درد کے ماروں کی درخواست برائے وزیر اعلیٰ پنجاب

73

ایک نہیں بلکہ دسیوں کالز مجھے روزانہ ہی موصول ہوتی ہیں۔ وہی دکھ، وہی کرب اور وہی المیہ!!! حکمرانوں کے بڑے اور لمبے دعووں کے باوجود بھی کچھ بھی بہتری نہیں آئی۔ گذرتے وقت کے ساتھ جس میں مزید خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ اربوں روپے کے بھاری بھر فنڈز اور شاندار عمارتوں کی تعمیر بھی کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دے پارہی۔ پنجاب کے تمام سر کاری ہسپتال عام آدمی کے لئے باعث اذیت بنتے جا رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ محکمہ صحت کے افسران کی نا ہلی، غفلت و لاپروائی کے علاوہ بڑے بڑے ٹھیکوں کی حرام خو ری میں حصے داری ہے۔
جناب وزیر اعلیٰ پنجاب! آپ ایک خدا خوفی رکھنے والے انسان دوست وزیر اعلیٰ ہیں۔ پنجاب میں عام آدمی کے لئے جو بھی سہولیات دی گئیں اس میں زیادہ تر آپ کے ہی دور اقتدار میں شروع ہوئیں۔ بلا شبہ آپ نے حالیہ دنوں میں شعبہ صحت کی ابتر صورتحال کو بہتر کر نے کے لئے کئی اقدا مات اٹھائے ہیں۔ لیکن یہ سب کاوشیں اور اقدامات اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب ان پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہو۔ جن کی رگوں میں خون کی جگہ کرپشن اور حرام خوری دوڑ رہی ہو، ان لوگوں پر اعتبار کرنا، پیسوں کے زیاں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ آپ نے جہاں اربوں روپے عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دئیے ہیں، وہاں تھوڑے سے پیسوں سے ایک علیحدہ اتھارٹی جو ایماندار لوگوں پر مشتمل ہو، اسے تشکیل دیں جو بالخصوص محکمہ صحت و پولیس میں ہونے والی کرپشن اور عام آدمی کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک پررپورٹ پیش کرے۔ مجھے یقین ہے جس دن آپ کے سامنے وہ رپورٹ آئے گی، آپ کے بھی ہوش اُڑ جائیں گے۔ بالخصوص لاہور کے تمام بڑے سر کاری ہسپتالوں میں علاج کے نام پر لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ علاج کے نام پر لوگوں کے دلوں کو توڑا جا رہا ہے۔ مریضوں کے لواحقین سے ادویات کے نام پر جیبیں خالی کرائی جا رہی ہیں۔
جناب وزیر اعلیٰ پنجاب!!! چلڈرن ہسپتال لاہور، پنجاب کا ایک ایسا واحد ہسپتال ہے جہاں پورے پنجاب سے غریب اور مفلوک الحال مریض اپنے جگر کے ٹکڑوں کو علاج کی غرض سے لاتے ہیں۔ یہاں کیا ہو رہا ہے ذرا آپ بھی سنیں۔ ہسپتال میں داخل ہونے کے لئے بھی آپ کو سکیورٹی
گارڈ کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے اور جبکہ باہر نکلنے کے لئے بھی عمل دہرانا ہوتا ہے۔ سپورٹ سٹاف، پیرا میڈیکل، گارڈز اور دوسرا عملہ نا اہلی کے اس مقام پر فائز ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گھروں کی لڑائیوں کا غصہ مریض اور اس کے لواحقین پر اتارنا معمول بن چکا۔ مریض، جو پہلے ہی دکھ اور کرب کی وجہ سے شدید درد میں مبتلا ہوتا ہے، ان کا یہ رویہ دیکھ کر جو جانوروں سے بھی بد تر ہے، مزید بیمار ہو جاتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایک پرائیویٹ کمپنی کو سکیورٹی کا ٹھیکہ دیا ہوا ہے اور میرے ذرائع کے مطابق انہیں صرف 14000ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی ہے اور وہ بھی گذشتہ دو مہینوں سے ادا نہیں کئے گئے۔ لہٰذا ہر چکر پر مریض کے لواحقین کے سو روپے کا بھتہ انہیں دینا ہوتا ہے جس سے ان کے چولہے جلتے ہیں۔ پورے ہسپتال میں کوئی بیٹھنے کا انتظام نہیں ہے۔بچوں کے کارڈیالوجی وارڈ کے قریب مردانہ بیت الخلا کو سٹور روم میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ زنانہ بیت الخلا کو نرسز کے ریسٹ روم میں، اقربا پروری، حرام خوری اور کرپشن کی یہ سب داستانیں ملی بھگت سے جاری ہیں۔
لاہور کے سروسز ہسپتا ل کی بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ وہاں بچوں کے آئی۔سی۔یو میں وینٹی لیٹر موجود نہیں اور جو ہیں ان میں اکثر خراب پڑے ہیں۔ انتہائی تشویش ناک حالت کے بچوں کو ان کے والدین مینوئل پمپ سے ان کی سانس بحال کر نے پر مجبور ہیں۔یہاں بھی دوسرے ہسپتالوں کی طرح ڈاکٹرز ایمرجنسی اور آئی۔سی۔یو میں داخل مریضوں کے لواحقین کو با ہر سے ادویات لانے پر مجبور کرتے ہیں۔ سروسز ہسپتال کا یہ حال ہے کہ یہاں انتہائی ضرورت کی عام چیزیں بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ سر نجیں، سر جیکل پٹیاں،گلوز اور سر جیکل کا سامان،سب باہر سے منگوایا جا رہا ہے۔ اپنا مال بنا نے کے چکروں میں ادویات خریداری میں تاخیر کی جارہی ہے جس کی وجہ سے پہلے سے موجود سٹاک ختم ہو چکا جبکہ ایم۔آر۔آئی ٹیسٹ کیلئے کنٹراسٹ انجیکشن بھی ختم ہو چکا۔ ایمرجنسی میں جان بچانے والی ادویات بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کو ذلت و خواری کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔
جناب وزیر اعلیٰ پنجاب!!!یہ میں نے صرف دو ہسپتالوں کی صرف دو فیصد موجودہ صوتحال سے آپ کو آگاہ کیا، باقی ہسپتالوں میں بھی اس سے ملتے جلتے معاملات ہیں۔ شعبہ صحت کے افسران صرف اپنا حصہ وصول کر نے کے لئے لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں اور آپ کو سب اچھا ہے کی جھوٹی رپورٹس پیش کرد یتے ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ کچھ اچھا نہیں ہے۔ عام آدمی شدید ذہنی کوفت و اذیت سے گذر رہا ہے اور آپ کی جانب دیکھ رہا ہے۔ آپ ہی ہیں جو ان کے دکھوں اور غموں کا مداوا کر سکتے ہیں۔ آئیے!!! سب کام چھوڑیں اور سر کاری ہسپتالوں میں ذلیل ہو نے والے ان مریضوں کی داد رسی کے لئے ابھی سے کام شروع کر دیں۔ آپ نے کچھ نہیں کرنا، صرف مانیٹرنگ کرنی ہے اور جزاو سزا کا سخت نظام رکھنا ہے۔ پھر دیکھیں معاملات خود بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ درد کے مارے لوگوں کی درخواست بنا م وزیر اعلیٰ پنجاب پر ضرور ایکشن ہوتا دکھائی دے گا۔ جناب وزیر اعلیٰ پنجاب!!!

تبصرے بند ہیں.