غریب کو بیمار ہونا مہنگا پڑے گا

14

سیاسی رسہ کشی تو پچھلے چار سال سے جاری ہے۔ہمارے حکمرانوں اورتمام سیاسی پارٹی کے لیڈران سمیت سب فکر مند ہوتے ہیں کہ کہیں جمہوریت کو خطرہ نہ آجائے۔مگر ملک کے باقی سب مسائل گئے تیل لینے بس جمہوریت کو خطرہ نہیں آنا چاہیے۔اب اس چکر میں جہاں مہنگائی اور کرپشن اس ملک کو مسلسل دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہاں اب ایک عرصہ سے اس ملک کے عوام کی صحت سے کھیلا جا رہا ہے۔جیسے اوپر بیٹھے حکمرانوں پہ سب جائز ہے ویسے ہی نیچے عوام بھی دو نمبری کرنے یا کسی کی بھی صحت سے کھیلنے میں بالکل رعایت نہیں برتتے بس پیسہ آنا چاہیے چاہے وہ کسی کی جان سے کھیل کر ہی کیوں نہ آئے۔ہمارا ہیلتھ سیکٹر اتنا کمزور ہے کہ اُن کی ناک کے نیچے کیسے کیسے دو نمبریاں ہوتی ہیں اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔
اس ملک میں ویسے تو ڈاکٹرز کی بھر مار ہے مگرایک طریقہ جس کے تحت عوام کی صحت سے کھیلا جا رہا ہے اور جس کا ہمارا ہیلتھ سیکٹر آج تک اس ملک سے صفایا نہ کر سکا وہ ہے اتائی ڈاکٹرز۔جو چند پیسوں کی خاطر عوام کی جانوں تک کے ساتھ کھیل جاتے ہیں۔جب سی او ہیلتھ پہ اوپر سے پریشر آتا ہے تو وہ اپنی چھاپہ مار ٹیموں کو اُن کے متعلقہ علاقوں میں ایسے کئی اتائی ڈاکٹرز کا صفایا کرنے بھیجتے ہیں تب وہ ٹیمیں اپنے اپنے علاقوں میں ان ڈاکٹرز کے کلینک بند کرنے نکلتی ہیں مگر افسوس ہمارے ملک کا قانون اتنا کمزور ہے کہ ایک پھونک سے اُڑن چھو ہو جاتا ہے اور سب کام تواتر اُسی رفتار سے چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ چھاپہ مار ٹیمیں ان اتائی ڈاکٹرز کے کلینک سیل تو کرتی ہیں مگر افسوس دو روز کے بعد پھر سے اُن کے کلینک کھلے ہوتے ہیں وہ کیسے کہ اُن افسران کی تو پھر چاندنی ہو جاتی ہے اور اُن کی منتھلی لگ جاتی ہے اور اُنہی افسران کی ناک تلے وہ اپنا دھندہ چلائے رکھتے ہیں۔ اس سے دو نتائج میری نظر میں ہیں ایک تو شاید ان افسران کی تنخواہ شرح مہنگائی کے مقابلے کم ہے اور ان کا گزر بسر بہتر نہیں ہو پا رہا جسکی وجہ سے وہ ایسا عمل کرنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر ایسی بات ہے تو وہ اپنے مسائل کو اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے رکھیں تاکہ اُن کو اس گھناؤنے دھندے کی پشت پناہی نہ کرنا پڑے۔
دوسرا عمل میری نظر میں وہ شاید راتوں رات امیر ہونا چاہتے ہیں جسکی وجہ سے اس گھناؤنے عمل کا
حصہ بنتے ہیں اس عمل سے چھٹکارہ کے لیے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ ایریا وائز جو ڈرگ انسپکٹر بھرتی کیے ہوتے ہیں اُن سے ویکلی رپورٹ لی جائے اور خود بنا اطلاع کیے حتیٰ کہ اپنے ایریا انسپکٹرز کو بھی بھنک نہ لگے کہ آج کس ایریا میں وہ گشت کے لیے جا رہے ہیں۔ہیڈ اس کام کو توہین سمجھے گا مگر سرکار اُس کو اسی کام کی تنخواہ دیتی ہے اور اسی عوام کے پیسوں سے ہی تنخواہیں دی جاتی ہیں جن کی جانوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔
دوسرا،اہم فیکٹر جعلی ادویات کا گھناؤنا دھندہ جو بہت تیزی سے ملک میں بڑھ رہا ہے۔میں نے خود کئی ایسی میڈیسن بنانے والے کارخانے لفظ میں بولوں گی جو کمپنیوں کی شکل اختیار کر چُکی ہیں جن کی لیبارٹریز مٹی تلے دبی ہوئی ہیں۔ اُن کو لائسنس بھی ایشو با آسانی ہو جاتا ہے۔اُنکے لائسنس ایشو ہونے میں بھی پی آر او،یا پرسنل ریلیشن کام آجاتا ہے،ادارے کی ٹرمز اینڈ کنڈیشن ملیا میٹ ہو جاتی ہیں۔اس کا حل بھی یہی ہے کہ لائسنس ایشو کرنے کے جو رولز ہیں اُن کو ریوائز کیا جائے تاکہ ہر کوئی با آسانی لائسنس ایشو کرا کر عوام کی قیمتی جانوں کے ساتھ نہ کھیلے۔
دو اہم چیزیں جو پچھلے 4 سال میں دیکھنے کو ملی ہے وہ ادویات کی قلت وہ ادویات جو وقت کی ضرورت ہوتی ہیں جب کوئی بھی وبا پھیلتی ہے تو بیماری سے متعلقہ اُس دوا کو مارکیٹ میں شارٹ کر دیا جاتا ہے،یا پھر وہ میڈیسن جس کی سیل ریشو مارکیٹ میں زیادہ ہوتی ہے اُس کو پہلے مارکیٹ میں شارٹ کیا جاتا ہے اور پھر اُس کو مہنگے داموں بیچا جاتا ہے پھر مارکیٹ میں اُسی میڈیسن کو دوبارہ لانے کے لیے اُس کی قیمت میں اضافہ کرکے اُس کو پھر سے عوام تک رسائی عام کی جاتی ہے۔ابھی پچھلے دنوں مارکیٹ سے انسولین غائب تھی اور شوگر کا مریض جس کے لیے انسولین اُس کے کھانے سے بھی زیادہ ضروری ہوتی ہے اُن کو اپنی ڈوز کم مقدار میں میسراور مہنگے داموں خریدنا پڑی ایک ہفتہ مارکیٹ میں انسولین شارٹ رہی اور جیسے ہی دوبارہ انسولین مارکیٹ میں آئی تو اُس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ایک بات جو میں نے پرسنلی واچ کی وہ یہ کہ میڈیکل سٹور والوں کے پاس انسولین کچھ موجود بھی تھی مگر وہ اپنے تعلق رکھنے والوں کو تو دے رہے تھے مگر عام عوام کو نہیں دی جا رہی تھی۔
یہ سب عمل مقامی کمپنیوں کی جانب سے متعدد ادویات کی پیداوار روکنے کے فیصلے کے بعد ادویات ساز اداروں اور ڈرگ ریگولیٹری باڈی کے درمیان رسہ کشی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے جسکی وجہ سے مارکیٹ میں ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے معروف ہسپتالوں کے ماہرین صحت کی طرف سے مرتب کی گئی تقریباً 40مختلف ادویات کی فہرست اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقامی طور پہ تیار کردہ کئی گولیاں، شربت، انجیکشن اور مرہم یا قطرے دستیاب نہیں ہیں۔
کمپنیاں ادویات کی قلت کا سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بتاتی ہیں۔ مزید یہ کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے میڈیسن کی قیمتوں میں 40%اضافہ متوقع ہے۔ اب غریب کے لیے بیمار ہونا بھی مہنگا پڑے گا۔ ماہرین صحت نے تو اس بحران کا اندازہ کرنا شروع کر دیا ہے او روہ حکام سے فوری مداخلت کے خواہاں ہیں، صورتحال اتنی گمبھیر شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کہ عوام کو ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ جہاں آٹا،چینی،گھی،کی قیمتوں اور مسائل کا سامنا تھا وہاں اب مہنگی ادویات کا بھی سامنا ہوگا۔جیسے کھانے پینے کی اشیاء میں ذخیرہ اندوزوں نے اپنا کام دکھانا ہوتا ہے ٹھیک اُسی طرح ہیلتھ سیکٹر میں بھی چھپی کالی بھیڑیں اپنا کام دکھا رہیں ہیں جن کا صفایا کسی بھی دور میں نہ کیا جا سکا۔
حکومتی سطح پہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تیار کی اور اُس ٹاسک فورس نے ادویات بنانے والی کمپنیوں سے ملاقاتیں بھی کیں اور انہوں نے بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز پیش کی اور وجہ سبب خام مال کا مہنگا ہونا کہا گیا ہے۔
فارما سوٹیکل انڈسٹری کا دعویٰ ہے کہ مقامی مینوفیکچررز بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خام مال کی درآمد بند ہونے کی وجہ سے، حکومتی سطح پہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت نہیں ہے، میڈیسن کمپنیوں کے لیے ادویات بناناناممکن ہو گیا ہے۔ اس ساری صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اگر فوری طور پہ حکومتی سطح پہ کوئی بہتر حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو معاملہ مزید گمبھیر صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ ان تمام مسائل کا سامنا آخر تو عوام ہی کو کرنا ہے کیونکہ جس ملک کے حکمران خود علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہوں وہاں کے عوام کے صحت کے مسائل کبھی درست راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔

تبصرے بند ہیں.