لوٹ مار کا ماحول

10

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت جب کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں، ان میں اضطراب دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے، متوسط اور غریب طبقہ پس چکا ہے، لوگ خود کشیوں، ڈاکوؤں اور چوری و لوٹ مار کی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہو چکے ہیں کہ ان کے لئے باعزت طریقے سے دو وقت کی روٹی کمانا ناممکن بنا دیا ہے۔ ایسے میں آئے روز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا معمول عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں حکمران جماعت کو جس عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے تھا لیکن بادی النظر میں محسوس یہی ہوتا ہے کہ حکومت نے ان ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں حاصل کیا۔ حکومت مہنگائی میں کمی کہ لئے کوئی جد و جہد کرتی نظر نہیں آ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کو عوامی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں اور ان کے ردِ عمل کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔
2018ء میں جب پاکستانی قوم نے تحریکِ انصاف کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا تھا تو ان کے اس جذبے کے پیچھے عمران خان کے وہ دل خوش کن وعدے تھے جو انہوں نے عوامی جلسوں میں عوام الناس سے کئے تھے۔ عوام سمجھتے تھے عمران خان کی صورت میں انہیں ایک نجات دہندہ مل گیا جو نہ صرف ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر کے ایک صاف ستھرے معاشرے کا قیام عمل میں لائے گااس طرح ان کی زندگیوں انقلاب برپا ہو جائے گا اور ایسا نیا پاکستان وجود میں آئے گا جو ان کے مسائل کو حل کر کے انہیں باعزت اور باوقار انداز میں زندگی کی سہولیات مہیا کرے گا۔ ہم نے دیکھا کہ کپتان اورا س کی ٹیم نے اس کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اسی اثناء میں کورونا وباء بھی ساری دنیا میں پھیلی لیکن دنیا نے اس بات کو مانا کہ پاکستان نے اس وباء کا بہترین انداز میں سامنا کیا اور اس بحران کے معاشرے پر نسبتاً کم اثرات نظر آئے اور معیشت کسی حد تک چلتی رہی۔ اس مشکل دور کے باوجود حکومت نے اپنے ساڑھے تین سال کے اقتدار کے عرصہ میں معیشت کو درست ڈگر پر ڈال دیا تھاکاروبار اور روزگار میں بہتری آنا شروع ہو گئی تھی کہ مسلم لیگ
(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی 13 جماعتوں نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لئے سرگریوں کا آغاز کر دیا۔ حکومت ہٹانے کے یک نجاتی ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی کے ہی اراکین کی خرید و فروخت شروع کر دی۔ جو پارٹیاں ماضی میں ایک دوسرے سے دست و گریبان تھیں اکٹھی ہو کر پی ٹی آئی کی حکومت گرا دی۔ حکومت کا گرنا تھا کہ عوام خود سے ہی سڑکوں پر نکل آئے اور اس ساری کاروائی کے پیچھے جو قوتیں تھیں وہ بھی پریشان ہو گئیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت آئی نہ صرف ڈالر کو پر لگ گئے بلکہ ملک میں مہنگائی کی ایسی لہر آئی کہ عوام کا جینا دوبھر ہو گیا۔ وہ پی ٹی آئی جس کی مہنگائی کا اپوزیشن رونا رو رہی تھی مہنگائی اس سے کہیں گنا زیادہ ہو گئی۔ حکومت سے معیشت کسی صورت بھی سنبھل نہیں پا رہی ہے۔ عوام عمران خان کی کال پر آج متحد ہیں کیونکہ حکومتی پالیسیوں نے عوام کو اس سے بد گمان کر دیا ہے۔ وہ اب حکومت کے لئے کلمہئ خیر بلند کرنے کو ہر گز تیار نہیں۔ اب ان میں مزید ظلم، جبر سہنے اور مہنگائی کی چکی میں پسنے کی سکت نہیں رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں جتنے بھی سروے ہوئے ہیں پاکستانی عوام کی ا کثریت نے ملکی معاشی سمت پر پریشانی کا اظہار کیا ہے اور ملکی صورتحال پر غیر مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ مختلف قومی مسائل پر رائے عامہ کے جائزے مرتب کرنے والی ملکی و بین الاقوامی اداروں کے طریقہئ کار، اہداف اور ایجنڈے پر بہت سے سوالات کی گنجائش ہو سکتی ہے اور کسی بھی ایسی جائزہ رپورٹ کو قوم کی نمائندہ رائے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم ان رپورٹوں سے سماج کے مختلف طبقات میں پائے جانے والے خیالات، رجحانات اور نظریات کا کچھ نہ کچھ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان کو اس وقت جس اعصاب شکن معاشی، سیاسی و سماجی مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل کے نتیجے میں جس طرح ہماری قومی سلامتی معرضِ خطر میں پڑ چکی ہے، یہ پاکستانی قوم کے لئے یقیناً ایک سوہانِ روح امر ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کی دو تہائی آبادی ملک کی معاشی سمت سے متعلق مایوسی کا شکار ہو گئی ہے تو یہ کوئی زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے۔اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ عوام کی غالب اکثریت کا معاشی ابتری کی ہولناکی سے براہِ راست متاثر ہونا ہے۔ پاکستان میں اب کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی عام استعمال کی شے کی قیمت بڑھنے کی خبر نہیں ملتی۔ زندگی کی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کے لئے زندگی کی گاڑی کھینچنا مشکل ہو گیا ہے اور بالخصوص تنخواہ دار طبقہ تو بری طرح پس کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں عوام کا مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جانا فطری سی بات ہے۔
اس سال ایک اور بھی بڑی عجیب بات دیکھنے کو ملی جب اپریل مئی میں ہی آٹے کے نرخ بڑھنا شروع ہو گئے ورنہ ہم بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ ان مہینوں میں آٹے کے نرخ گر جاتے کیونکہ ان دنوں گندم کی فصل پک کر تیار کھڑی ہوتی ہے اور غلہ منڈیوں میں اس کی آمد کا انتظار ہوتا ہے۔ آٹا جو کہ ہر امیر غریب کے پیٹ بھرنے کی سستی چیز تھی اب اس کے نرخ بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔ گندم کی قیمتوں کا اثر عام لوگوں کی ضرورت کی تمام اشیاء پر پڑتا ہے یعنی اس کی مہنگائی درجنوں دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا موجب ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس کے نرخوں میں کمی ہونے کی بجائے مسلسل اضافہ ہی جاری ہے۔
یہی نہیں غور سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے، اتوار بازاروں میں سڑی بسی سبزیوں اور پھلوں کی فروخت کی شکایت مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہے، تاجروں اور ٹھیکیداروں میں ذخیرہ اندوزی کا رجحان عام ہے جو بال روک ٹوک جاری ہے، عوام کی مہنگائی کے اس عذاب میں مبتلا کرنے میں تاجروں کے ساتھ حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کے دام کم ہونے کے باوجود ہمارے حکمران ڈھٹائی کے ساتھ اس میں کمی کرنے سے انکاری ہیں اور بلکہ گزشتہ دنوں اس میں اضافے کی باز گشت عام تھی لیکن پھر شائد حکومت کو عوام پر ترس آ گیا اور انہوں نے اس 15 تاریخ کو اس کے نرخ ساکن ہی رہنے دئے۔عالمی سطح پر پاکستان کا شمار انتہائی کرپشن زدہ ممالک میں ہونے لگا ہے، اقوامِ عالم پاکستان پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، ریاستی نظم و نسق سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ عام آدمی حکومتی کار کردگی پر کیسے مطمئن اور خوش ہو سکتا ہے، جب روز افزوں گرانی کے ہاتھوں کسمپرسی اوربے کسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔

تبصرے بند ہیں.