اہم تعیناتی

11

اگرچہ میری رائے میں استقدر شور برپا ہونا نہیں چاہئے مگر کیا کیا جائے کہ اچانک ہی ہمارے ہاں ہر کسی کے دماغ میں ایسی نام نہاد دانش بھڑک اٹھتی ہے کہ ہم زمیں نشیں ہی نہیں بلکہ آسماں نشیں چیزیں بھی دریافت کہ بیٹھتے ہیں اور پھر کبھی دعائیں کبھی بدعائیں دینے لگتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے سنجیدہ ترین معاملوں اور مسئلوں نے ہمیں ایسی دماغ سوز حالت سے دو چار کیا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے کتنے ہی عوام اور ان کے مسئلے ہیں جن کو ہمیں عشروں پہلے حل کر کے نکل جانا چاہئے تھا۔ مگر ہم ہیں کہ ملک و قوم کا مسئلہ ایک طرف ہوتا ہے اور ہم دوسری گلی میں جا نکلتے ہیں اور یوں کسی معجزہ نمائی کے منتظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یوں ہم پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی جھولیاں تمام تر ناکامیوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ اگر ایمانداری سے اگر سوچا جائے تو محسوس ہو گا کہ ہمیں آج فضاؤں میں کس قدر سربلند اور سرفراز ہونا چاہئے تھا۔ مگر ہم نے آج تک اپنی جماعتوں کی بدولت کیا کمایا اور کیا پایا ہے۔ دنیا سیاروں کے مداروں میں نئی نئی ٹیکنالوجی لئے گھوم رہی ہے اور ہم NON ISSUE کی جنگ میں سب کچھ ہار رہے ہیں۔ ہماری بحث تو دنگ کر دینے والی مہارت اور میدان ہونے چاہئے تھے۔ مگر ہم اس بحث میں الجھے ہیں کہ اگلا چیف آف آرمی سٹاف PPP یا ن لیگ یا PTI یا JUI یا جماعت
اسلامی یا دیگر سیاسی جماعتوں کی پسند کا ہو گا اور بالغرض اگر ان میں سے کسی کی منشاء کے مطابق ایسا ہو بھی جائے تو بھی یہ کون سے خوش دکھائی دیں گے۔ پھر بھی محاذ آرائی ہی ہماری اجتماعی سیاست ٹھہرے گی۔ چونکہ گزشتہ ایک ہفتے سے میرے معزز قارئین کی آراء بھی اس مسئلے پے ڈٹی ہوئی ہے کہ اس پے کالم لکھیں تو مجبوراً چند باتیں مزاج کے خلاف محض اپنے معزز قارئین کی خوشی کے لئے یہ ہیں کہ میری رائے میں اگلا آرمی چیف ایسا ہونا چاہئے۔ جو سیاسی و معاشی زخموں سے چور قوم کو ایسی خوشخبری دے سکے کہ کچھ نہ کچھ سکوں میسر آ سکے ہمارے تمام اداروں سے کچھ نہ کچھ دباؤ کم ہو سکے اور جو سول ملٹری ریلیشن شپ کے مہاتماہوں اور وہ اس سیارے کے مدار میں ایسا کمال دکھا سکے کہ دنیا دنگ رہ جائے۔ بہت سے لوگوں نے نام کی ضد کی ہے اگرچہ میں نے ہاتھ جوڑ کر انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا ہر جرنیل اس پر آشوب دور میں بھی اپنی تربیت اور اپنے فن سے اپنے تجربے اور اپنی مہارت سے اقوام عالم میں جنگ اور جنون کی بجائے امن اور خوشحالی کے لئے سنہری کردار ادا کر سکتا ہے۔ لکھتے لکھتے میرا خیال ہے کہ شاید آئندہ ہمارے صاحب کا نام ڈیل AA یا مرزا صاحب ہو۔ خدارا یہ محض آپ کی خوشی کے لئے ایک بے تکہ سا جملہ ہے۔ حتمی نہیں ہے لہٰذا چاہئے تو ماں لیں چاہے رو ک دیں۔ جبکہ میری رائے میں ہمارے تمام حاضر سروس جرنیل بے مثال ہیں۔
٭……نیب ترامیم سے ٹرائل مشکل …… سپریم کورٹ
٭……کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بے گانہ نہیں ہوں۔
٭……عمران اب بھی ایمپائر کی انگلی کا منتظر۔ وزیر دفاع
٭……وزیر دفاع جناب خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک کے نئے آرمی چیف کا نام قوم کو 25 یا 26 تاریخ نومبر کو ہو جائے گا۔ اگرچہ میرے ذرائع ان سے مختلف ہیں بہرحال انکا یہ بھی فرمانا ہے کہ جناب عمران خان اب بھی انگلی کے منتظر ہیں۔
محترم خواجہ صاحب آپ کیا جانیں جو مزہ انتظار میں ہے وہ ملاقات میں کہاں ہے۔ کسی محترم شاعر نے کہا تھا۔
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقین نہ کوئی امید
مگر ہمیں تو تیرا انتظار کرنا تھا
٭…… وزیر اعلیٰ پنجاب کو چینی فلڈ ریلیف کا چیک
٭…… بلاشبہ، وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی ایک باعمل اور سنجیدہ سیاستدان ہیں۔ لہٰذا ان کی عوامی خدمات کی بدولت یہ چینی فلڈ ریلیف چیک پیش کیا گیا۔ یہ میری نگاہ میں امداد بھی ہے اور انعام بھی ہے۔ بقول شاعر
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

تبصرے بند ہیں.