ڈینگی وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

12

ڈینگی بخار کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مرض کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتایا جائے اور ان پر عمل کرنے کی بار بار تاکید کی جائے تاکہ مرض کی وبائی صورت ختم ہو سکے۔ بصورت دیگر ڈینگی خطرناک حد تک نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں کرونا کی وبا نے پاکستان پر حملہ کیا اور پچھلے 3 سال میں لوگوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ رواں سال سیلاب کی وجہ سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے زیادہ تر حصے زیرآب آنے اور تقریباً 3 کروڑ کے قریب افراد کے متاثر ہونے کی وجہ سے ان میں خوراک کی کمی اور بیماری کے خلاف مدافعت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے بھی ان علاقوں میں ڈینگی کا حملہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
ڈینگی سے بچاؤ کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کا علم ہونا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ڈینگی مچھر تازہ پانی میں اور وہ بھی گھروں کے اندر رکھے برتنوں یا مرتبانوں میں جمع شدہ پانی کی وجہ سے پھیل جاتا ہے۔ لوگوں کو شاید یہ علم نہیں کہ کتنا پانی اس کی افزائش کے لئے کافی ہے۔ آپ سب کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ 5 روپے کے سکے جتنا پانی بھی اگر کسی مرتبان، پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے حصے یا پرانے ٹائروں میں موجود ہو تو اس میں ڈینگی کا مچھر سیکڑوں انڈے دے سکتا ہے جس سے لاروا اور بعدازاں مچھر بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے فوری طور پر اپنے گھر کے کمروں، برآمدوں، چھتوں اور ہر جگہ کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں بچوں کے پرانے کھلونے، ٹوٹے ہوئے برتن، پلاسٹک کے مرتبان یا پرانے ٹائر موجود ہوں ان کو خشک رکھیں اور جو فالتو سامان گھر میں موجود ہو اس کو ضائع کر دیں تاکہ کسی بھی ذریعے سے اس میں پانی آ کر ڈینگی کے پھیلاؤ کا باعث نہ بنے۔ ان تمام چیزوں میں سب سے خطرناک ٹائر ہیں جن کی اندرونی سطح کالی اور اس میں پانی جمع ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور روایتی طو رپر ڈینگی کا مچھر کالی اور ناہموار سطح میں موجود پانی میں زیادہ تیزی سے انڈے دے کر نشوونما پاتا ہے اس لئے گھروں کے اندر اور اطراف غیرضروری ٹائروں کو تلف کر دیں۔ گھروں میں اکثر گملوں میں اضافی پانی ڈال دیا جاتا ہے یا گملوں کے نیچے ٹرے رکھی جاتی ہے جس میں پانی جمع ہو جاتا ہے یا پھر فریج کے نیچے موجود ٹرے کو صاف نہیں کیا جاتا اور اس میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ افزائش نسل کی ان ممکنہ جگہوں کو صاف اور خشک رکھنا ضروری ہے تاکہ ان میں پانی جمع ہو کر ڈینگی کی افزائش نسل نہ ہو سکے۔
کسی بھی جگہ تازہ پانی پانچ سے سات دن کھڑا ہو جائے تو اس میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر نشوونما پا سکتا ہے اس لئے کہ اس پانی میں انڈے دینے، لاروا بننے اور پھر مچھر میں تبدیل ہونے میں کم وبیش ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں جہاں کسی زمانے میں ڈینگی بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا وہاں انہوں نے بہت ہی سادہ تکنیک استعمال کی اور گھروں، دفاتر اور کارخانوں میں موجود پانی کے ذخائر کو ڈھانپ کر رکھا اور کسی بھی کھلی جگہ پر پانی کو پانچ دن کے اندر اندر تبدیل کیا جانے لگا تاکہ اگر اس میں انڈے اور لاروے موجود بھی ہوں تو بھی یہ بہہ جائیں اور ان میں مچھر نہ پیدا ہو سکیں۔ اس سادہ سی تکنیک سے انڈونیشیا ڈینگی کے مچھروں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب ہوا اور ڈینگی مرض میں بھی کافی حد تک کمی دیکھنے کو آئی۔
ڈینگی کے مچھر کو ڈینگی وائرس حاصل کرنے کے لئے ڈینگی کے کسی مریض کو کاٹنا ضروری ہے۔ ڈینگی کے مریض کو کاٹنے کے دوران مریض کا خون مچھر کے جسم میں چلا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ وائرس بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ مچھر کے جسم میں کم وبیش پانچ سے سات دن تک یہ وائرس نشوونما پاتا ہے اور اس دوران ڈینگی وائرس میں کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جس کے بعد اس کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ کسی اور انسان میں ڈینگی کا مرض پھیلا سکے۔ اگر پانچ سے سات دن کے بعد وہ مچھر جس کے جسم میں ڈینگی کا وائرس نشوونما پا چکا ہو، کسی نارمل شخص کو کاٹے تو ڈینگی وائرس نارمل شخص کے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے اور اگلے چند روز میں اس کو ڈینگی کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اس لئے اگر کسی بھی گھر یا دفتر میں ڈینگی کا کوئی مریض موجود ہو تو آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ اس کے جسم میں پہلے تین سے پانچ دن تک ڈینگی وائرس کافی تعداد میں موجود ہوتا ہے اس لئے دوسرے لوگوں کو ڈینگی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اس مریض کو ایسے کمرے میں رکھا جائے کہ کوئی مچھر اسے نہ کاٹے۔ اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں مثلاً مچھر دانی کا استعمال، جسم پر مچھر بھگاؤ لوشن یا کریم کا استعمال، کمرے میں کوائل یا مچھر بھگاؤ سلوشن کا استعمال، اسی طرح IRS یعنی وہ سپرے جس کو گھر کی چاردیواری پر کر دیا جائے تو وہ کئی دن تک دیواروں پر موجود رہتا ہے جس دوران دیوار پر بیٹھنے والا ہر مچھر اس کیمیکل کے اثر سے مر جاتا ہے اور اس کے جسم میں اگر وائرس بھی ہو تو وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اگر ان احتیاطی تدابیر کے استعمال کیا جائے تو کسی مریض کے ہونے کے باوجود گھر کے باقی افراد ڈینگی کے مرض سے بچے رہتے ہیں اس لئے کہ ڈینگی کا مریض ایک سے دوسرے شخص کو متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ اکٹھے بیٹھنا، کھانا پینا، معمول کے میل جول سے یہ مرض منتقل نہیں ہوتا۔
ڈینگی مچھر جب کسی انسان کا خون پی لیتا ہے تو اس کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے اس لئے اس کی اڑان زیادہ اونچی نہیں ہوتی۔ وہ فرش کے قریب نچلی جگہ پر پرواز کرتا ہے اس لئے بیڈ کے نیچے، الماریوں کے نیچے، پردوں کے پیچھے اور گھر میں موجود دیگر فرنیچر کے آس پاس یہ موٹا مچھر پایا جاتا ہے۔ اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ان جگہوں پر مچھر مار سپرے یا IRS ضرور استعمال کریں تاکہ وہاں موجود اور وہاں چھپا ہوا مچھر مر جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ گھروں میں فرنیچر کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اس کے اطراف کی جگہوں کو صاف کیا جائے مثلاً الماریاں، میزیں اور بیڈ کو پندرہ دن میں ایک دفعہ ہٹا کر ان کے اطراف سے صفائی کی جائے اور مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ وہ مچھروں کی آماجگاہ نہ بن سکے۔ اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کریں گے تو ہم مچھر کی افزائش نسل کو کنٹرول کرسکتے ہیں اور ڈینگی وائرس کے ایک مریض سے دوسرے نارمل انسان تک منتقل ہونے کے عمل کو بھی کنٹرول کر کے ڈینگی کے مرض کو کم کر سکتے ہیں۔ یہ اتنی آسان سی باتیں ہیں جو ہر شخص اپنے گھر، دفتر، فیکٹری یا دکان پر ان پر عمل کر کے ڈینگی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.