قطر کے الثانی خاندان کی عظمت کو سلام

28

سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں امام کی حیثیت حاصل ہے، اسکی بڑی وجہ مقامات مقدسہ ہیں، ہر مسلمان کا دل ان کے ساتھ دھڑکتا ہے،اس کے فرمانرواؤں نے1979 کے بعد اپنے لئے خادم الحرمین شریفین کے لقب کو پسند کیا، اسلامی ممالک کا ہر باسی ان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو اسلامی کلچر اور تہذیب کے برعکس ہو، جس سے امت کی دل آزاری ہو اورمخالفین کو تنقید کا موقع مل جائے۔
جب سے سعودی صحافی کا سفارت خانے میں قتل ہوا ہے، مغربی دنیا نے سعودی ولی عہد کو زیر عتاب کرتے ہوئے انکو روشن خیالی کے سفر پر گامزن کر دیا ہے، اور اس کلچر کو یکسر بدل دیا ہے جو اس سماج کی پہچان تھی، سرزمین مقدسہ پر کنسرٹ کا انعقاد، جوئے اور شراب خانے کا آغاز، بھارتی فلمی ستاروں کی پذیرائی،موسیقی اور سنیما کی رنگینیاں یہ وہ ”سنہرے“کارنامے ارباب اختیار کے ہاتھوں انجام پا چکے ہیں، معاملہ یہاں ہی نہیں رکا، بلکہ تبلیغی جماعت پر پابندی بھی مغربی دنیا کی خوشنودی کے لئے لگائی گئی، حسن البناء، سید مودودی،سید قطب، علامہ یوسف القرضاوی کی80 سے زائد کتب کو سعودی سرزمین سے دیس نکالا دینااسی مشق کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کے سامنے سعودی عرب کا نیا سافٹ چہرہ رکھنا تھا۔
ان حالات میں بھلا یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی تھی، عرب برادری کا چھوٹا سا ملک فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے، اسلامی کلچر کو پھر سے آباد کرے گا، قطر اگرچہ رقبہ میں بڑا ملک نہیں لیکن اس کے حکمران وژن اور دل،بہادری کے اعتبار سے بڑے نکلے، انھوں نے مغرب کی ہر تنقید کو ٹھکرا دیا، مغربی میڈیا کے پروپیگنڈہ کا الجزیرہ نے بھر پور جواب تو دیا ہے،خلیج فارس کی ریاست نے اپنے اقدامات سے مسلم دنیا کے دل جیت لئے، الثانی خاندان سے وابستہ حکمرانوں نے تاریخ میں نہ صرف اپنا نام لکھوایا بلکہ عالمی مقابلوں کی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی۔
روایت ہے کہ جس ملک میں کرکٹ، فٹ بال،ہاکی اور دیگر کھیلوں کے عالمی مقابلہ جات منعقد ہوتے ہیں، دس سال تیاری کے لئے دیئے جاتے ہیں فائیو سٹار ہوٹلز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے، شائقین کی عیاشی کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے، جوا خانے، شراب کی دوکانیں کھول دی جاتی ہیں، دنیا بھر سے”مخصوص“ خواتین کو لایا جاتا اور،عشرت کدے آباد کئے جاتے ہیں، نشاط خانے سیاحوں کی توجہ کا مرکز قرار پاتے ہیں،فحش گری عروج پاتی ہے،یوں یہ عالمی میلہ تمام تر خرافات سے مزین اور لبریزہوتا ہے۔
قابل تحسین ہے قطر کا الثانی خاندان جس نے عالمی گماشتوں کی پراوہ کئے بغیر تمام غیر اسلامی اقدامات روشن خیالوں اور لبرل کے منہ پے دے مارے ہیں اور وہ علامہ اقبال کے شعر کے مصداق بنے۔
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد ہر شب کو سحر کر
عالمی سطح پر ڈوبتی مغربی شب کو نئی سحردینے کا ایسا انتظام کیا ہے کہ عقل دنگ رہی گئی، اس ایونٹ کو قرآن کلچر، اسلامی اقدار کی ترویج کے لئے قطر کی سرزمین کو بہترین انداز میں استعمال کرتے اوراسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے مسلم مفکر، مبلغ شخصیات کو مدعو کیا گیا جس پر بھارت جیسے سیکولر ملک نے عرصہ حیات تنگ کردیا تھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک ودیگر علماء کرام شاہی مہمان تھے ان کے فرائض منصبی میں فٹ بال کے شائقین اور سیاحوں کے سامنے اسلام کی حقانیت کو روشناس کرانا تھا۔بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کچھ غیر مسلم سیاح مشرف بہ اسلام بھی ہوئے ہیں۔
عالمی کپ کا افتتاح بھی اپنی مثال آپ تھا، بغیر کسی عریانی، فحاشی،ہلٹر بازی کے جب پوری دنیا کی نگاہیں عالمی ایونٹ پر مرکوز تھیں، قطری صاحب حیثیت مگر معذور شہری کی دل سوز قراٗت سے قرآن کی زبان میں ایسا پیغام دیا تمام تفاخر کی جڑ کاٹ دی، بتا یاگیا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معتبر وہی ہے جو متقی ہے۔ اللہ کے نزدیک سپر پاور کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قطر کی انتظامیہ نے اپنی شاہراہوں کو قرآنی آیات اور احادیث سے مزین کیا تاکہ سیاحوں کو غوروفکر کی دعوت دی جاسکے۔اسی طرح ان آئمہ کرام کا انتخاب بھی کیا گیا جو اپنی پرسوز آواز میں قرآن کی تلاوت کی سعادت حاصل کر سکیں،انھیں ہدایات دی گئیں کہ وہ اس ایونٹ میں شریک مہمانوں کے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں، ان کے سامنے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ رکھیں، اس رابطہ کو دعوت اسلام کا ذریعہ بنائیں، سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں دیکھا گیاا سٹیڈیم کے قریب مساجد سے موذن حضرات کی محسور کن آواز میں دی گئی پانچ وقت کی آذان نے غیر مسلموں کو حیرت میں گم کردیا تھا۔
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سا اسلامی لٹریچر بھی عوامی مقامات،ہوٹلز،مساجد میں رکھا گیا تھا تاکہ آنے والے سیاحوں کو پڑھنے کی جانب متوجہ کیا جائے۔ جہاں شراب خانوں پر پابندی تھی،وہاں خواتین پر یہ پابندی بھی عائد تھی کہ وہ غیر اخلاقی لباس زیب تن نہ کریں۔اس طرح کی قدغن لگانا اور اپنی سوسائٹی کو خرافات سے محفوظ رکھنا قطر کی سرکار کا بنیادی حق تھا، مگر مغربی میڈیا حتیٰ کہ ہندوہستانی چینلز نے بھی ان اقدامات کو حرف تنقید بنایا،انڈین میڈیاکو تو محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک کی قطر میں موجودگی ایک آنکھ نہیں بھائی،بہت سے روشن خیال ٹی وی چینل کو یہ ماحول اس لئے پسند نہیں آیا کہ اس عالمی کپ میں انکی منشاء کے مطابق آزاد خیالی کو پابند سلاسل کر دیا تھا۔
جہاں بھی اس طرح کا ایونٹ ہوتا ہے وہاں خرافات کو ملکی معیشت کی ترقی کے لئے لازم و ملزوم سمجھاجاتا ہے،مگر قطری حکومت نے اسکی پرواہ نہ کی، اور سابقہ ادوار سے مہنگا عالمی کپ منعقد کروا کر دنیا کو ورطہ حیرت میں گم کردیا ہے۔
ایک بڑی تبدیلی جو عالمی کپ کی وساطت سے اس خطہ میں دیکھی گئی کہ خلیجی ممالک کے قریباً تمام سربراہان نے اس میں شرکت کی،قطری فرمانرواء نے سعودی پرچم کو گلے میں ڈال کر سعودی فٹ بال ٹیم کی فتح کو جس انداز میں منایا ہے انکا یہ فعل بھی اپنے اندر بڑا پیغام رکھتا ہے باوجود اس کے کہ سعودیہ، مصر، اور یو اے ای نے 2017 سے قطر پر پابندیاں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفا داری کی پاداش میں عائد کر رکھی ہیں۔
قطر نے برطانیہ سے سولہویں صدی کے آواخر میں آزادی حاصل کی،اب جبکہ اسے عالمی برادری میں پہلا فٹ بال کپ منعقد کروانے کا اعزاز حاصل ہوا تو الثانی خاندانوں کے چشم و چراغ نے مغربی توقعات کے بالکل الٹ اسلامی کلچر اور تہذیب کو اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنا کر دیگر اسلامی حکمرانوں کی واضع پیغام دیا ہے،کہ عالمی برادری میں وہی حکمران عزت اور مقام پاتے ہیں، جو اپنے مرکز سے بے وفائی نہیں کرتے،غیروں کی خوشنودی کے لئے قادر مطلق کو ناراض کرنے کا رسک بھی نہیں لیتے،یک طرفہ مغرب نواز پالیسی اپنانے والوں کی عزت سادات بھی جاتی رہی ہے۔
پوری اُمت مسلمہ فٹ بال کے عالمی مقابلہ کے موقع پر اپنے موقف پر ڈٹے رہنے اور28 ایام کے لئے اسلامی روایات پر سمجھوتہ نہ کرنے پر قطر کے الثانی خاندان کو سلام پیش کرتی ہے، جس کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔ امت کے امام سعودی فرمانروا کے لئے بھی اس میں اہم پیغام پوشیدہ ہے۔

تبصرے بند ہیں.