تُسی چور اسی بدتمیز….

19

کیاسچا اعتراف، کیسی کھری بات اور کیا تخلیقی جملہ…. مدت سے سیاسی سچ نہیں سنا تھا سیاست دانوں پر چوری ڈاکہ کے الزام لگتے تو وہ صفائی پیش کرنے کی بجائے جوابی چوری ڈاکہ فہرست سنادیتے ہمہ وقت اپنے لیڈران کی کرتوتوں پر پردے ڈالنے ڈھیلی ڈھالی دلیلیں دینے اور جھوٹ بولنے کے سوا کیاچارہ تھا ….
ایسے میںمیاں نواز شریف کے المشہور محل ”ایون فیلڈ“ کے باہر زندگی حرام کرنے والوں نے جو ڈیرہ جمارکھا ہے، ہرآتے جاتے ”راہی“ اور مکینوں کو لقمہ حرام کی طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں یہ بھی سچ ہے یہ لوگ خود بھی وطن پرست صابر شاکر (اے آروائی والے نہیں)اور قناعت پسند نہیں تھے تو وطن کی مٹی گھٹا بھوک ننگ اور لوڈشیڈنگ سے جان چھڑانے کے لیے امیر ملکوں میں بھاگ گئے اور اب اپنے ہی جیسے ذہن رکھنے والے سیاست دانوں کو ”طعنے“ مار رہے ہیں ان کے خیال میں چھوٹا چور بڑے چورسے کم گنہگار ہوتا ہے یعنی گھڑی چرانا ملکی دولت چرانے سے کم جرم ہے مگر گھڑیاں اگر سرکاری ہوں تو اور بات ہے غلطی سے بھی ایسا ہو جاتا ہے کوئی شوقیہ گھڑی نہیں چراتا چوری چوری میں فرق ہوتا ہے ریشماں یاد آگئی ….
”وے میں چوری چوری تیرے نال لالئیاں اکھاں وے“
پھرگھڑی کب بُری گھڑی میں تبدیل ہو جائے کیا معلوم ….؟ ویسے بھی
”آندیاں نصیباں نال اے گھڑیاں‘،
تیرے سہرے نوں سجایا لکھاں پھل کلیاں
کافی دیر سے کسی لیڈر کے سہرے کے پھول نہیں کھلے یا ہمیں پتہ نہیں چلا شہباز شریف اور خان سے ابھی بھی امیدیں ہیں نواز شریف تنہائی میں ایون فیلڈ کی کھڑکی میںبیٹھ کر رفیع کے گیت گاتے ہوں گے یا خان کو …. خیرایون فیلڈ کے سامنے براجمان ٹولے نے جیسے ہی نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز کو گیٹ پر آتے دیکھا تو راگ الاپنے لگے …. گونگلو…. گونگلو…. چور…. وغیرہ وغیرہ حسین نواز جو جوبٹن دباکر سٹائلش گیٹ کا دروازہ کھول رہے تھے بھنا گئے اور شرم اور غیرت دلانے لگے تماشائی مزید بھڑکے اور گونگلو چور ڈاکو پکارنے لگے جواب آیا شرم نہیں آتی بدتمیزو! نعرے باز فوری بولے ”تُسی چور اسی بدتمیز“ گزشتہ دہائی کا شاید یہ سب سے بڑا محاورہ تھا چوری اور بدتمیزی کا الگ الگ تجزیہ کرتے ہیں ہم جسے چوری سمجھتے ہیں وہ تو بھرم، ایمان، وعدہ، دعویٰ اور راز داری کے اخفاءہونے تک ہے ایک خاص اعتماد جوٹوٹ جاتا ہے چوردل کا گھر لوٹ کر لے جاتا ہے جو مادی چیزوں کے مقابلے میں بہت ہی بڑا نقصان ہے انسان نہ خون کے رشتوں اور نہ انتخاب کے رشتوں پر سوفیصد مطمئن رہتا ہے شاعری اور فلموں میں چوری کی سب سے اچھی قسم یعنی دل کا چوری ہونا کہتے ہیں جب ہم بیٹھے بٹھائے رہتے ہیں اور دل سینے سے ہجرت کرجاتا ہے۔ پھر دل کا خالی پن شاعری سے بھرتے ہیں دوسری اچھی چوری کتاب کی سمجھی جاتی ہے جو میری آفس ٹیبل سے بکثرت ہوئی اور مجھے تو خاص لطف نہ آیا کہ ان میں اچھی کتابیں بھی چلی گئیں …. سونا چاندی چوری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجود ہو اس کی موجودگی کا تب ہی پتہ چلتا ہے جب چور گھرلوٹ کر لے جاتے ہیں اورایف آئی آر میں ہر غریب ترین گھرانہ بھی پندرہ تولے زیور تین لاکھ کیش لکھواتا ہے …. نظریں چرانا آنکھیں نہ ملا سکنے کے زمرے میں آتا ہے کہ دل میں چور ہو تو آنکھوں کو کشٹ اُٹھانا پڑتا ہے ”چُرالیا ہے تم نے جو دل کو نظر نہیں چرانا صنم…. کافی اس فرق کو واضح کرتا ہے دل کی چوری جب بُری نہیں سمجھی جاتی تو نہ جانے گردوں کی چوری پر کیوں قدغن ہے، بہرطور ہمارے ہاں طبی چوریوں پر نگاہ کریں تو دل جگر پھیپھڑے گردے سبھی چوری ہوجاتے ہیں اور جاتے ہوئے چور اِن اعضاءکے پیسے بھی دے کر جاتے ہیں، بڑے بڑے ڈاکٹر یہ چوریاں کرتے ہیں …. اب آجائیں روبی چوریوں کی طرف تو اُن کا کوئی قطار وشمار حساب وکتاب ہی نہیں اس کے بھی تین درجات ہیں تو اور استفادہ اول الذکر میں ڈائریکٹ چوری ہے دوسرے درجے میں ایک ہی وقت میں تواءودوبارہ خیال کی صورت رعایت ہے استفادہ تو بالکل ہی جائز ہو چکا ہے بشرط یہ کہ ڈھنگ سے کیا ہو، بڑے بڑے اساتذہ اپنے سے بڑے اساتذہ کے کلام سے مستفید ہوچکے ہیں خیر اس کے لیے الگ کالم چاہے ویسے بھی ابھی لڑائیوں کے لیے ٹائم نہیں ….
اب آجاتے ہیں بدتمیز، بدتہذیب بداطوار بے تربیت بے پیرے بے مروت اور بدکردار لوگوں کی طرف لوگوں نے بدکرداری کو کسی مخصوص ایکٹ سے مربوط کررکھا ہے حالانکہ بدتمیزی آخری درجے کی برائی ہے یہ لوگ والدین سے شروع ہوتے ہیں اور گلی کوچہ کراس کرتے ہوئے کوٹھے پر چڑھ جاتے ہیں نہیں تو ٹرالے پر چڑھ جاتے ہیں منہ پھٹ لوگ اپنی بدتمیزی کا دفاع ”منہ پر سچ مارنے“ جیسی گھٹیا صفت سے کرتے ہیں دل دکھانے کو سچ بولنا کہتے ہیں …. میں نے بہت سی عورتوں کو اس مرض میں مبتلا دیکھا ہے کہ مرد تو گالی گلوچ کو ویسے ہی مردانگی کی نشانی سمجھتے ہیں اور لنگوٹیا دوستی یاری کی تو تکمیل ہی گالیوں کے بغیر نہیں ہوتی مردوں کی بدتمیزی عورتوں کی بدتمیزی سے مختلف ہوتی ہے عورتیں رشتوں کے اندر اس صفت کا زیادہ مظاہرہ کرتی ہیں بدتمیز سے بدتمیز عورت بھی سڑک پر چپ چاپ چلتی ہے گزشتہ دہائیوں سے مرد بنیان نیکر یا دھوتی پہن کرچوک میں کھڑے گلا پھاڑ کر بدتمیزی کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں کہ لباس کی معاونت بھی ضروری ہے۔ بدتمیزی کی نئی قسم میں عورتیں بھی شامل ہوگئی ہیں مگر ان کا لباس گلا پھاڑ کر سپیکر اُٹھا کر نقلیں اتار کر چلنے میں معاون نہیں یہ خواتین مردوں کے گلے خود پڑتی ہیں اور لباس میں کوٹ سکارف نقاب ماسک وغیرہ شامل ہیں چیختی چلاتی کبھی پاکستانی ٹیکس کبھی سواتی کییس کا رولاءڈالتی ہیں پی ایم ایل این کے غنڈے بھی اُن سے الجھنے کی بجائے آرام سے سوآتی صاحب اور ٹیکس کی رقم کا خبری و تحقیقی تجزیہ کرنے کا پوچھیں تو یہ خواتین کبھی دکھائی نہیں دیں گی ….
لوگوں کے دروازے پر آزادی اظہار وہ کرتے ہیں جنہیں اجتماعیت کی صورت لکھنے کا فن نہیں آتا اور وہ برائی کو ایک تہذیبی فعل سمجھ کر اس کے سدباب پر یقین نہیں رکھتے یہ لوگ بھی دوسری قسم کے کرپٹ ہوتے ہیں صرف کیمرے کے سامنے آنے کے لیے شور ڈالتے ہیں اور دیار غیر کی سردترین موت جیسی خاموشی وبوریت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں قسطوں والے چھوٹے سے فلیٹ برتن بھانڈے کپڑے دھونے کی اذیت ڈپریشن کی گولیاں اور تنہائی ان کا نصیب ہیں یہ لوگ پاکستان کو بدنام کرنے والے سیاست دانوں کا بہترین آلہ¿ کار ہوتے ہیں خود کو سیاسی طورپر باشعور ثابت کرنے کے لیے بدتمیزی کا سہارا لیتے ہیں رہ گئے نواز شریف تو ان کو کسی نواحی بستی کے فارم ہاﺅس میں رہنا چاہیے اب تک تو انہیں ان فلیٹوں سے نفرت ہوجانا چاہیے جو انہوں نے اپنی نسلوں کے لیے بنائے اور اپنا سیاسی کیریئر خراب کیا حیرت یہ کہ ان فلیٹوں میں سارا ن لیگ خاندان رہتا ہے مگر مالکانہ حیثیت کو ماننے کے لیے کوئی تیار نہیں نہ جانے یہ فلیٹ کس کے ہیں جن میں میاں برادری رہتی ہے ۔ نواز شریف سے تو زیادہ ایک سکول کا ماسٹر خوش قسمت ہے جب اپنے چھوٹے سے گھر کے دروازے سے نکلتا ہے تو دس لوگ اسے عزت سے سلام کرتے ہیں اور اس سلام دعا عزت کے لیے تو ہم گھر بناتے ہیں۔
رہ گئی بدتمیزی کی مہین قسم تو ہم ایسے نازک مزاج کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔
ذرا سا فرق تھا لہجے میں اور کچھ بھی نہیں
وہ ایک بات جو پھر ہم نے تم سے کی ہی نہیں

 

تبصرے بند ہیں.