بربادی کا ذمہ دار کون ؟

13

آج ہمارے ہاں جمہوریت کا راگ الاپنا اور اس کو درپیش خطرات کا واویلہ کرنا جیسے ایک سیاسی تسبیح بن چکی ہے، جس سے نا اہل حکمران اپنی کرسی بچانا چاہتے ہیں۔ مگر پسِ پردہ عوام پر مہنگائی، غربت، مفلسی مسلط کرنا کسی طور ریاستی حکمرانوں کے لئے اقتدار کا جواز نہیں چھوڑتا۔ ہم پر کس قسم کی جمہوریت مسلط ہے اس کا تجزیہ ہمیں یہ باور کرانے کے لئے کافی ہے کہ پارٹیوں پر آمر مسلط ہیں جن کی حکومت کو بے وردی آمروں کی حکومت ہی کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی جمہوریت آج ناپید ہے۔ ہمیں آزاد ہوئے 75 سال ہو گئے ہیں اور انفرادی طور پر ہمیں ہر قسم کی آزادی میسر ہے مگر من حیث القوم ہم آج بھی غلام ہیں۔ انگریز برِ صغیر میں آیا اس نے ہماری کمزوریوں کو سمجھا اور ہمیں تابع کر گیا کہ اس کے چنگل سے نکلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آتا ہے۔ انگریز ہمیں آزادی تو دے گیا مگر رخصت ہوتے ہوئے اپنی باقیات ہم پر کسی آسیب کی طرح مسلط کر گیا۔ ہمیں ایسا نظام دے گیا کہ جسے درست کیا ہی نہ جا سکتا ہو، سیاست کے لئے ایسے خاندانوں کا انتخاب کیا جو اس کی مملوک کے طور پر نسل در نسل غلام رہ سکتے ہیں، جنہیں مذہب اور قوم سے کچھ غرض نہ ہو صرف اور صرف اپنی ذات تک محدود ہوں، ایسا پارلیمانی نظام کہ جس میں بیوروکریسی کو سیاستدانوں کے روپ میں آسانی سے مسلط کیا جا سکتا ہو۔ ہمیں تنازعوں، غربت اور قرضوں کے جال میں ایسا پھنسایا کہ ہم حقیقی غلامی کو بھی ترستے رہیں۔ سیاست کو ذات کا ایسا محور بنا دیا کہ سیاست دان عوام دوست نہ ہو، پست کردار ہو، جو اپنی اداکاری، حاضر دماغی، چرب زبانی کے جوہر دکھا کر پہلے اقتدار حاصل کرے اور جن کی وساطت سے وہ سیاست میں آیا ہو ان کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنا دین ایمان اور حب الوطنی سب بیچ ڈالے، یہاں تک کہ ہمارے سیاستدان خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو، مذہبی تنظیم یا پھر لسانی گروہ سے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انگریزوں کی چالبازیوں سے منسلک ہیں۔
اس وقت ملک میں رونما ہونے والے حالات و واقعات اسی عالمی گیمبلنگ کا حصہ ہیں۔ اس وقت
ہمیں مفلسی سے دوچار کر کے آپس میں لڑوا کر ہم پر حکومتیں مسلط کرنے کا عمل جاری ہے۔ ہمارے اوپر ایجنٹس یا پھر ان کے ذریعے اپنے نمائندے مسلط کر کے ہمارے وسائل سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جو آواز اٹھائے اس کی آواز دبا دی جاتی ہے، اگر زیادہ شور مچائے تو خرید لیا جاتا ہے اور خریدا نہ جا سکے تو مروا دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو حقائق کی گہرائی تک پہنچنا کچھ مشکل نہیں، قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی انگریز جرنیل جنرل ڈگلس کریسی کی تعیناتی اور سیاست میں عمل دخل، بھارت نواز حکمتِ عملی، پاک بھارت کشیدگی جیسے اقدامات اس قدیم عالمی گیمبلنگ کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ گریسی کے بعد خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان جنہوں نے گیارہ سال تک براہِ راست اور سات سال تک بالواسطہ طور پر اس ملک پر حکمرانی کی۔ ایوب خان کو قائدِ ملت لیاقت علی خان نے تین جرنیلوں میجر جنرل افتخار خان، میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل این اے ایم رضا کو نظر انداز کرتے ہوئے فور سٹار جنرل مقرر کیا۔ اس سے قبل سب سے سینئر جنرل میجر جنرل افتخار خان کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی مگر برطانیہ میں ایک ٹریننگ سے واپسی پر جہاز کریش ہونے سے وہ اور ان کے ساتھی جاں بحق ہو گئے، اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، برٹش آرمی کے اسی ریٹائرڈ میجر جنرل اسکندر مرزا کو ان کے احسانات کا بدلہ چکاتے ہوئے ایوب خان نے ہی صدر بنوایا تھا۔ اسکندر مرزا تاجِ برطانیہ کے لئے اپنے فوجی دور میں وزیرستان اور فرنٹئیر کے دیگر علاقہ جات میں وہی خدمات سرانجام دے چکے تھے جو پرویز مشرف اور ضیاء الحق نے بعد میں انجام دیں۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بانی پاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو راستے سے ہٹانے کے بعد عضوِ معطل قرار دئے جانے والے صوبہ بنگال کو علیحدہ ملک بنانے کا وقت قریب آیا تو ایوب خان کے کمزور کندھوں نے یہ بوجھ اپنے جانشین یحییٰ کو منتقل کر دیا، جنہوں نے انتہائی فنکاری کے ساتھ معاملات نبھاتے ہوئے سقوطِ ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔ اس وقت کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب متحدہ پاکستان پر راضی ہو چکے تھے، لیکن اسے کامیاب نہیں ہونے دیا گیا آج کہا جا رہا ہے کہ سقوطِ ڈھاکا کے اسباب فوجی نہیں سیاسی تھے جب کہ جنرل یحییٰ خان نے گھمبیر سیاسی معاملات فوجی ایکشن سے حل کرنے کی غرض سے ملک کی نصف سے زائد آبادی پر فوج کشی کر دی جس سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے والے حمود الرحمان کمیشن نے اپنی تحقیقات کے بعد مشرقی پاکستان میں فوجی شکست کا ذمہ دار جن تیرہ سینئر آرمی آفیسرز کو ٹھہرایا ان میں سے بارہ افسروں کو پوری فوجی مراعات اور پنشن کے ساتھ بھٹو حکومت کے آرمی چیف نے ریٹائر کر دیا۔ حمود الرحمان کمیشن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مکمل اور حتمی ذمہ داری اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان، لیفٹیننٹ جنرل پیرزادہ، میجر جنرل عمر اور لیفٹیننٹ جنرل مٹھا پر عائد کی تھی۔

تبصرے بند ہیں.