اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں تقرری کے سوا!

21

میں حیران ہوں دنیا میں کہاں ایسے ہوتا ہے آرمی چیف یا اِس ٹائپ کی کوئی تقرری بے شمار لوگوں کی ”جان کا روگ“ بنی ہوئی ہو؟ باقی سارے اہم مسائل کو پیچھے چھوڑ دیاجائے؟ پاکستان میں یہ تقرری تمام اہم مسائل پر حاوی ہوچکی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے بس یہی ایک مسئلہ ہے جِس کے حل ہونے کے بعد ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، غربت اور بے روزگاری مکمل طورپر ختم ہو جائے گی، ہرطرف خوشیوں اور کامیابیوں کے شادیانے بجنے لگیں گے، ملک ترقی کی عظیم ترین منزل کی جانب دوڑنے لگے گا، ظلم، زیادتی، بددیانتی، جھوٹ، منافقت ملاوٹ ایسی بیسیوں لعنتوں سے نجات مِل جائے گی، اِس کے بعد ہم ”فرشتوں“ جیسی زندگی بسر کرنے لگیں گے…. خواب دیکھنے پر ظاہر ہے کوئی پابندی نہیں، مگر پہلے ہمارے کون سے خواب پورے ہوگئے جو ایک غیر سیاسی اور غیر متنازعہ آرمی چیف کی تقرری کے بعد پورا ہو جائے گا ؟، چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی ایسا کوئی شخص ہمیں کہاں مِلے گا؟۔ ہمارے تمام ”خوابوں“ کی حقیقت اِس ایک شعر اِس ایک واقعے جیسی ہے، ”ہم نے پھولوں کی آرزوکی تھی…. آنکھ میں موتیا اُتر آیا“ …. خواب ہمیشہ ہم اچھے دیکھتے ہیں تعبیر ہمیشہ کیسی کیسی صورت میں بھیانک نکل آتی ہے …. مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی بیگم نے ایک روز اُن سے کہا ”دلدار آج رات میں نے خواب دیکھا ہے تم نے مجھے بہت ایک خوبصورت قیمتی ساڑھی خرید کر دی ہے “….دلدار بولا ” بیگم تُسی واقعی ”خواب “ ای ویکھیا اے “ …. سو ہم نے اب تک غیر سیاسی اور غیر متنازعہ آرمی چیف کا جو خواب دیکھا ہے اللہ نہ کرے ہمیں بھی ویسا ہی کوئی جواب مِل جائے جیسا مرحوم دلدار پرویز بھٹی نے اپنی بیگم کو دیا تھا ….کچھ بھی نہیں ہونا حضور کچھ بھی نہیں ہونا …. ہماری یہ بدقسمتی اور المیہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہم ایک ہی دائرے میں گھومتے جارہے ہیں۔ ذاتی ومالی مفادات کو ہر پل ہم نے مقدم رکھا، ملکی مفادات کو جِس طرح نظرانداز کیا، بلکہ مُلکی مفادات سے جِس طرح ہم کھیلتے رہے اُس کے نتیجے میں ملک آج اِس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں دنیا ٹٹول ٹٹول کر اِسے چیک کررہی ہے ابھی کتنی سانسیں اِس کی باقی رہ گئی ہیں، …. فکر یہ نہیں اِس مُلک کا کیا بنے گا ؟۔ فِکر یہ ہے یہ ملک ایسے ہی نہ چلتا رہے، دُور دُور تک کوئی دکھائی نہیں دیتا ہمارے برسوں سے بِگڑے معاملات کو جو درست کردے، ظاہر ہے جب ہم خود اپنے معاملات درست کرنے کے لیے تیار نہیں کِسی اور سے یہ توقع کیسے باندھی جاسکتی ہے؟۔ دو خرابیوں نے خاص طورپر ہمارا ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے، ایک خرابی یہ ہم صِرف دوسروں کے گریبانوں میں جھانکتے ہیں، ہم صرف دوسروں کے چھابوں میں ہاتھ مارتے ہیں، بلکہ منہ مارتے ہیں، اور دوسری خرابی یہ ہم سب دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ خود نہیں ہونا چاہتے، اِس عالم میں جوطوفان بدتمیزی برپا ہے ہر شعبہ ہر ادارہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے، بے عزتی کا شکار ہے، بے بسی کا شکار ہے، اِس تنزلی بے عزتی اور بے بسی کے سامنے کون رکاوٹ بنے گا ؟ کون اِس کے آگے دیوار کھڑی کرے گا؟ دُور دُور تک کوئی دکھائی نہیں دیتا، پاکستان بننے سے لے کر آج تک جتنی ہم نے دیواریں کھڑی کیں اُتنے ہم نے پُل بنائے ہوتے، ملک ترقی کی عظیم ترین منزل پر اب کھڑے ہوتا۔ اور یہ جو بائیس کروڑ کا ”ہجوم“ ہے واقعی ایک ”قوم“ ہوتی۔ میں پہلے بھی لِکھ چکا ہوں بھارتی دانشور خشونت سنگھ کا ایک بار ایک انٹرویو کہیں میں نے پڑھا تھا، ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے فرمایا” 1947میں برصغیر کے مسلمان ایک ”قوم“ کی طرح تھے جنہیں ایک مُلک کی ضرورت تھی، پھر اِس قوم سے ایک لیڈر قائداعظمؒ پیدا ہوئے۔ جنہوں نے ایک ملک (پاکستان) بنایا، اب پاکستان ایک ملک ہے جِسے ایک ”قوم“ کی ضرورت ہے“…. یعنی 1947میں ایک ”قوم“ تھی جِسے ایک مُلک کی ضرورت تھی، اب ایک ملک ہے جِسے ایک قوم کی ضرورت ہے …. پاکستان کی یہ ضرورت دِن بدن بڑھتی جارہی ہے ، قومیں ایسی تھوڑی ہوتی ہیں نہ اُن کے حکمران ایسے ہوتے ہیں ایک تقرری کو جان کا روگ بنالیں، دنیا کو یہ پیغام دیں ہمارا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے ، اُن لوگوں کو ہم کیسے ”وطن دوست“ قرار دیں جو جان بوجھ کر یا اپنی طاقت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں جس سے ظاہر ہو پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ یہی ہے، ….مہذب مُلکوں میں آرمی چیف کی تقرری ایک عمومی معاملہ ہوتا ہے جِس سے لوگوں کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ ہم نے اِسے اتنا بڑا معاملہ بنایا ہوا ہے جب بھی اِس تقرری کا وقت آتا ہے ہر چیز ساکت ہوجاتی ہے، سب کو اپنی اپنی پڑی ہے یہ تقرری اُن کی پسند کی ہونی چاہیے، جو حساس معاملے چند اہم لوگوں کے درمیان ہونا چاہیے وہ ٹی وی ٹاک شوز کا ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ جیسے کوئی الیکشن ہورہا ہو، حکمران وغیر حکمران سیاسی جماعتوں کا بس نہیں چلتا اِس تقرری کے اُمیدواروں کو اپنا اپنا انتخابی نشان الاٹ کردیں، پتہ تو خیر اب بھی سب کو ہے کون کِس کا اُمیدوار ہے؟ یہ الگ بات ہے بعد میں کوئی کِسی کا نہیں رہتا۔ جِس کِسی کو ”اپنا اُمیدوار“ بنا کر یہ لاتے ہیں، یا اُن کا اُمیدوار بن کر جو بھی آتا ہے بعد میں کوئی کِسی کا نہیں رہتا ۔ تاریخ اور ماضی ایسے المیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ مگر کوئی سبق نہیں سیکھتا، ماضی میں میرٹ کو بہت کم اہمیت دی گئی، جِس کے نتیجے میں ایک آدھ ادارہ جو تباہی اور بے عزتی کے بدترین مقام پر پہنچنے سے بچا ہواتھا اب حالت زار میں ہے، اپنی اپنی طاقت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو بے عزت کرنے کا سلسلہ جِس خطرناک حدتک بڑھ چکا ہے مُلک اس تباہی کا مزید متحمل اب نہیں ہوسکتا، …. ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہی کِس کا واسطہ دے کر اِن نام نہاد ”بڑوں“ کو ہم سمجھائیں ذاتی مفادات کے دائروں سے باہر نکل کر تھوڑا بہت اُس ملک کا بھی اب سوچ لیں جو جتنا اب بے یارومددگار دکھائی دیتا ہے شاید ہی اِس سے پہلے کبھی دکھائی دیا ہو۔ اللہ کرے ایک آدھ روز میں ”تقرری“ کا مسئلہ حل ہوجائے تاکہ پِھرنئے مسائل جنم لے سکیں کہ ہمارے مسائل ختم ہونے کا نام ہی بھلا کب لیتے ہیں ؟؟؟!!

تبصرے بند ہیں.