پت جھڑ کے بعد بہار بھی آئے گی

11

موجودہ صورتحال کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی منظر پر متحرک سیاستدانوں کو عوام کی نہیں اپنی فکر لگی ہوئی ہے۔ کیا کیا نہیں جتن ہو رہے اقتدار کی خاطر‘ پورے ملک میں ایک سنسنی کی لہر محسوس کی جا سکتی ہے۔ غیر یقینی روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ معیشت ہے کہ وینٹی لیٹر پر جا چکی ہے مگر افسوس ہمارے سیاستدان اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔ انہیں سوائے اپنی ذات کے اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا لہٰذا عوام کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی اپنی جماعتوں کے سربراہان سے گزارش کرنی چاہیے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اجتماعی مفاد کے برعکس ہے لہٰذا وہ ذاتیات کے حصار سے باہر نکل کر مفاد عامہ کے لیے جدوجہد کریں تا کہ بگڑتی ہوئی معاشی، سماجی اور سیاسی صورت حال میں ٹھہراؤ آ سکے۔ ایسا سوچنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں وہ لمحات نہیں آرہے کہ جس سے وہ محظوظ ہو سکے ہنس سکے اس کا دل بہل سکے۔ اسے ہر لمحہ دکھوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسے مسائل نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور اسے بھوک نے گویا نڈھال کر دیا ہے اس کے بچے تعلیم و صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں انہیں تو غذا بھی مکمل میسر نہیں ان تمام پہلوؤں کے بارے میں کہیں بھی کوئی غور نہیں ہو رہا جو ہو رہا ہے کہ ہمیں کیسے اقتدار میں آنا ہے کیسے اپنے اثاثوں کو محفوظ کرنا ہے کیسے اپنی اولادوں کو یورپ و مغرب میں کاروبار کرانے ہیں اور عالیشان رہائشیں لے کر دینا ہیں لہٰذا عوام کو اپنے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنا ہو گی اگر وہ ان حکمرانوں پر ہی اکتفا کرتے رہے تو انہیں مزید مشکلات ومسائل سے دوچار ہونا پڑے گا جنہیں جھیلنے کی اب ان میں سکت باقی نہیں رہی۔
بہر حال عوام حکمرانوں سے اب تک یہ آس لگائے چلے آ رہے ہیں کہ وہ انہیں خوشحال زندگی سے ہمکنار کریں گے انہیں انصاف سستا اور آسان فراہم کریں گے۔ مفت تعلیم اور صحت مہیا کریں گے مگر انہوں نے ہمیشہ انہیں مایوس کیا۔ ان سے جھوٹ بولا گیا ان کو بیوقوف بنایا گیا دانستہ اندھیرے میں رکھا گیا۔ مسلسل انہیں دھوکا دیا گیا۔ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اقتدار دلانے والوں کی ہر بات کو اہم سمجھا گیا۔
اب جبکہ ملک کی حالت خراب سے خراب تر ہو چکی ہے اور اہم ترین ملکی اثاثوں کو گروی رکھنے کی باتیں ہونے لگی ہیں تو بھی ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ چالاکیاں ہوشیاریاں دکھائے چلے جا رہے ہیں۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے ان کی اس بے حسی اور طرز عمل نے لوگوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے وہ کبھی پی پی پی کبھی مسلم لیگ (ن) اور کبھی پی ٹی آئی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہ جماعتیں کب یہ اعلان کرتی ہیں کہ ہم وسیع تر قومی مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہونے جا رہے ہیں مگر ابھی تک ایسا کوئی اعلان انہیں سننے کو نہیں ملا اگر کچھ سنائی دے رہا ہے تو یہ کہ فلاں نے اتنے ارب کھرب لوٹ لیے فلاں نے ملک کو کنگال کر دیا اور فلاں نے قومی خزانہ خالی کر دیا۔
حکمرانوں سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ اب ہی بے بس، غریب اور لاچار لوگوں پر ترس کھا لیں انہیں خوشیاں دے دیں کہ وہ اب تک کراہ رہے ہیں اور آہیں بھر رہے ہیں مگر نہیں وہ (سیاستدان) ایک دوسرے پر آہنی جال پھینکنے میں مصروف ہیں باہمی رنجشوں کو مزید بڑھا رہے ہیں کیا کیا نہیں الزامات عائد کیے جا رہے مقصد اس کا یہی ہے کہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور وہ نہیں جانتے کہ یہ عوام وہ نہیں جو ان کے کہے ہوئے پر من و عن یقین کر لیتے تھے وہ اب بال کی کھال اتارتے ہیں۔ حالات کا تجزیہ کرتے ہیں پھر انہیں پچھہتر برس کے تجربے نے سب کچھ بتا دیا ہے انہیں یہ علم ہو چکا ہے کہ حکمران طبقہ جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے نے انہیں باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت غربت کی چکی میں پسنے دیا ہے۔ تھانوں پٹوار خانوں کی زیادیتوں سے نجات نہیں دلائی گئی۔ انصاف فراہم نہیں کیا گیا تاکہ وہ خوشحال نہ ہو سکیں اور اس سے متعلق غور و فکر نہ کرنے لگیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں کیا سوچ رہے ہیں کس طرح عوامی سرمایے کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہے ہیں اور اپنی تجوریوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ اس وقت جب سوشل میڈیا ایک شعوری انقلاب برپا کر چکا ہے اور عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اٹھ کھڑے ہوئے ہیں یہ طبقہ ان پر متشددانہ حربے آزمانے لگا ہے۔ مختلف النوع سزائیں دینے جا رہا ہے اس کے باوجود جاگے ہوئے ذہن نہیں سو سکیں گے کیونکہ ان کے ساتھ بہت ہو چکی ان کے حصے کی دولت اس اشرافیہ نے بیرون ممالک لے جا کر محل بنا لیے۔ جائیدادیں خرید لیں۔ان کے بچے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے لگے ہیں مگر عوام جن کے ذمہ جو بھاری قرضے ہیں اتار رہے ہیں ہر روز ان کی گردن پر قرضوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے مگر ان کی غربت کم ہو رہی ہے نہ زندگی میں کوئی مسرت کی گھڑی آرہی ہے۔ اب اگر ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے تو عوامِ پاکستان چشم تصور سے دیکھیں کہ منظر کیسا ہو گا۔ جرائم بڑھ جائیں گے دھوکا دہی کے واقعات عام ہوں گے جسم فروشی اور اعضا کی فروخت میں بھی اضافہ ہو جائے گا لوگ ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہوں گے لہٰذا ذمہ داران فی الفور صورتحال کو قابو میں کر یں احتساب کے عمل کا آغاز کریں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ عوام کے لیے جب جینے کا راستہ مسدود ہو جائے گا تو وہ وسائل پر قابض اشرافیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج شروع کر دیں گے جو روکے سے نہ رکے گا اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پھر راج کرے کی خلق خدا لہٰذا یہ جو اقتداری تماشا لگا ہوا ہے اسے ختم ہو جانا چاہیے تمام اہل اختیار اور اہل اقتدار مل کر در پیش خراب صورتحال کو ٹھیک کرنے کی طرف بڑھیں۔ اگر ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ انہوں نے تو ملک سے چلے جانا ہے تو انہیں یہ بھی اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ سکون انہیں وہاں بھی نہیں حاصل ہو گا۔ غریبوں کی آہیں ان کا پیچھا کریں گی۔ بہرحال یہ بات انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ لوگوں نے جو حسیں خواب دیکھے تھے وہ چکنا چور ہو چکے ہیں ان کی آنکھیں تھک گئی ہیں وہ اگرچہ مایوسی کی آخری حد کے قریب پہنچ گئے ہیں مگر امید اب بھی انہیں ہے کہ یہ دن باقی نہیں رہیں گے کیونکہ تاریکی کتنی ہی گہری ہو جائے روشنی کی ایک موہوم سی کرن بھی اسے دور کہیں بھگا دیتی ہے لہٰذا پت جھڑ کے بعد بہارضرور آئے گی!

تبصرے بند ہیں.