کڑے وقت میں سعودی امداد مگر ہمارا حال؟

14

تا ریخ شاہد ہے کہ سعودی عرب ہماری پوری قومی تاریخ میں روز اول سے ہر طرح کے حالات میں پاکستان سے سچی دوستی کا حق ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ آج جب پاکستان ایک بار پھر سابقہ ناقص معاشی اور خارجہ پالیسیوں اور حالیہ سیلاب سے ہونے والے شدید نقصانات کے سبب سنگین چیلنجوں سے دوچار ہے تو سعودی حکومت پھر پاکستان کی پشت پر کھڑی ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب سے واپسی کے بعد قوم کو یہ خوش خبری سنائی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور 12 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری کا منصوبہ ساتھ لائیں گے۔ جمعے کوپولیس سروس آف پاکستان کے 48 ویں ایس ٹی پی بیج کی پاسنگ آو¿ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ وہی منصوبہ ہے جس کی پیشکش سعودی عرب نے تین سال پہلے گزشتہ دور میں کی تھی لیکن اس وقت کی انتظامیہ اس پر کوئی پیش رفت نہ کرسکی۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ رویہ اسی ایک معاملے میں نہیں پاکستان کے لیے سعودی عرب کے پیش کیے ہوئے متعدد منصوبوں میں روا رکھا گیا۔ اس کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ چند دن پہلے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کا وفد پاکستان آیا تھااور ملاقات پر اس نے پچھلے دور کے خلاف شکایات کا پلندہ کھول دیاکہ یہ منصوبہ ہم نے 8 سال پہلے دیا تھا۔ یہ 6 سال پہلے دیا تھا، ان میں ایک منصوبہ اسپتال کا بھی تھا جو بطور تحفہ دیا تھا لیکن اس پر جوں تک نہ رینگی، باقی منصوبے بہت ہی نرم شرائط پر تھے لیکن وہ سب الماری میں پڑے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی وفد کو بہت اچھے طریقے سے سمجھایا ، اپنی ٹیم کے سامنے سعودی وفد سے معافی مانگی اور ان سے دو روز کی مہلت لی ، وہ رکے اور دو دن بعد دوبارہ آئے تو رکے ہوئے منصوبوں کی ہر چیز مکمل تھی۔ کئی سال کا پلندہ جو گرد آلود تھا صرف 48 گھنٹے میں اس کی منظوری ہو گئی۔ موجودہ حکومت کی اس تیزرفتار کارکردگی سے وزیر اعظم کے مطابق سعودی ٹیم بھی بے حد متاثر ہوئی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب کے حالیہ دورے میں بھی اس معاملے پر بات ہوئی، جس پر میں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی معافی مانگی۔ سعودی ولی عہد نے اس سابقہ ناقص کارکردگی کو کشادہ دلی سے نظر انداز کرتے ہوئے حالیہ ملاقات میں پاکستانی قوم کے لیے وزیر اعظم کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کیلئے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جو کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے ایسے مخلص اور سچے دوستوں کی حقیقی معنوں میں قدر کرنا اور ان کی معاونت سے پورا فائدہ اٹھانا ہماری حکومتوں اور انتظامی مشینری کا فرض عین ہے ۔ سعودی حکومت کے تعاون پر ماضی میں اپنائے گئے رویوں سے واضح ہے کہ ہماری موجودہ زبوں حالی میں درست معاشی حکمت عملی کے فقدان ہی کا نہیں خارجہ محاذ پر کی گئی سنگین غلطیوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اسی حوالے سے کہا کہ چین اور سعودی عرب ہمارے دیرینہ دوست ہیں اور انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے، امریکا سے تعلقات بگاڑنے کی کیا ضرورت تھی، ہم کو دنیا میں بسنا ہے، آ بیل مجھے مار، کہاں کی پاکستانیت اور خدمت ہے۔ وزیراعظم نے کہا اگر وژن، عزم، امانت اور دیانت ہو تو ریت بھی سونا بن جاتی ہے لیکن ہم 75 سال سے ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ صورت حال پوری پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ قومی ترقی کے لیے ایسی سیاسی قیادت کا تسلسل ضروری ہے جو اہلیت، دیانت، عزم اور بصیرت کے ہتھیاروں سے لیس ہو، جس کی ماضی کی کارکردگی ثابت کرتی ہو کہ وہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی پوری طرح اہل ہے جبکہ یہ پاکستانی قوم کا امتحان ہے کہ وہ ایسی قیادت کو پہچانے اور ملک چلانے کیلئے اس کا انتخاب کرے۔
تاہم یا د رکھنے کی بات یہ ہے اب وقت آگیا ہے جب ہمیںما نگی ہو ئی مچھلی پہ گذارہ کرنے کی بجا ئے مچھلی پکڑنا سیکھ لینا چا ہیے۔ مگر ہما رے حالا ت تو یہ ہیں کہ ہما ری قومی معیشت پچھلے کئی برسوں سے مختلف مقامی اور بین الاقوامی اسباب کی بنا پر جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے،اس کے باعث مہنگائی و بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن صورت حال میں جلد بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ان اسباب میں کورونا کی عالمی وباءکے بعد روس اور یوکرین کی جنگ، پٹرول اور گیس کا بحران اور پھر پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے اثرات نیز سیاسی افراتفری خاص طور پر اہم ہیں۔مروجہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں شرح سود کو معاشی کنٹرول کا آلہ تصور کیا جاتا ہے۔مہنگائی بڑھ رہی ہو تو شرح سود بڑھا کر مہنگائی میں کمی کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس سے معاشی سرگرمی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے جس سے قومی پیداوار گھٹتی اور کساد بازاری و بے روزگاری بڑھتی ہے ۔ حالات نے ہماری قومی معیشت کو اسی کیفیت سے دوچار کررکھا ہے۔ بینک دولت پاکستان نے گزشتہ روز معاشی حلقوں کے مطابق بہت غیر متوقع طور پر شرح سود15 سے بڑھا کر 16 فی صد کردی ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیاہے کہ مہنگائی کا دباو توقع سے زیادہ رہا جو اگلے سال بھی جاری رہنے کا امکان ہے ۔امسال درآمدات 20.6برآمدات 9.8جبکہ ترسیلات زر 9.9ارب ڈالر رہیںرواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں میں جاری کھاتے کا خسارہ کم ہو کر 2.8 ارب ڈالر پر آ گیارواں مالی سال شرح نمو 2فیصد جبکہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ا وسط مہنگائی 21 سے 23 فیصد رہنے کا امکان ہے بیرونی کھاتے کی دشواریاں برقرار ہیںبجلی کی پیداوار میں مسلسل پانچویں مہینے کمی ہوئی اور یہ 5.2 فیصد تک گر گئی توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں بالترتیب 35.2اور 35.7فیصد اضافہ ہوامالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد سے بڑھ کر ایک فیصد ہو گیا۔اعلامیے کے مطابق شرح سود بڑھانے کا مقصد مہنگائی کے رجحان کو روکنا ، مالی استحکام کو درپیش خطرات پر قابو پانا اورزیادہ پائیدار بنیاد پر بلند نمو کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اور یہ کہ معاشی سست روی کے دور میں مہنگائی کو مسلسل عالمی اور رسدی دھچکوں کے سبب تحریک مل رہی ہے جس سے لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھل رہے،گیس اور بجلی کی قلت سے کارخانے بند ہورہے ہیں،زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں ہیں، ان حالات میں شرح سود میں مزید اضافہ معیشت کو بالکل ہی زمیں بوس کردے گا۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت کا یہ موقف حقائق کے عین مطابق ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لائق بنانے کیلئے صنعتی وکاروباری حلقوں اور ملک کے ممتاز اقتصادی ماہرین کی مشاورت سے ایسے غیرمعمولی اقدامات عمل میں لائے جائیں جو قومی معیشت کو مزید زبوں حالی سے بچاتے ہوئے استحکام کی راہ پر گامزن کرسکیں اوروزیر خزانہ کو اس مقصد کیلئے فوری پیش رفت کرنی چاہئے ۔

تبصرے بند ہیں.