کیا یہ ایسے ہی چلتا رہے گا

13

عمران خان نے اپنے ایک انٹر ویو میں صدارتی نظام حکومت کی بات کی ہے ۔ انھوں نے پہلی مرتبہ یہ بات نہیں کی لیکن وہ صرف صدارتی نظام کی بات نہیں کرتے بلکہ کبھی انھیں چین کا نظام اچھا لگتا ہے تو کبھی انھیں ایرانی ماڈل آئیڈیل نظر آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن در حقیقت انھیں اس میں سے کسی نظام سے بھی کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان کا مقصد ایک ایسا مطلق العنان حکمران بننا ہے کہ جس میں تمام اختیارات عمران خان کی اپنی ذات میں جمع ہو جائیں ۔ ایسا دور ملوکیت میں تو ممکن تھا لیکن آج کے مہذب جمہوری دور میں ایسا ممکن نہیں اور اگر کسی طرح عمران خان کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو بھی جائے تو تب بھی وہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی نہیں کر سکتے اس لئے خان صاحب کی معصوم سی آمرانہ خواہشات پر پھر کبھی بات کریں گے ۔ آج تو بات کرتے ہیں کہ عمران خان کی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد کوئی خاص سیاسی پیش رفت نہیں ہوئی یا یہ کہہ لیں کوئی بہت بڑی خبر سامنے نہیں آئی اورلگتا ہے کہ گذشتہ نو ماہ سے جس سمندر میں عمران خان نے انتشار ، ہیجان اور عدم استحکام کا تلاطم بپا کر رکھا ہے مخالفین کے لئے اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور امن ، شانتی اور استحکام کے جتنے بھی ساحل ہیں خان صاحب زبر دستی انھیں اپنے نام رکھنا چاہتے ہیں ۔نئے آرمی چیف کے تقرر اور ان کے عہدہ سنبھالنے پر ہم نے گذشتہ کالم میں کہا تھا کہ اب ملک میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو جائے گا ہم اپنی بات پر قائم ہیں اور قوی امید ہے کہ ایسا ہی ہو گا لیکن یہ بات عمران خان کو سمجھ نہیں آ رہی اور وہ تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت کے بجائے اسے ایک پریشر گروپ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انھیں اس میں کامیابی نہیں ہو گی اس لئے کہ پریشر گروپ کے لئے سوشل میڈیا سے ہٹ کر سٹریٹ پاور کی ضرورت ہوتی ہے جو کئی ماہ کی بے کار اور بے معنی فضول مشق کے بعد ثابت نہیں ہو سکی ۔ جس دن خان صاحب کو نا اہل قرار دیا گیا تھا اور اس سے بھی بڑھ کر جس دن وزیر آباد میں ان پر فائرنگ کا واقعہ ہوا تو اس کے بعد ملک میں کسی جگہ بھی کوئی ایسا احتجاج نہیں ہوا کہ جہاں پر انتظامیہ کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے لیکن ظاہر ہے کہ عمران خان ایک مقبول عوامی رہنما ہیں اور اس سے انکار ممکن نہیں لیکن آزاد کشمیر کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج کے بعد ان کی بے پناہ مقبولیت پر یقینا ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔
جہاں تک دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات ہے تو اگر تحریک انصاف ایسا کرتی ہے تو نگران سیٹ اپ پر اتفاق رائے اور اس کے بعد نوے دن کے بعد انتخابات اور پھر حکومت بنانے کے مراحل تو یہ کم و بیش چار ماہ کا عرصہ درکار ہو گا اور ان چار ماہ کے دوران یقینی بات ہے کہ عمران خان صاحب کو خیبر پختونخوا کے ہمہ وقت دستیاب ہیلی کاپٹر کی سہولت کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سی سہولیات جن کے دم سے اس وقت زمان پارک کسی آہنی پردے کے پیچھے نظر آ رہا ہے یہ سب عیاشیاں تو ختم ہو جائیں گی اور اس سے بھی بڑی جو سب سے اہم بات ہے کہ جسے صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے بہت سے بندے کسی طور نظر انداز نہیں کر سکتے کہ صوبوں میں اپنی حکومتیں ہونے کی وجہ سے خان صاحب اور دیگر افراد کو جو مسلسل این آر او مل رہے ہیں وہ نہیں مل سکیں گے ۔اس بات سے حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ این آر او صرف ان کیسز کے خاتمہ کو نہیں کہتے کہ جو نیب ، ایف
آئی اے یا یہ کہہ لیں کہ وفاق کی سطح پر ختم ہوں بلکہ صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی اگر عمران خان، فرح گوگی اور دیگر افراد پر کروڑوں اربوں کی کرپشن کے کیسز کو ختم کر رہا ہے تو اسے بھی این آر او ہی کہیں گے تو اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں جیسے ہی نگران سیٹ اپ قائم ہو گا تو دونوں صوبوں میں ہونے والی کرپشن پر پوری تحریک انصاف کو جو این آر او مل رہے ہیں وہ یک لخت ختم و جائیں گے اور یہ سب باتیں کو ئی راکٹ سائنس نہیں کہ کسی کو سمجھ نہ آ سکے اسی لئے یہ سب اور اس سے بھی کہیں زیادہ چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کو بتائی ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں جو پارٹی پوزیشن ہے اس میں تو قسمت کی دیوی چوہدری صاحب پر مہربان ہو گئی اور فقط دس ارکان کے بل بوتے پر وزیر اعلیٰ بن گئے لیکن نئے انتخابات کے بعد تو اس طرح کی لاٹری نہیں لگے گی اور نہ ہی چوہدری صاحب کو وزارت اعلیٰ ملنے والی ہے تو وہ عمران کے کہنے پر بیشک پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں لیکن ان کی کوشش ضرور ہو گی اور سوچیں گے بھی کہ ایسا نہ ہو تو بہتر ہے ۔
دوسری طرف حکومتی اتحاد جس میں نواز لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کو ہر ممکن طریقہ سے روک سکے ۔ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں تو تحریک انصاف کی واضح اکثریت کی وجہ سے حکومتی اتحاد کو مشکل ہو گی لیکن پنجاب اسمبلی میں وفاق کے پاس عدم اعتماد ، گورنر کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا اور گورنر راج کے آپشن موجود ہیں لیکن ان میں سے کوئی آپشن کارگر ہوتا بھی ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا اس لئے کہ دونوں اطراف سے اپنی اپنی حکمت عملی کو پوشیدہ رکھا جا رہا ہے لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ آئین کے تحت ارکان اسمبلی دو صورتوں میں نا اہل ہو سکتے ہیں ایک پارٹی ہدایات کے برخلاف اعتماد یا عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنا اور دوسرا بجٹ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا۔ ان دو صورتوں سے ہٹ کر فرض کر لیں کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی اکثریت صوبہ میں گورنر راج کی قرارداد منظور کر لے تو اس صورت میں ان کے لئے نا اہلیت کا خطرہ نہیں رہے گا اور وفاق کے لئے گورنر راج لگانا آئینی طور پر آسان ہو جائے گا ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تحریک انصاف کے لئے یہ بات نگران حکومت سے بھی کہیں زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس میں تو ان کے خلاف جو کیسز ہیں ان کی انکوائریوں کو سمجھیں کہ دوڑیں گی نہیں بلکہ انھیں تو پر لگا کر اڑایا جائے گا لہٰذا کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا یہ سب امکانات موجود ہیں لیکن وفاقی حکومت کا پلڑا ہر دو صورت میں بھاری رہے گا اس لئے کہ اس کے پاس زیادہ قانونی اختیارات ہیں لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ایسا آخر کب تک ہوتا رہے گا اور اس ملک کے ارباب اختیا چاہے جن میں حکومت اور سول و ملٹری بیوروکریسی تمام فریق شامل ہیں ان سے سوال ہے کہ بات کسی کی سیاسی پسند یا نا پسند کی نہیں بلکہ ملک میں سیاسی استحکام کی ہے اور اگر ملک اسی طرح کسی کے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھتا رہتا ہے تو اس کا ذمہ دار صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ جن پر اسے روکنے کی ذمہ داری ہے وہ بھی اس میں برابر کے شریک ہوں گے ۔

تبصرے بند ہیں.