قومی سیاست کی وہیل الائینمنٹ نا گزیر ہے

11

حالیہ معاشی بحران اور پیداواری لاگت میں اضافے اور ایکسپورٹ میں مسائل کی وجہ سے اسے ایک انڈسٹریل کمپنی نے نوکری سے فارغ کر دیا مگر ناشتے کی میز پر اخبار پڑھتے ہوئے وہ نوکری کے اشتہار ڈھونڈنے کے بجائے سب سے پہلے سیاسی صفحہ کھولتا ہے اُسے کھوئی ہوئی ملازمت دوبارہ حاصل کرنے سے زیادہ یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ وزیراعظم آفس کو وزارت دفاع کی طرف سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری بھیجی گئی ہے یا نہیں اور اگر نہیں بھیجی گئی تو تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کلچر اس طرح کا ہو گیا ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھنے کے بجائے اس کام سے کام رکھنے کے لیے بے چین رہتے ہیں جو ہمارا اپنا نہیں بلکہ کسی اور کا ہوتا ہے۔ اس وقت جب پوری دنیا قطر میں ہونے والے عالمی فٹ بال ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہو رہی ہے پاکستانی عوام سمری کی فکر میں مرے جا رہے ہیں اس مسئلے کا دور دور تک کوئی حل نظر نہیں آتا کہ قوم کی سوچ کے پہیے کی وہیل الائمنٹ کیسے کی جائے۔
ہماری قومی سیاسی قیادت کی ویل الائنمنٹ کا مسئلہ شاید عوام سے زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت اخبارات اور چینل کا رخ کریں تو ہر جگہ سمری کے چرچے ہیں یہ خبر کہیں سے نہیں آ رہی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آٹھویں (EFF) Extended Fund Facility پروگرام کی شرائط پوری نہ کرنے پر 9 ویں ای ایف ایف پروگرام کا اجرا خطرے میں پڑ گیا ہے اور سٹاف لیول ایگریمنٹ میں شدید ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ آئی ایم ایف ٹیکس ٹو GDP کی شرح 11 فیصد کرنے کی ضد پر قائم ہے جبکہ اس وقت یہ شرح 3 فیصد سے بھی کم ہے لہٰذا آئی ایم ایف کہتا ہے کہ 600 ارب روپے کے نئے ٹیکس جب تک نہیں لگائے جائیں گے اور منی بجٹ کا اعلان نہیں کیا جاتا پاکستان سے بات نہیں ہو گی یعنی اگلی قسط نہیں ملے گی جبکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک نیچے جا رہے ہیں خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں آئی ایم ایف کی کرسمس اور نئے سال کی چھٹیوں کی وجہ سے یہ معاملہ اگر جنوری تک حل نہ ہوا تو پاکستان کے پاس ماہانہ پٹرول خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے اسحاق ڈار صاحب نے بطور وزیر خزانہ 34 ارب ڈالر کا سیلاب کا نقصان دعویٰ کر کے کچھ رعایت حاصل کرنے کی درخواست کی تھی مگر انہوں نے کہا کہ سیلاب کی بحالی دس سال کا کام ہے جو آہستہ آہستہ ہو گا آپ ہمیں اس سلسلے میں اپنا کوئی میکرو اکنامک فریم ورک تو پیش کریں تا کہ غور کیا جا سکے اس طرح فوری زر تلافی کے امکانات
نہیں ہیں۔ قصہئ مختصر یہ کہ بین الاقوامی خبروں میں اس وقت پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ڈیفالٹر ہونے کے کنارے پر بیٹھے ہیں یہ منظر دنیا باہر سے دیکھ رہی ہے لیکن ہمارے Titanic پر سب اچھا کا میوزک بج رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں بلاناغہ عوام کے سامنے بیانات جاری کرتے ہیں مگر حیرت انگیزبات ہے کہ اس میں ڈوبتی ہوئی معیشت کا کوئی بحالی کا منصوبہ تو کیا اس کا ذکر تک نہیں ہوتا۔
ہماری اصلاح احوال کا ذکر جہاں ہونا چاہیے وہاں نہیں ہو رہا بات یہاں تک ہی ہو تو بھی گوارا ہے مگر یہ ذکر اب وہاں ہو رہا ہے جہاں اسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس ہفتے امریکی شہر واشنگٹن میں ایک سیمینار ہوا ہے جس میں امریکی سیاسی ماہرین نے پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اس میں ٹرمپ کے دور میں ساؤتھ ایشیا امور کی ماہر Lisa Curtis جو کئی مرتبہ پاکستان آچکی ہیں انہوں نے اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں یا کوئی اور بنتا ہے کیونکہ نیو کلیئر پروگرام، پاکستان انڈیا تعلقات، دہشت گردی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات جیسے اہم امور پر فیصلے آرمی چیف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر ہمیں مرحوم جنرل حمید گل یاد آرہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.