گمراہی کے بڑے راستے ۔۔۔علما آگے آئیں

32

اپنوں سے تو ہم دور ہو چکے ہیں اب آہستہ آہستہ ہم دین سے بھی دورہوتے جارہے ہیں۔آج ہمارے ایک دونہیں اکثرطورطریقے اسلامی تعلیمات اورخدائی احکامات سے بھی بالکل متصادم ہیں لیکن پھربھی ہم انہیں ایسے سرانجام دے رہے ہیں کہ جیسے یہ کوئی فرض یاواجب ہوں۔پہلے توایسانہیں ہوتاتھا۔معلوم نہیں اب ہمیں کیاہوگیاہے۔؟کہ ہم اس قدرسرپھرے ہوگئے ہیں۔پہلے توماتم والے گھرمٹن،چکن اوربریانی پراس طرح دانت گرم نہیں کئے جاتے تھے پتہ نہیں ہماری بھوک بڑھ گئی ہے یاپھرہم انسانیت سے عاری و خالی ہوگئے ہیں۔ان ہی گاؤں اوردیہات میں یہ ماتم توپہلے بھی ہوتے تھے لیکن ماتم والے گھر،گاؤں اوردیہات میں شادی والے یہ مناظرتوپہلے کبھی نہ تھے۔پہلے جس گھرمیں ماتم ہوتاتھااس گھرمیں پھررونے،دھونے،چیخنے اور چلانے کے سواکوئی دوسراکام ہی نہیں ہوتاتھالیکن اب۔؟آج دعوت کس کی ہے۔؟کھانے میں انہوں نے کیا پکایا ہے۔؟ بریانی کہاں ہے۔؟ساتھ روسٹ اورکباب ہے کہ نہیں۔؟فروٹ اورکوک کی بوتلیں کدھر ہیں۔؟واللہ ماتم والے گھروں میں یہ حرکتیں دیکھ کر دل پھٹنے لگتاہے۔پیٹ کوسرپررکھ کر پھرنے والوں کوکیااس چیزکابھی کوئی احساس نہیں کہ ماتم والے گھرکسی ماں،کسی بہن،کسی بیٹی،کسی باپ،کسی بھائی اورکسی شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ کیا۔؟ جس کی ماں، بہن، بیٹی، شوہر، باپ یاکوئی بھائی فوت ہواہوان کے حلق سے روٹی کاایک نوالہ بھی پھر نیچے اترتاہے۔؟جن کے منہ میں خون ہی خون اورآنکھوں میں آنسوہی آنسوہوں ان کو کیا روٹی کی کوئی پروا ہوتی ہے۔؟جن کے غم،دکھ اور درد کی خاطرماتم والے گھرآگ وچولہاجلانے سے منع کیا گیا ان کے غم،دکھ اوردردکی توکسی کوکوئی فکر اور پروا نہیں ہوتی لیکن اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کے لئے ہرکوئی سرگرداں رہتا ہے۔ جنازے، کفن دفن کااتناخیال نہیں ہوتاجتنی دیگ اور ہانڈیوں پر نظر ہوتی ہے۔کسی نے ٹھیک ہی تو کہا کہ آج کے دورمیں ماتم والے گھرسے میت کندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں۔لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ ”مسالہ پھڑا اوئے” کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔غم والم میں ڈوبنے والوں کی آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے یہ کہتے ہوئے کہ چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں پہلے ہی
خشک ہو جاتے ہیں۔قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن سج جاتے ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔” مرنے والا تو چلا جاتا ہے لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لئے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں۔؟ یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو ”روٹی کھا کے آنا؟” قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں۔ دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں۔ماتم والے گھرجانے والے جنازے پرجاتے ہیں کسی شادی یاختم وخیرات پرنہیں کہ انہیں وہاں مٹن،چکن اوربریانی سے لازمی اپنے دانتوں کوگرم کرنا پڑے گا۔پہلے زمانے میں مرنے والے لواحقین کوچپکے سے کسی قریبی گھرمیں لے جا کر زورزبردستی انہیں کھانا کھلا دیا جاتا تھا لیکن اب۔؟ میت اٹھتے ہی اسی ماتم والے گھرمیں دسترخوان بچھا کر یہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ جس جس نے کھانانہیں کھایا وہ دسترخوان پر آ جائیں۔ یہ کونساطریقہ اور کہاں کی انسانیت ہے کہ سامنے مرنے والے کے لواحقین غم والم کی چادر اوڑھے آنسو پونچھ رہے ہوتے ہیں اورپاس ان کے دکھ،درداورغم کوبانٹنے کے لئے آنے والے مٹن، چکن، بریانی، روسٹ، کباب، گرم وٹھنڈاسے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ماتم والے گھروں میں دعوتی کھانوں کے ذریعے اپنے جہنم بھرنے والوں نے کیایہ کبھی سوچاہے کہ دکھ،درداور غم کے دریا میں سرسے پاؤں تک ڈوبے مرنے والے کے جن لواحقین کے سامنے یہ روسٹ، کباب اور فروٹ سے کھیل رہے ہیں ان کے اس کھیل کودیکھ کران لواحقین پر اس وقت کیاگزررہی ہو گی۔؟ مانا کہ کھانا پینا ایک انسانی ضرورت ہے۔ یہ بھی ماناکہ اس کے بغیرکوئی چارہ اورسہارانہیں لیکن یہ کونسی انسانیت ہے کہ سامنے ایک شخص اپنی ماں، باپ، بہن، بیوی، شوہر، بیٹی اور بھائی کے غم میں خون کے آنسو بہا رہا ہو اور آپ اس کے سامنے مٹن، چکن اور بوٹیوں سے کھیلیں۔ یہ کھاناتواپنے گھرمیں بھی کھایا جا سکتا ہے، کسی رشتہ دارکے گھربھی تواپنے اس جہنم کو بھرا جا سکتا ہے۔ کیا ماتم والے گھریامرنے والے کے لواحقین کے سامنے پیٹ بھرکرکھانایہ کوئی فرض یاقرض ہے۔؟ اگر فرض ہے توپھرآپ ایک نہیں ہزاربارکھائیں لیکن اگرکوئی قرض ہے توخداراآج سے اس قرض کو معاف کر دیں۔ یہ اسلام ہے اورنہ ہی انسانیت۔آپ اگرکسی کے غم کوہلکانہیں کرسکتے توخداکے لئے اس غم کوبھاری بنانے کاباعث بھی نہ بنیں۔شہرہوں،گاؤں یا دیہات۔ ماتم پراب ہم نے یہ جو طورطریقے پکڑے ہیں یہ کسی بھی طور پر ہمارے شایان شان نہیں۔ہم نہ صرف انسان بلکہ مسلمان بھی ہیں اورمسلمان کاکام کسی کے زخموں پر نمک چھڑکنانہیں بلکہ ان زخموں پرمرہم رکھنا ہوتا ہے۔ ماتم والے گھردسترخوان بچھا کر اس پرہزارقسم کے کھانے سجانایہ غم بانٹنانہیں،کسی کے دکھ،درداورغم میں شریک ہونایہ ہے کہ آپ اس کونہ صرف گلے بلکہ دل سے لگائیں،اس کے غم کواپنے دل میں ایسامحسوس کریں کہ جیسے اس کانہیں آپ کاکوئی بچھڑگیاہو۔ آپ گھنٹوں تک بوٹیوں سے کھیلنے کے بجائے پانچ دس منٹ کے لئے اگراس کے پاس بیٹھ کراس کے غم میں شریک ہوجائیں تواس سے نہ صرف ان کاغم کچھ ہلکاہوگابلکہ آپ کواس کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔پہلے یہ ساری باتیں علمائے کرام بتایا کرتے تھے۔گاؤں ودیہات کاتونظام ہی مولوی صاحب کے مشوروں اوراشاروں پرچلتاتھالیکن اب لگتاہے کہ ہمارے علمائے کرام کے مشورے اور اشارے بھی کہیں صرف نمازاورروزوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ورنہ گاؤں اوردیہات کاکم ازکم یہ حال تو نہ ہوتا۔رسم ورواج یہ کوئی سنت ہے اورنہ کوئی فرض۔ پھررسم پررسموں کوجنم دینایہ توگناہ سے بھی بڑا گناہ ہے۔جوبھی چیزاسلامی تعلیمات اورخدائی احکامات سے متصادم ہوں چاہے وہ کوئی رسم ورواج ہی کیوں نہ ہواسے چھوڑنامسلمانوں پرفرض ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا معاشرتی نظام ہی ان فضول قسم کی رسم ورواجوں کی لپیٹ میں آ جائے ہمیں ابھی سے ان کے خاتمہ کے لئے آگے بڑھنا ہو گا، اس سلسلے میں سب سے پہلی ذمہ داری ہمارے علمائے کرام، آئمہ مساجد اور خطبا کی بنتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات واحکامات کے مطابق عوام میں شعور پیدا کر کے معاشرے کواس طرح کی فضول رسموں اور رواج سے پاک کرنے کے لئے اپناکلیدی کردار ادا کریں۔ جوکام گاؤں اوردیہات کاایک امام اور خطیب صاحب کرسکتاہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ معاشرے کے سدھارنے میں ایک مولوی کا جو کردار ہے وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔ ہمارے علمائے کرام اگرآنکھیں بندکرکے مساجد کے کونوں میں صرف اللہ اللہ کرکے بیٹھیں گے تو پھراس ملک اورمعاشرے کواس قسم کی فضول رسموں اورخودساختہ رواجوں سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔ اس لئے عوام کودنیاوآخرت دونوں کی تباہی اور بربادی سے بچانے کے لئے ہمارے علما کوآگے آنا ہو گا تاکہ معاشرے کواس طرح کی حرکتوں،رسم رواج سے پاک کیاجاسکے۔

تبصرے بند ہیں.