علامہ اقبالؒ اور حب رسولﷺ

11

علامہ اقبالؒؒ ایک عظیم المرتبت شاعر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سچے عاشق رسولؐ بھی تھے۔ ان کے قول و فعل اور شاعری سے بھی عشق رسولؐ چھلکتا تھا۔ اقبالؒؒ بھی خدمت دین اور احیاء دین کو ہی اپنے لیے حقیقی مقصد زندگی قرار دیتے تھے۔ شعر و شاعری ان کے لیے کوئی وجہ افتخار نہیں تھی۔
عشق رسول ؒ کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ بھی صرف اسی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کے محبوب کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے سرور دو عالم ؐ سے جو محبت بڑھا لیتا ہے پھر ہر چیز اسی کی ہو جاتی ہے۔علامہ اقبالؒؒ کے نزدیک دنیوی زندگی کی کامیابی ہو یا آخرت کی فوزو فلاح عشق رسول ؐ کے بغیر نا ممکن ہیں۔عشق رسولؐ اقبالؒؒ کی سوچ کا محور ہے۔ ان کے نزدیک یہی جذبہ وہ ذریعہ ہے جو خدا تک رسائی کا وسیلہ بنتا ہے۔اس جذبے کے بغیر ایمان و ایقان کی دولت تو کیا شعور زندگی بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ کی ادبی نشست منعقدہ 23نومبر2022ء میں ”یہ جہاں چیزہے کیا“کے عنوان پرماہراقبالیات طارق شاہین نے اطاعت رسولؐ کے بارے متعددآیات اور احادیث مبارکہ بھی پیش کیں۔انہوں نے ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ کی مثال دی جو ”یہ جہاں چیزہے کیا“کی عملی مثال ہیں اورانہوں نے اپنی جان ومال سمیت سب کاسب نبیؐ پر نچھاورکردیا۔ صحابہ کرام کی دیگرامثال کے ساتھ اس مثال کوپوری امت کے لیے بہترین نمونہ قراردیتے ہوئے کہاکہ آج بھی اسی طرح کی مثالیں پیش کی جائیں توامت مسلمہ ذلت و رسوائی کے گرداب سے نکل سکتی ہے۔
تقریب کے شرکاء نے کہا کہ نبی ؐسے محبت کاتقاضاہے کہ ان کامقصدبعثت پوراکیاجائے
اوراس دنیاپر اسلام کانظام نافذکرنے کی جدوجہدکی جائے۔ عشق رسولؐ کاتقاضا خدمت رسولؐ ہے یعنی شریعت کانفاذکیاجائے یااس کے لیے سعی وجہدکی جائے۔ جب انسان خوداحتسابی کے مراحل سے گزریں گے تویہ دنیاحقیرسے حقیرترہوتی چلی جائے گی۔ اسلام کی بنیادحب رسول ؐہے اوریہ محبت جتنی زیادہ ہوگی توایمان بھی اتنامضبوط ہوگا۔ وطن عزیزاسلام کے نام پر حاصل کیا اورحب رسولؐ کا تقاضا ہے کہ وطن عزیزمیں اللہ تعالی بھیجا ہوا نظام نافذ کیا جائے۔ ہرلمحہ نبیؐ کی اطاعت میں گزرنا چاہیے۔ علامہؒ نے امت کوبھولاسبق یادکرایا۔ ترکی میں علامہ اقبالؒ کی ایک علامتی قبرتعمیرکی گئی ہے اوروہ لوگ اقبالؒ سے اس قدرچاہنے والے ہیں کہ مولائے روم کے مقبرے کے جوارمیں اس قبر کی آرائش پر بے پناہ سرمایاخرچ کیاجارہاہے۔ وطن عزیزسمیت کل عالم انسانیت کوصرف سنت نبوی پرتعامل ہی مسائل کے گرداب سے نکال سکتاہے۔
کلام اقبالؒ میں عشق رسول کے اظہار میں جب شیفتگی و وارفتگی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ بزرگانِ دین کا فیضانِ نظر تھا۔ اس میں مکتب کی کرامت کا دخل نہیں تھا۔ آپ کے کلام میں شیخ عطار، نظام الدین اولیا، حضرت مجدد الف ثانی، مولانا روم، اور امام غزالی کا تذکرہ اس امر پر شاہد ہے۔ اقبالؒ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبالؒ کے ذہن میں عشق و مستی کا اوّل اور آخری محور ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ محور ہے نبی کریم کی ذات جو ذات ِ تجلیات ہے۔
”اقبالؒ کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بند جاتی۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔“
علامہ اقبالؒؒ کا انگ انگ عشقِ رسولؐ میں ڈوبا ہوا تھا۔ سوز و گداز قلبی انہیں اللّٰہ رب العزت کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ علامہ صاحب کی ذات میں جو سوز و گداز تھا، اسی کے سبب جب ان کے سامنے نبی اکرمؐکا ذکر ہوتا تو بے چین ہو جاتے۔ عشقِ رسولؐ اور مدینہ پاک سے دوری انہیں رلاتی رہتی۔ حضور نبی کریم ؐ کی سیرتِ طیبہ کے ہر پہلو سے واقف تھے۔ جب کبھی ذکرِ رسولؐ کرنا ہوتا تو باوضو ہو کر محبوبِ دو جہاں کو یاد کرتے۔سیرت و حیاتِ نبیؐ کے ہر پہلو پر ایسی عام فہم، سیر حاصل اور شگفتہ گفتگو فرماتے کہ ناقدین دنگ رہ جاتے۔ اقبالؒؒ کی شاعری حب رسولؐ کے ساتھ ساتھ اطاعتِ رسولؐ کا بھی درس دیتی ہے۔ علامہ صاحب شاعر، مفکر اور فلسفی تو تھے ہی، ان کے دل میں حضور پاکؐ کی ذاتِ مبارک کی عظمت و محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کی شاعری کا ماخذ اسلام اور اس کی تعلیمات تھیں۔
سید ابو الحسن ندویؒ نے علامہ اقبالؒؒ کی شخصیت کے چار تخلیقی عنصر گنوائے ہیں اور ان میں حبِّ رسول کو بجا طور پر ایک اہم عنصر کی حیثیت دی ہے۔ علامہ اقبالؒؒ کو ذاتی طور پر جاننے والے سبھی لوگوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سیرتِ اقبالؒؒ میں حْبّ رسول کا عنصر اتنا قوی تھا کہ کوئی بھی ملنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حکیم عبد المجید قرشی مرحوم نے لکھا ہے کہ جب تک علامہ اقبالؒؒ کو قریب سے نہ دیکھا جائے اس شیفتگی اور عشق کا اندازہ لگانا مشکل ہے جو ان کو پیغمبرؐسے تھی۔ آخر عمر میں تو رسول اللہ ؐ کی محبت میں ان کا دل اس قدر رقیق ہو گیا تھا کہ حضور ؐ کا نام زبان پر آتے ہی اشک بار ہو جاتے اور بسا اوقات اس قدر رقت طاری ہو جاتی کہ ہم جلیسوں کو ان کی زندگی کے بارے میں تشویق لاحق ہو جاتی۔

تبصرے بند ہیں.