سخی لٹیرا

99

مشہور انگریزی کہانی کا کردار رابن ہڈ چوری، جرائم اور قانون سے کھیل کر امیر لوگوں سے پیسہ چھین جھپٹ کر غریبوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ وہ امیروں کے خلاف تھا یوں ایک چور لٹیرے کو کہانی میں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ ہمارے ہاں بھی شاید اسی کردار کا اپنے تئیں ترجمہ کر کے سخی لٹیرا کا نام دیا گیا۔ اگر دیکھیں تو ہماری معاشرت میں سیاست سماج، عدالت اقتدار میں طاقت کے سرچشموں کی طرح بعض افراد نے عوام میں پذیرائی حاصل کی۔ ان کے طریقہ اور طرز زندگی میں سیدھی ڈکیتی نہیں بلکہ اہل اقتدار کا قرب حاصل کر کے قانون میں نقب زنی کر کے معاشرت میں بگاڑ سنوار کرنے کی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے محنت کر کے اپنے آپ کو اہل ثابت کر کے معاشرے میں جگہ پائی مگر زیادہ تر رابن ہڈ اور رہبر رہزن کا کردار نظر آئے گا جس میں سخی لٹیرے ہی نظر آئیں گے۔ میں نے انسانوں کی منڈیاں کے نام سے ایک کالم لکھا تھا کالموں کے مجموعے کو یہی ٹائٹل دے کر شائع کرنے کے لئے دیا ہے۔ اس میں میرا موضوع وہ لوگ تھے جو آپ صبح نکلیں تو ہر شہر میں مخصوص چوکوں پر مزدوری کے لیے کھڑے نظر آئیں گے۔ اگر آپ موٹر کار وہاں کھڑی کریں تو آپ کی طرف اُمڈ آئیں۔ اپنے وجود، قوت اور سکت کی قیمت لگوانے، ایسے چوک چوراہوں میں اکثر رک جاتا ہوں، مگر گاڑی دور کھڑی کر کے دیکھتا ہوں کہ کتنی کتنی دیر ان کی قیمت لگانے کوئی نہیں آتا۔ آدھے سے زیادہ روزانہ واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ یہ اور گھر میں بوڑھی ماں، جوان بیٹی، بیٹے، بیوی، باپ کی ضرورتوں، بجلی کے بل، دوا اور خوراک کا کوئی بندو بست نہیں ہوتا۔ انہی شہروں میں مخیر حضرات کے فری لنگر پر قطاریں لگی نظر آئیں گی اگر کوئی پوچھ لے، ذرا پتہ کر لے تو وہ کچھ دہائیوں یا چند سال پہلے خود ایسی قطار میں جگہ نہ پانے پر قانون کو اپنے ہاتھ لینے نکلتا ہے اور آج وہ لٹیرا سخی بھی کہلاتا ہے، بیوروکریسی میں اس افسر کو بہت اچھا سمجھا جاتا ہے جس کا پیٹ نہیں سمندر ہے۔ بس اپنی لوٹ مار سے چند ہزار لوگوں میں بانٹ دیتا ہے جس جگہ پر تعینات ہو کرپشن کی ایک بساط بچھاتا ہے اور ہر طرف چرچے ہوتے ہیں۔ اس کے ماتحت چند وہ بھی ہوتے ہیں جو راضی ہیں کہ صاحب نے تعیناتی کر دی۔ صاحب مالیاتی ادارے کا ہیڈ لگے یا ایک شعبے کا باس اگر کرپشن میں فراخی دکھائے تو لوگ راضی ہیں اور خود بھی غازی ہے۔ آپ کو ایسے کردار مل جائیں گے جو چند سال پہلے قینچی چپل میں تھے آج ان کی گفتگو اربوں روپے کے ذکر سے شروع ہو کر بیرون ملک جائیداد رکھنے تک ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ موصوف نے فلاں دور میں فلاں آفیسر کی آشیرباد حاصل کر کے یہ اعلیٰ مقام پایا ہے۔ میں ایف بی آر کے پینل پر وکالت بھی کرتا ہوں لہٰذا اس نامور ادارے کے لوگوں کو جانتا ہوں کچھ تو ایک دہائی پہلے مانگی ہوئی موٹر سائیکل پر آئے۔ دبلے پتلے اتنے کہ نام ”سوکھی“ سکی کہے بغیر نام کی شناخت نہ ہو۔شاید علم جعفر ہاتھ لگ گیا یا کوئی کرپٹ رام کر لیا یا فیض سے فیض پایا ہو۔ ایسے لٹیرے ہوئے کہ رکھوالے ہم راہی ہو گئے۔ گویا گلشن نہیں اب تو وطن عزیز میں صرف کرپشن کا کاروبار چلے۔ کچھ پیدل اخبار فروشی کرتے تھے، کچھ کے کیریئر کا آغاز بڑے ہوٹل میں روم سروس سے ہوا اور وہ ویلنٹائن کا کردار ادا کرتے کرتے اس شعبے میں چلے گئے جو حکمرانی کے ایوانوں سے جانا جاتا ہے۔ سکولوں کالجوں کی چینز، مکانوں کی چینز، کپڑے کے برانڈ اونچے نام اپنے کام میں مذہبی ٹچ دینا ہے۔ مسجد کے لیے جگہ، غریبوں کے لیے لنگر، درگاہوں پر دیگیں اور پھر موصوف کا کردار پیچھے چلا جائے گا اور مذہبی ٹچ آگے آ جائے گا۔ اپنی والدہ یا والد کے نام کا ٹرسٹ قائم کریں گے اور دیانت دار بھی کہلائیں گے مگر ہر آنے والے سے اپنی حیثیت کی بدولت دولت طلب کریں گے گویا اپنی رو سیاہی کو نیک نامی میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فیک نیوز، فیک تجزیے تو رہے اپنی جگہ دراصل مسئلہ فیک کرداروں کا ہے۔ تعلق وطن عزیز کے نمبر 1 بکیوں سے ہے اور میری بکی سے مراد ضروری نہیں کہ میچ کی بک ہو، ہر شعبے میں بکی پائے جاتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں ایک نیا انداز متعارف ہوا ہے کہ کسی کرپٹ کی تعیناتی کرا دی اور تمام معاملات خود ہینڈل کیے۔ سرکاری دستاویزات پر نام نہ نشان اور معاشرت میں اعلیٰ مقام، کیا بات ہے۔ مزہ ہی مزہ۔ چیرٹی اور کرپشن، بدکاری اور سفر حجاز ساتھ ساتھ، عاجزی میں خوفناک تکبر ساتھ، مذہب کاروبار، شرافت کا لبادہ اور بندہ تابعدار۔ جو بہت سخی بنتے ہیں ان چوکوں چوراہوں پر بھی کبھی نکلا کریں ان ضرورت مندوں کو دیکھیں پھر شاید ان میں سے ان کو اپنا باپ دادا نظر آ جائے۔ ایک صاحب اپنے وقت نامور بدمعاش تھے، بڑی ”عزت“ سے بیٹوں سمیت جوا کراتے تھے۔ ان کی بیوی ہمیں بتاتیں کہ میں کئی بیواؤں اور یتیموں کا خیال رکھتی ہوں اور لڑکیوں کے بیاہ کرتی ہوں اگر ملک میں نظام ضامن ہو تو ایسی باتیں سننے کو نہ ملیں۔ ریاست کے کام اور ذمہ داری بے چارے جرائم پیشہ اور کرپٹ لوگوں کے کندھے پر نہ ہو۔ لوٹ مار کے لیے طریقہ کار کی ایجادات کے بجائے انسان فلاح کے لیے ایجادات کی طرف توجہ دیں۔ انسان انسانوں کا شکار بند کریں اور نہ پاکستانی رابن ہڈ سخی لٹیرے بنیں۔ روسیاہی نیک نامی میں بدلنے کی ناجائز کوشش بند کر دیں وہ وقت نہیں رہا اب گلاس میز کے کنارے سے گرنے والی ہے۔ ہسپتالوں کے باہر مریضوں کے لواحقین علاج کے لیے کسی کا انتظار نہ کرتے ہوں۔ دوائی، روزی، شادی بیاہ، فیس کے معاملے اب پیچھے رہ گئے اب تو موت مہنگی اور ارزاں ہو گئی بڑے سے بڑا سانحہ اجتماعی ہو یا انفرادی چند روز خبروں میں رہے گا پھر نئے سانحات جنم لیں گے اور باقی پس منظر میں چلے جائیں گے۔ مری میں برف باری سے مرنے والے ہوں یا سیالکوٹ موٹر وے کے راستے میں عزت سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی، درندوں کے ہتھے چڑھنے والی نیک خاتون سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کچھ کا جھوٹ بکتا ہے اور بہتوں کا سچ کوئی نہیں سنتا۔ کچھ عدالتیں کام کر رہی ہیں اور کچھ کام تمام کر رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بیوروکریسی کے سرخیلوں کا مزاج ہی قانون ہے یہ نہیں کہ فلاں معاملے پر قانون میں گنجائش ہے یا گنجائش یا رعایت نہیں ہے بلکہ صاحب کا مزاج ہی قانون ہے۔ اگر صاحب چاہیں تو قانون صفحہ ہستی پر نہ رہے تو نہیں ہو گا اور چاہیں کہ وطن عزیز میں سعودیہ کی حد بھی واجب ہو تو ہو جائے گی۔ ایک بہت اچھے خوش اخلاق انسان داکٹر نوید الحق ہیں، کراچی کسٹم ٹریبونل کے ممبر ہیں۔ اگلے روز کسی اپیل میں دیکھا کہ ان کو قانون نافذ کرنے کی اتنی فکر نہ تھی جتنی قانون سازی کی فکر تھی۔ انہوں نے کسٹم ایکٹ اور کسٹم قوانین اور طریقہ کار میں بہت مفید خیالات کا اظہار کیا جو آئنہ کبھی مکمل کالم میں لکھا جائے گا۔ بہرحال بات موضوع سے دور ہو گئی کچھ ہیں کہ لاکھوں کی دیہاڑی لگا لیں تو بھی مندے کا رجحان محسوس کرتے ہیں اور کچھ ہیں صبح اپنے وجود کی قیمت لگوانے آتے ہیں اور خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں مگر اب وطن عزیز حقیقی طور پر مشکل ترین حالات سے دوچار ہے۔ معیشت جس وینٹی لیٹر پر تھی وہ وینٹی لیٹر جس بجلی پر چل رہا تھا اس کے لیے ایل این جی (ڈنگ کے ڈنگ) یعنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اقتدار اعلیٰ گروی رکھنا پڑ رہا ہے۔ یہ کالے ڈالے، بڑی گاڑیاں اور ان کے کانوائے زیادہ دیر نہیں جس دن جلسوں کی رونق بننے والوں، چوکوں میں اپنی قیمت لگوانے والوں نے بڑے سٹوروں، فارم ہاؤسز، کاروباری اداروں، بڑی کوٹھیوں کا رخ زندگی کی تلاش میں کر لیا۔ جس دن مرنے پہ زندہ رہنے اور زندہ رہنے پہ مرنے کو ترجیح مل گئی یا زندہ رہنے کے لیے مرنا پڑ گیا اس دن یہ سخی لٹیرے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ قوم، عوام، وطن، معیشت اور جذبات سے کھلواڑ بند ہو جانا چاہئے۔ معیشت معاشرت اور مجرمان بے قابو ہو چکے وہ بھی رہبری اور نیکی کے نام پر اللہ رحم فرمائے، پاپولر کرپٹ زمین بوس ہونے کو ہیں۔

تبصرے بند ہیں.