اکڑ بکڑ بمبے بو اور آرمی چیف کی تعیناتی

11

آرمی چیف کی تعیناتی ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ملک کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں کی عاقبت نااندیشی نے اسے بھی متنازع سے زیادہ مزاحیہ بنا دیا ہے اور اس معاملے میں ضرورت سے زیادہ سیاست ہو رہی ہے۔ سیاستدانوں کے اس طرز عمل پر بھارت سمیت بیرونی دنیا بھی ہم پر ہنس رہی ہے کہ ملکی دفاع کے لیے اہم ترین تقرری کو بھی ہم نے تماشا بنا دیا ہے۔ میرے ذرائع کے مطابق نومبر کے آخری عشرے تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان ہو سکتا ہے اور فی الوقت حکومتی ترجیحات سنیارٹی ہے۔ لیکن لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کے پیش نظر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے جملہ سیاستدان، اشرافیہ، میڈیا و ہر طبقہ ایک بساط پر تمام کور کمانڈرز کی تصاویر بچھا کر آنکھیں بند کر کے شہادت کی انگلی کی مدد سے نئے آرمی چیف کی تلاش میں اکڑ بکڑ بمبے بول کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ لیکن جب آنکھ کھلتی ہے تو جس تصویر پر ان کی انگلی رکتی ہے اسی کو رد کر دیتے ہیں اور پھر سے یہ کھیل شروع کر دیتے ہے۔ یقیناً آرمی چیف کی تعیناتی ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر اکڑ بکڑ بمبے بول کا بچگانہ کھیل بند ہونا چاہیے ورنہ خدانخواستہ اسی نوے پورا سو ہونے تک معاملات کسی اور طرف بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہمیں بحیثیت قوم سنجیدہ ملکی معاملات کو بھی غیر سنجیدہ لینے کی عادت ہے۔
آرمی چیف کی جب بھی تعیناتی ہوتی ہے اسی طرح کی افراتفری اور تماشا ہوتا ہے۔ سوائے ان 33 سال کے جس میں ایوب خان، ضیاالحق اور جنرل مشرف نے خود کو یہ اعزاز بخشا اور اپنے نام کی خود ہی منظوری دی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا مسئلہ ہمیشہ سویلین دور میں ہوا اور بلڈی سویلین سمجھتے رہے کہ اس تعیناتی میں ان کا اختیار ہے اور بھٹو سے لے کر نواز شریف تک جب جب یہ اختیار استعمال کیا ان کے گلے ہی پڑا۔ بہتر ہے اس تعیناتی کے لیے بھی عدلیہ کی طرح کوئی آئینی و قانونی اصول وضع کر دیے جائیں تا کہ تنازع ہی ختم ہو۔ عدلیہ میں ججز اور چیف جسٹس کی تعنیاتی کی طرح چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے لیے قانون سازی کے ذریعے ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دی جائے۔ اس کے لیے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل کی براہ راست نامزدگی کر دی جائے۔ اگر فوجی جنتا کو پارلیمنٹ کی بالا دستی قبول نہیں تو کور کمانڈرز کا ایک خصوصی اجلاس بلا کر نئے آرمی چیف کے لیے ایک متفقہ نام دے دیا جائے اور اس پر وفاقی حکومت نئے آرمی چیف کا نوٹیفیکیشن جاری کر دے۔ جمہوریت، حکومت اور سیاستدانوں کی انا کی تسکین کے لیے وزیر دفاع اور اپوزیشن لیڈر بھی اس خصوصی اجلاس کا بطور مبصر حصہ ہو سکتے ہیں۔
عوام کو اس تقرری سے کس قدر دلچسپی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں چوک چوراہوں میں عام آدمی سے لے ایلیٹ کلاس تک کا پسندیدہ موضوع یہی ہے کہ اگلا آرمی چیف کون آئے گا؟ میں نے جب کچھ عام آدمیوں بشمول تاجر، دکاندار، ڈرائیورز، ٹھیلے والے، مالی، مزدوروں، کسانوں، گھریلو ملازمین اور اس طرح کے دیگر لوگوں سے پوچھا کہ اس تقرری کے حوالے سے ان کی تشویش کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ان کی بلا سے جو مرضی آ جائے لیکن اس تقرری پر سیاستدانوں کے آپسی تنازعات اور تاخیر
کے حوالے سے ملک اور کاروبار رکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کا سارا زور ملکی معاملات سے ہٹ کر اس تقرری کی طرف لگا ہے۔ نئے چیف کے آنے سے یہ گرد بیٹھ جائے گی اور شاید ملک پھر اپنے رستے پر چل نکلے گا۔
گو کہ فی الوقت 5 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کسی ایک کو آرمی چیف لگانے کی بات ہو رہی ہے اور کچھ تو ان 6 جنرلز کی بات کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو میرٹ پر، تمام امیدوار فوج کی کمان کی ذمہ داری سنبھالنے کے اہل ہیں کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل تک پہنچنے کے لیے سیکنڈ لیفٹیننٹ کو جن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا وہ اسے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کندن بنا دیتے ہیں لیکن اب بات چوائس، تیرا آدمی میرا آدمی یا پسند نا پسند پر آ گئی ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام افسران آرمی چیف کے عہدے کے لیے اہل ہیں لیکن دونوں ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ایک کے کسی مخصوص طرف جھکاو¿ کے تاثر کی وجہ سے تقرری کے معاملات کافی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
سینئر ترین جنرل کی نامزدگی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن نواز شریف کا ماضی جانتے ہوئے وہ سب کو حیران کرتے ہوئے کسی جونیئر جنرل کو بھی نامزد کر سکتے ہیں جس طرح انہوں نے جنرل مشرف کو چنا تھا گو کہ وہ بعد میں انہی کے ہاتھوں چن دیئے گئے۔ اس لیے سینئر جنرلز سے ہٹ کر جنرل مشرف کی طرح کا کوئی ڈارک ہارس (Dark Horse) بھی آ سکتا ہے۔ جنرل مشرف کی تعیناتی کے وقت بھی میں نے دی نیوز میں آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ نواز شریف سینئر ترین جنرل سے ہٹ کر کوئی سرپرائز بھی دے سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ اس خبر میں، میں نے جنرل علی قلی خان، خالد نواز اور دوسرے جنرلز کی وابستگی اور تقرری کے حوالے سے تجزیہ کیا تھا۔ گو کہ اس خبر کے بعد مجھے بھگتنا بھی پڑا اور کینٹ میں ایک دفتر میں پیش بھی ہونا پڑا لیکن جلد ہی جان چھوٹ گئی۔ اس کے لیے اس وقت کے لاہور کے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر سفیر تارڑ کا مشکور رہوں گا۔
جوں جوں اس تقرری میں تاخیر ہو رہی ہے ہر کوئی اپنا تجزیہ لا رہا ہے۔ ڈان اخبار کی عاتکہ رحمان نے بھی نئے آرمی چیف کی تقرری کو اسی طرح موضوع بحث بنایا ہے جس طرح میں نے 1998 میں جنرل مشرف کی تقرری پر دی نیوز میں کیا تھا۔ عاتکہ کے مطابق سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نواز شریف کے قریبی سمجھے جاتے ہیں نواز شریف کی ممکنہ چوائس وہی ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ادارے کا اپنا جھکاو¿ ٹین کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ ساحر شمشاد مرزا کی طرف بتایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں ڈان نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ جنرل مرزا عمران خان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک سخت گیر آفیسر سمجھے جاتے ہیں۔ آگے چل کر عاتکہ لکھتی ہیں جنرل محمد عامر پیپیلز پارٹی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ جنرل فیض حمید متنازع ہو چکے ہیں اور پی ڈی ایم کا الزام ہے کہ وہ عمران خان کے قریب ہیں۔ اگر کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو میجر جنرل اظہر عباس کے نام کا قرعہ نکل سکتا ہے۔ گو کہ ادارہ 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی طرف جھکاو¿ رکھتا ہے، اور اگرچہ متاثر کن اسناد کے ساتھ ایک بہترین امیدوار کہا جاتا ہے، لیکن انہیں عمران خان کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ تاہم فوج کسی ایسے شخص کو نہیں چاہتی جو سیاسی طور پر منسلک ہو۔ جنرل ساحر نے ان تمام خوابوں کے عہدوں پر خدمات انجام دیں جو ایک فوجی افسر کو حاصل ہو سکتی ہیں، اور یہ ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے، لیکن یہ تاثر، ایک بار پھر، یہ سب کچھ بہت مبہم بنا رہا ہے۔ جنرل اظہر عباس وہ ممکنہ ڈارک ہارس ہو سکتے ہیں جو اب ایک آپشن کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ وہ میڈیا کی لائم لائٹ سے دور اور کم گو ہیں لیکن انہیں بہت پیشہ ور اور روشن خیال سمجھا جاتا ہے دوسرے ابھی تک ان پر کسی کیمپ سے تعلق کا لیبل بھی نہیں لگا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بے وقت کی راگنی الاپتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے معاملے پر ماضی میں جو قانون سازی ہوئی وہ ختم ہونی چاہیے اور توسیع کا یہ قانون ہر آرمی چیف کو ڈسٹرب رکھے گا۔ گو کہ رانا ثنااللہ کا ایسے نازک موقع پر یہ بیان جب نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہی مسئلہ بنی ہے راولپنڈی اور اسلام آباد میں فاصلے پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات کو دیکھتے ہوئے فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی بازگشت کور کمانڈز کانفرنس میں بھی سنی گئی۔ نئے چیف آف آرمی سٹاف کا پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے علاوہ سب سے بڑا ہدف فوج کو سیاست سے مکمل دور اور اس کی ساکھ بحال کرنا ہو گا۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
اس کالم کے حوالے سے اپنی رائے 0300-4741474 پر وٹس ایپ کریں۔

تبصرے بند ہیں.