افضال احمد کی موت اور ہمارا سماجی رویہ

15

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اور موت سب سے بڑی متضاد کیفیت کا نام ہے۔اس سے سر مو انحراف اور روگردانی خالق کائنات سے ضد کا نام ہے۔ جب اس نے کہہ دیا کہ ”ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے“تو پھر اس سب بڑی حقیقت کو جھٹلانا صاحب قرآن کے لیے تو کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کرا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائیگا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہوجائے گی۔اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا۔کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے۔
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لیے دوڑے۔سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لیے میری ہوجائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا۔بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہوگیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہوگئی۔جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی۔ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں۔ ہم اللہ رب العزت کو حاصل کرنے کے بجائے اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں لیکن کبھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پالیا جائے۔ اگر مالک ہمارا ہوگیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہوجائیں گی۔
فلم انڈسٹری کے مایہ ناز ادکار سید افضال احمد عرف افضال چٹا انتقال فرما گئے اور ہمارے سوشل میڈیا کو انکی عبرتناک اور بے کسی کی موت پہ ڈھنڈورا پیٹنے کا موقع مل گیا اور خوب مل گیا جبکہ حالات اس امر سے قدرے مختلف ٹھہرتے ہیں۔
افضال احمد جو تماثیل تھیٹر کے بانی اور انتہائی امیر اور کھاتے پیتے شخص تھے پچھلے اکیس سال سے فالج کے مرض میں مبتلا رہے اور مرتے دم تک وہ شاہانہ زندگی ہی بسر کرتے رہے۔ فالج کے باوجود انہیں سنبھالنے والے اور انہیں ادویات دینے کے لیے انکے اپنے اور گھریلو ملازمین موجود تھے۔انکے ملازم انکو صاف ستھرا کر کے وہیل چیئر پہ باقاعدہ روزانہ ٹہلاتے اور سیر کراتے تھے۔ گھر میں انکی بہن باقاعدگی سے انکی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ مین رائے ونڈ روڈ کے بالکل عقب سوسائٹی کے عین سامنے دس بارہ کنال کا ان کا فارم ہاؤس ہے جو اس وقت اربوں روپے کی جائیداد ہے۔ بالکل اس کے برابر میں تین چار کنال زمین انہوں نے ایک نرسری والے کو کرایہ پہ دے رکھی ہے جس کا ماہانہ کرایہ لاکھوں میں ہے۔اس کے علاوہ تماثیل تھیٹر ابھی تک انکی ملکیت ہے اور اس کی دیکھ بھال اور حساب کتاب کا گوشوارہ انکے منیجر کے پاس ہے۔یہ تمام انکم افضال احمد کی اپنی ذاتی جیب میں جاتی تھی۔
انہیں تین روز پہلے برین ہیمرج ہوا یعنی دماغ کو فالج ہوا۔ اس وقت برین ہیمرج کے لیے سب سے بہترین اور جدید علاج جنرل ہسپتال لاہور ہی ہے۔ انہیں فوری طور پہ وہیں لے جایا گیا تاکہ بروقت طبی امداد دی جاسکے۔ اس ہسپتال میں سب سے زیادہ رش ہوتا ہے لواحقین تو ایک طرف مریض کو بھی بے پناہ ہجوم کی وجہ سے دو دو ہی ایک بیڈ پر لٹانے پڑتے ہیں بس ایسی ہی کوئی گھڑی تھی جو کسی نے انکی کسمپرسی کی حالت والی وہ تصویر اپنے موبائل سے اتار لی اور سوشل میڈیا پہ ترس کھانے اور عبرت دلانے کے لئے ڈال دی جسے ہمارے نام نہاد دانشوروں نے بنا تحقیق پھیلا دیا اور ہم عوام ان پہ ترس کھانے لگے عوام نے ان کے گناہ گار ہونے اور عبرتناک و بھیانک انجام ہونے پہ کیسی کیسی مہریں مثبت کریں۔ یہ نام پڑھ کے عقل دنگ رہ گئی کیونکہ وہ ایک اداکار تھے اس لیے لازمی ہے کہ وہ گناہ گار بھی ہیں لیکن ہم ناظرین جو یہ اداکاریاں دیکھتے اور صدا کاریاں سنتے ہیں ہمیں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ سب انکے فن دیکھ سن کر بھی جنتی ہی رہتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں پَر ہوتے ہیں۔ یہ تمام تفصیلات ہمیں رات گئے انکی پڑوسن نے دیں جو اس تمام صورت حال سے شدید رنجیدہ تھیں کہ جو حقیقت ہے اسے لکھ کے لوگوں کو آگاہ کریں۔ فالج کی وجہ سے افضال احمد اپنے اعضا کو حرکت دینے سے قاصر تھے لیکن ان کا دماغ مکمل حواس میں تھا ہماری دوست کی فیملی سے اکثر گپ شپ لگاتے تھے اشاروں سے اپنی بات سمجھا لیتے تھے خوش بھی ہوتے تھے ہنستے بھی تھے فالج کے ساتھ پوری سوسائٹی میں گھومتے پھرتے تھے اور اچھے جی رہے تھے یہ دونوں تصاویر ہماری دوست کے لان کی ہیں جو انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنے موبائل سے بنائی ہیں فالج کے باوجود دیکھ لیجیے کتنے صاف ستھرے نظر آرہے ہیں بلکہ آثار بتا رہے ہیں کہ بال بھی ڈائی کئے جاتے ہیں۔ ہماری دوست نے ایک بار تجسس میں انکے نوکر سے گفتگو کے دوران کافی معلومات حاصل کیں کہ انکے گھر والے روٹین میں وزٹ کرتے ہیں (انکی تین بیٹیاں ہیں جو بیرون ملک میں ہیں) باقاعدہ انہیں فون کرتی ہیں ملازمین کو ہدایات دیتی ہیں انکی بہن ہیں جو اپنے بھائی کا بہت زیادہ خیال رکھتی ہیں شریک حیات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ داغ مفارقت دے گئی ہیں یا داغِ جدائی بہرحال اب انکی زندگی میں نہیں تھیں۔ دنیا بھی عجیب جا ہے اور سوشل میڈیا عجیب تر۔ فیس بک اور الیکٹرانک میڈیا پہ نیگیٹوٹی مایوسی بیچارگی کو خوب خوب پرموٹ کیا جاتا ہے۔ زبانی ترس کھا کے ہمیں تسکین ملتی ہے۔ یہ جتنوں نے ترس کھاتی پوسٹ لکھی عملی طور پہ انہوں نے کیا کیا؟ لہٰذا ضروری ٹھہرتا ہے کہ زندگی میں مثبت کردار کو فروغ دیا جائے اور دنیا بنانے والے مالک کو اپنا مالک بنا لیا جائے۔ایسا کرنے سے زندگی کا سارا بھیانک پن، تمام ہولناکیاں، سفاکیاں اور چالاکیاں جنم نہ لیں سکیں۔

تبصرے بند ہیں.