وزیراعظم۔ پاکستان بمقابلہ آزاد کشمیر

11

عطا اللہ تارڑ وزیراعظم شہبازشریف کے معاون خصوصی ہیں اور ان کو یہ رتبہ اور مرتبہ کیوں ملا اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ان کے کون سے اوصاف حمیدہ ہیں جن کی وجہ سے وہ پر لگا کر راتوں رات اس خصوصی منصب تک پہنچے ہیں ورنہ مسلم لیگ کے حالات یہ ہیں کہ یہاں لوگوں نے اپنی عمریں گزار دی ہیں مگر انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ سابق صدر تارڑ سے ان کی رشتہ داری ہے شاید یہی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ معاون خصوصی کا قلمدان سنبھالنے کے قابل ہوئے ہیں۔ شریف برادران کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے ساتھ چلنے والوں کو نہیں بھولتے اور نوازنے پر آ جائیں تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جس کو نوازا جا رہا ہے وہ اس قابل بھی ہے یا نہیں۔ عطا اللہ تارڑ کسی عام گھر کا فرد ہوتا تو مسلم لیگ میں ان کی حیثیت ایک عام ورکر سے زیادہ نہ ہوتی۔ ویسے بھی ہر جماعت نے اپنا اپنا عطا اللہ تارڑ رکھا ہوا ہے، بس اس کا نام مختلف ہو گا کام وہی ہے جو یہ موصوف کرتے ہیں۔ آج ان کے یہ اوصاف بیان کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ کل انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف ایک پریس کانفرنس کی اور اپنے قد سے بڑھ کر باتیں کیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ وزیراعظم آزادکشمیرکو جرأت کیسے ہوئی کہ وہ وزیراعظم شہبازشریف کے سامنے بات کریں۔ شہبازشریف حکم کریں تو انہیں اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ شہبازشریف نے حکم نہیں دیا اور نہ آپ کو روکا ہے اپنی اتھارٹی کا استعمال کریں اور یہ کارنامہ بھی سر انجام دے دیں تاکہ پتہ چلے کہ آپ صرف آواز نہیں نکالتے بلکہ عمل بھی کرتے ہیں۔ سردار تنویر الیاس کی شخصیت سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں مگر وہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے منصب پر فائز ہیں۔ میری کبھی ان سے ملاقات ہوئی اور نہ شناسائی کا کوئی دعویٰ ہے۔ فکری لحاظ سے میں ان کے نظریات کے ساتھ ساتھ ان کی عادات کا بھی ناقد ہوں لیکن آزادکشمیر کے وزیراعظم کی حیثیت سے ان کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے خلاف سردار تنویر الیاس نے جو زبان استعمال کی ہے وہ بھی انتہائی گھٹیا اور قابل مذمت ہے۔
یہ سارا قضیہ اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم پاکستان شہبازشریف منگلا ڈیم کی ایک تقریب کے سلسلے میں میرپور پہنچے۔ اصولی طور پر ایسی کسی تقریب میں وزیراعظم پاکستان کی شرکت سے آزاد کشمیر کی حکومت کو آگاہ کیا جانا ضروری تھا اور اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم ازادکشمیر کو اس تقریب میں مدعو کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے مگر وفاقی حکومت نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔ اس کے باوجود آزاد کشمیر کے وزیراعظم، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس اس تقریب میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق وہاں پر وزیراعظم پاکستان کے سکیورٹی سٹاف نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے ساتھ ناروا سلوک اختیار لیا۔ وزیراعظم پاکستان
شہبازشریف کی تقریر کے دوران سردار تنویر الیاس نے اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی تو شہبازشریف نے پہلے انہیں نرمی سے باز کرنے کی کوشش کی اور بعد ازاں سختی سے انہیں منع کر دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ تقریر کو تھوڑی دیر روک کر وزیراعظم آزادکشمیر کے تحفظات کو سنتے اور کسی اہلکار نے اگر کوئی بدتمیزی کی تھی تو اس حوالے سے کوئی حکم جاری کرتے مگر ان کا رویہ ایسا تھا جیسے سردار تنویر الیاس اتفاق فاؤنڈری کا کوئی فورمین ہو۔ سردار تنویر کو بھی چاہیے تھا کہ وہ ان سے اکیلے میں یہ بات کرتے اور ان معاملات کو صحیح فورم پر اٹھاتے لیکن اگر انہوں نے یہ سب نہیں کیا تو شہبازشریف کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ سچ پوچھیں تو شہبازشریف کے رویے سے تکلیف پہنچی اور اس سے زیادہ تکلیف بعد ازاں سردار تنویر الیاس کی میڈیا سے گفتگو میں پہنچی۔ ہم نے شروع میں عطا اللہ تارڑ کی بات کی تھی لیکن آزادکشمیر میں انہیں وزارت عظمیٰ دینے کے عمران خان کے فیصلے کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ آخر انہوں نے سردار تنویر الیاس میں وہ کونسا گن دیکھ لیا تھا کہ انہیں کشمیریوں کے سر پر مسلط کر دیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ہیلی کاپٹر ہے اس لیے انہیں وزیراعظم بنایا گیا اور کچھ کہتے ہیں کہ ان کی پرانی اے ٹی ایمز خراب ہو گئی تھیں اس لیے نئی اے ٹی ایم کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا فیصلہ وہاں کے عوام کرنے سے قاصر ہیں اور یہ فیصلے اسلام آباد سے ہوتے ہیں۔
جس دن میرپور میں یہ واقعہ ہوا اسی رات سی ڈی اے نے اسلام آباد میں سردار تنویر الیاس کے ملکیتی سینٹورس مال کو بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا۔ یہ درست ہے ان کے مال کے حوالے سے پہلے سے کارروائی چل رہی تھی اور انہیں نوٹس جاری کیے گئے تھے مگر اس واقعہ پر جس تیزی کے ساتھ سی ڈی اے حرکت میں آئی اس نے تمام معاملے کو سیاسی انتقامی کارروائی بنا دیا۔ رہی سہی کسر عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس نے پوری کر دی اور انہوں نے فرمایا کہ سردار تنویر الیاس کی ہاؤسنگ سوسائٹی اور ان کے تجارتی مال کو پہلے سے نوٹسز جاری ہو چکے ہیں اور اس معاملے کی آڑ میں تنویر الیاس اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کا این او سی جاری کرانا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا کہ سوسائٹی کے این او سی کے لیے لوازمات پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس آپ سیاسی طور پر مضبوط ہوں تو یہ جاری ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم اور آزادکشمیر کے وزیراعظم کے درمیان ہونے والی اس تلخ کلامی کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں عطا اللہ تارڑ نے دھمکی دی ہے کہ ان کا داخلہ اسلام آباد میں بند کیا جا سکتا ہے۔ شہبازشریف کو اس دھمکی کا نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا اس کا مطلب یہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہے تو پھر بسم اللہ کریں تاکہ آپ کو بھی اپنی اوقات یاد آئے۔ کشمیریوں کو بھی احساس ہو کہ اسلام آباد میں ان کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو کل کو ملک کے دوسرے حصوں میں ان کا داخلہ بند ہو سکتا ہے۔ آپ سے زیادہ تدبر کا مظاہرہ تو عمران خان نے کیا اور آزادکشمیر میں مسلم لیگ کے وزیراعظم کو برداشت کیا اور ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھی۔
آزادکشمیر میں تحریک انصاف کی قیادت بھی دم سادھے بیٹھی ہے اور کوئی عمران خان کو یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کی انتخاب کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے۔بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی مقبولیت کے سارے دعوے زمین بوس ہو چکے ہیں اور اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی وہاں کی بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ دوسرے نمبر پر تحریک انصاف ہے۔ تنویر الیاس کی وجہ سے تحریک انصاف ان کے اپنے ضلع باغ میں شدید مشکل صورتحال سے دوچار رہی ہے اور نتائج نے تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے مقبولیت کے دعوے کو بے نقاب کر دیا۔ تنویر الیاس کے بے خودی اور جھومنے کی ویڈیوز نے بھی جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا ہے۔ ان حالات میں ازادکشمیر کے وزیراعظم اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان تناؤ کی کیفیت کسی طور بھی ریاست کے لیے سود مند نہیں ہو سکتی۔ دونوں فریقین اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور جن کی زبانیں بے لگام ہوئی ہیں انہیں لگام دی جائے۔

تبصرے بند ہیں.