اس اعلان نے گود سے گرے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ ”مقبول سیاستدان“ پنڈی والوں کو باس کہتے اور گھاگ سیاستدانوں سے پنجہ آزمائی کرتے رہے لیکن 29 نومبر کے بعد ہوائیں مخالف چلنے لگیں۔ وہ سمت نہ پہچان سکے۔ اس لیے پریشان ہوئے دباﺅ ڈالنے آئے تھے خود دباﺅ میں آگئے لوگوں نے کہا خان مایوس ہیں۔ خان غصہ میں ہیں۔ ناکام ہوگئے ہیں گم کردہ راہ ہیں زخمی ہیں ڈسے ہوئے ہیں اس لےے پھنکار رہے ہیں۔ منفی بیانیوں کے سہارے جی رہے ہیں۔ 6 ماہ پہلے مقبولیت کے پہلے آسمان پر تھے۔ حالات نے پلٹا کھایا تو عرش سے فرش پر آگرے راہیں مسدود ہوتی گئیں جلسوں جلوسوں سے کام نہیں چلا، حقیقی آزادی اسلام آباد کے راستے ہی میں فلائی اوور پر دم توڑ گئی۔ انقلاب لاہور کی گلیوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ سیاستدانوں سے کیسے لڑیں گے نہیں جانتے، اس لیے صدر مملکت کو قابل قبول مہرے کی حیثیت سے آگے بڑھا دیا۔ ” لڑا دے ممولے کو شبہاز سے“ اس سارے بکھیڑے میں حامیوںکا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یلغار بڑی حد تک رک گئی ہے۔ آنے والوں سے راہ و رسم بڑھانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، ”بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں، اپنی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں۔“ اللہ ایسے دن کسی کو نہ د کھائے کہ وہ خواہش کے باوجود کسی سے بالمشافہ مذاکرات کے قابل نہ رہے، لیکن خان صاحب اپنی ضد اور انا کے اسیر ہیں۔ سارے آپشن کھو کر مجبوراً حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن خوب چلمن سے لگے بیٹھے ہیں ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ مذاکرات میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واضح کردیا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں فوری الیکشن کی تاریخ دینا ممکن نہیں، اس سے عدم استحکام بڑھے گا بیرونی امداد اور قرضے رک جائیں گے البتہ اگر خان صاحب غیر مشروط طور پر قومی اسمبلی میں آجائیں تو مل بیٹھ کر آئندہ سال اکتوبر سے دو ماہ قبل کی تاریخ پر بات ہوسکتی ہے تاہم اس کے لیے خان کو اپنا لہجہ بدلنا ہوگا ان کا طنطنہ باقی رہا تو بات نہیں بنے گی۔ ”وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں“ خان صاحب اپنے آخری بیانیے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے معاملہ میں پھنس گئے ہیں۔ ان کی عادت ہے وہ پہلے بولتے پھر سوچتے ہیں۔ ماضی میں بھی نتائج و عواقب پر غور کیے بغیر انہوں نے جتنے بیانیے فلوٹ کیے ان کی وجہ سے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ وہ 26 نومبر کا میچ ہار چکے ہیں اور اب وکٹ کھودنے یا وکٹیں اٹھا کر بھاگنے کی فکر میں ہیں۔ سنجیدہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دسمبر خان صاحب کے اعلانات کے ساتھ گزر جائے گا۔ اس کے بعد مقدمات کے جھمیلوں اور متوقع فیصلوں کے باعث شاید انہیں کچھ کرنے کی مہلت نہیں مل سکے گی۔ ان پر درجن سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ایک میں تو حق دفاع سے محروم ہوچکے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل پر 26 نومبر کے بعد سے اب تک مشاورت جاری ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے عملی طور پر اسمبلی توڑنے سے انکار کردیا۔ بتا دیا کہ 4 ماہ تک انتخابات نہیں ہوسکتے۔ اسمبلی توڑ کر کیا کریں گے نقصان آپ کا ہی ہوگا۔ خیبر
پختونخوا کے بیرسٹر سیف نے بھی واضح کردیا کہ کے پی اسمبلی کی تحلیل پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے مشروط ہے۔ ”نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“ یہاں بھی خان کی ضد آڑے آرہی ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے خطاب میں اعلان کردیا کہ اسمبلیاں 15 اور 20 دسمبر کے درمیانی عرصے میں توڑ دی جائیں گی۔ کیا اس مہم جوئی سے عدم استحکام نہیں بڑھے گا۔ یہ اقدام عوام کے لیے مزید مہنگائی کا پیغام لائے گا اور بدحالی کا باعث بنے گا۔ جانتے بوجھتے ہوئے کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے 22 ارب روپے مانگ لیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے واضح کردیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد حلقہ بندیاں ہوں گی تب الیکشن ہوں گے خان صاحب اسمبلیوں کی تحلیل پر بضد ہیں۔ زیرک سیاستدان سیاست کی راہ کے کانٹے چنتے ہیں۔ خان صاحب بچھا رہے ہیں۔ یقیناً جانتے ہوں گے کہ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر 6 ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں جو 15 دنوں کے لیے کافی ہوں گے۔ ڈالر نہیں ہیں درآمدات رکی ہوئی ہیں۔ ان حالات میں پیسے کہاں سے آئیں گے۔ کون دے گا، بقول شخصے ہم مے خانے کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں بس دھکا دینے کی دیر ہے۔ لگتا ہے خان صاحب فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ جس کا دوسرا نام این آر او ہے کوئی سخی داتا این آر او دے دے تو معاملہ ختم ہوسکتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی بادی النظر میں مستعفیٰ ہوسکتے ہیں۔ اپنے سرپرستوں سے باہر نہیں جاسکتے۔ اسمبلی کیسے توڑیں گے۔ تعلقات میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ شنید ہے کہ چوہدری صاحب پنڈی گئے کسی سے ملے اسلام آباد آئے یہاں دو اعلیٰ افسران سے ملاقات ہوئی پیغام دیا گیا کہ وفاقی بڑا بھائی ہے اس سے پنگا لینا درست نہیں۔ واپسی پر انہوں نے خان کو ترقیاتی پروگراموں کی آڑ میں سمجھانے کی کوشش کی چار ماہ تک اسمبلیاں نہ توڑنے کا مشورہ دیا۔ الجھی ہوئی سیاسی کہانی کے تین کردار وفاقی حکومت، عمران خان، چوہدری پرویز الٰہی پی ڈی ایم کی حکومت کو انتخابات میں کامیابی کے لیے معیشت کی بحالی درکار ہے۔ خان صاحب کو فوری انتخابات اور پرویز الٰہی کو مستقبل کی سیاسی زندگی کے لیے ترقیاتی کاموں کی تکمیل چاہیے اس کے لیے انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خیال کاسترو کو وزارت کا حلف دلایا۔ خان کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے 5 ماہ کے لیے جہاز کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا جس کے لیے 12 کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے۔ کیا وہ یہ سب کچھ 20 دسمبر تک کے لیے کر رہے ہیں۔ ہوش کے ناخن ہوتے ہیں تو لے لیے جائیں خان کو سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو آپ کی سیکیورٹی ختم، پروٹوکول فنش، تب کہاں جائیں گے کچھ اپنا ٹھکانہ کرلیں، ہم تو دریا ہیں سمندر میں اتر جائیں گے۔“ آصف زرداری بھی بلا رہے ہیں تلافی مافات ہوسکتی ہیں۔ آپ کی ساری سہولتیں سارے مزے ختم ہوجائیں گے۔ خان صاحب اپنی ہی سیاست میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ”الجھا ہے پاﺅں یار کا زلف دراز میں، لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا“ مشیر اچھے نہیں تھے۔ بقول فیصل واوڈا تین سانپوں اور دو لٹیروں نے کپتان کو برے حالوں تک پہنچایا۔ کون لوگ تھے جنہوں نے فوج سے تصادم، امریکی سائفر، جہاد، پنڈی آنے دھرنا دینے اور اب اسمبلیوں کی تحلیل کا مشورہ دیا۔ انتخابات کب ہوں گے؟ دس ملین کا سوال اشارے مل رہے ہیں کہ آئندہ سال اکتوبر کے بعد بھی موخر ہوسکتے ہیں۔ کپتان جلد انتخابات کو مسائل کا حل قرار دیتے ہیں جبکہ سیاسی حلقوں میں ان کی ساڑھے تین سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں کون سے ایسے کارہائے نمایاں کیے جن کی وجہ سے ان سے توقعات وابستہ کرلی جائیں وہ انتخابی مہم کے دوران عوام کو کن کامیابیوں سے آگاہ کریں گے 4 وزرائے خزانہ کی تبدیلی، 6 سیکرٹری خزانہ کی برطرفی، اپنے چنے ہوئے وزیر اعلیٰ کے ذریعہ پنجاب کی درگت اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی ان کے کارناموں کا ثبوت ہے۔ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ پی ڈی ایم نے پنجاب آپریشن کے لیے آصف زرداری کو ٹاسک دے دیا ہے۔ وہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دو آپشن پیش نظر ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو حسب سابق اپنا امیدوار بنا لیا جائے نہ مانیں تو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹا دیا جائے آصف زرداری نے تجویز دی ہے کہ حمزہ شہباز کی جگہ کسی اور کو سامنے لایا جائے اور کون ہوگا؟ دو نام زیر غور ہیں ملک محمد احمد اور سلیمان شہباز، خان صاحب کی ان تمام آپشنز پر نظر ہے یا نہیں لیکن انہیں ایک اور خوف کھائے جاتا ہے ان پر توشہ خانہ کیس سمیت گھڑی چوری، اولاد چوری اور دیگر مقدمات 13 دسمبر کو زیر سماعت ہوں گے ان پر دلائل مکمل ہونے کے بعد کسی ایک کا بھی فیصلہ آگیا تو پارٹی سربراہی سے علیحدگی تاحیات نا اہلی اور قید و بند کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔ ”سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ“ نومبر کا کھیل ختم، دسمبر میں کچھ ہونے والا ہے کون کس کو بلیک میل کر رہا ہے اسٹیبلشمنٹ کی کیا حکومت عملی ہے۔ ریٹائر ہونے والے کیا کر رہے ہیں کیا اب بھی درپردہ ایسے لوگ موجود ہیں جو شریف فیملی کو آگے نہیں آنے دیں گے۔ آئندہ انتخابات کے لیے شریفوں کی اپنی پالیسی کیا ہوگی؟ موجودہ مذاکرات کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ کس کے ساتھ ہاتھ ہونے والا ہے؟ خان صاحب کا غصہ آئندہ دنوں میں کیا رنگ دکھائے گا؟ متعدد سوالات ہیں جن کا جواب آئندہ آنے والے دنوں میں تلاش کیا جائے گا، آزمودہ راآموزدن خطا است کے مطابق جسے گرانا ہے اسے نیچرل طریقہ سے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ آئندہ دنوں کے اہم فیصلے مستقبل کی سیاست کے رنگ اجاگر کریں گے۔

تبصرے بند ہیں.