صدر اور گورنر کی توجہ طلب باتیں

11

لاکھ اختلاف سہی، عمران خان کے نام لیوا کسی وقت قابل رحم محسوس ہوتے ہیں۔ بیچاروں نے انقلاب کیا لانا تھا، خود چکرا کر رہ گئے ہیں۔ یقینا انہیں سجھائی ہی نہیں دے رہا کہ وہ کرنا کیا چاہتے تھے اور کر کیا رہے ہیں۔ یعنی
کریں تو کیا کریں اور
جائیں تو جائیں کہاں
سمجھے گا کون یہاں درد بھرے دل کی زباں
مایوسیوں کا مجمع ہے جی میں
کیا رہ گیا ہے اس زندگی میں
اور ایسا ہو بھی کیوں نا، اپنے قائد عمران خان کے جس بیانیہ پر انہوں نے گزشتہ چند ماہ سے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا اور گلا پھاڑ پھاڑ کر اسے سچ ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے تھے، آج معلوم ہوا کہ وہ سارا عمل خود عمران خان کے لیے قابل ِ ندامت ہے اور وہ اس سے جلد از جلد اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ گویا
یاد ِماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
موصوف کہتے ہیں کہ امریکی سازش کا بیانیہ گزر چکا، وہ اب پیچھے رہ گیا۔ میں اب امریکہ پر
الزام نہیں لگاتا دوبارہ وزیر اعظم بنا تو امریکہ سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہوں۔ یعنی ایک اور یوٹرن اور امریکی بیانیہ سے یکسر و کلی دستبرداری۔ ویسے خان صاحب کی الٹی چال، بلکہ اسے اُلٹی دوڑ کہنا زیادہ بجا ہو گا، یہیں تک رہتی تو شاید ان کے نام لیواؤں کو اتنی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ تاہم کیا کریں یک نہ شُد دو شُد کے مصداق خان صاحب نے یہ تک کہہ دیا کہ یوکرین پر حملہ سے ایک دن پہلے انکا دورہ روس باعث ندامت ہے۔ اب آپ یقینا سمجھ تو گئے ہونگے کہ عمران خان اتنی دور کی کوڑی کیوں لائے ہیں۔ در حقیقت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں عوام کی عدم دلچسپی خان صاحب کے تبدیلی و خونی انقلاب کے غبارے سے کچھ اس تیزی سے ہوا نکلی ہے کہ انہیں اپنا سیاسی کیریئر خطرے میں نظر آ رہا ہے۔ وہ کن قوتوں کے اشارے پر سارا کھیل رچائے ہوئے تھے، تیزی سے طشت ازبام ہو رہا ہے۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ ایک طاقتور ادارے کے اندر جاری رسہ کشی گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے سیاسی اُفق پر ”پراکسی وار“ کی شکل میں لڑی جا رہی ہے۔ ایسے میں جو قوتیں پاکستان میں فتنہ و فساد دیکھنا چاہتی
تھیں خوش قسمتی سے ہنوز کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ہاں اگر عمران خان کے لانگ مارچ میں پچاس ہزار تک بھی لوگ جمع ہوجاتے تو عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں نہ صرف ملک کسی سنگین بحران کا شکار ہو جاتا بلکہ پاکستان مخالف قوتوں کا مذموم ایجنڈا بھی کامیاب ہو جاتا۔ خیر، اُ مید کی جاتی ہے کہ چند دنوں میں آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل بخوبی سر انجام پا جائے گا اور ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف کی جانے والی بہت سی سازشیں خود بخود دم توڑ جائیں گی۔
گورنر پنجاب بلیغ الرحمن انتہائی منکسر المزاج اور وضع دار انسان ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انسانیت کی عظمت و توقیر کیا ہے۔ بلیغ الرحمٰن جب سے گورنر پنجاب بنے ہیں گورنر ہاؤس کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ یقینا اس سے پنجاب میں ریاست اور عام آدمی کے درمیان موجود خلیج میں کمی واقع ہو گی۔ چند روز قبل ان سے ملاقات ہوئی تو پُرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ چہرے پر وہی میٹھی مسکراہٹ تھی جو ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی رسی کشی پر بات ہوئی تو کہنے لگے کہ حتی الامکان کوشش ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیکر ملکی کے سیاسی، انتظامی اور دفاعی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی لاہور آئے تو انہوں نے نہ صرف انہیں خوش دلی سے ریسیو کیا بلکہ کوشش کی کہ ان کے قول و عمل سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان خلیج کو کم کیا جا سکے۔
پنجاب میں ایک سیاسی جلوس پر فائرنگ کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کی بہرحال ذمہ داری پنجاب حکومت پر بنتی ہے جو اس حوالے سے ناکام رہی، ایسے میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چودھری بتا چکے ہیں کہ انہیں واقعہ کا پہلے ہی سے علم تھا تو پھر سکیورٹی کو فول پروف کیوں نہ بنایا گیا؟ آپ ہی بتائیں کہ واقعہ کے بعد جب چند درجن لوگ گورنر ہاؤس جو کہ ریاست کی علامت ہے، کے گیٹ پر تھوڑ پھوڑ اور آتش زنی کرتے ہیں اور اس دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے تو دُنیا آپ کے بارے میں کیا سوچے گی؟ یہاں کون آئے گا؟ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس کو لکھا ہے تاہم ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ یہ بھی پنجاب حکومت کی ایک بڑی ناکامی ہے کہ اس روز چند سو افراد نے اہم شاہراہوں کو بند کر کے عوام کو گھنٹوں ٹریفک میں پھنسا کر تنگ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے بڑی وضاحت سے کہا تھا کہ گورنر راج ایک انتہائی قدم ہے۔ ایسے حالات پیدا کر دیے گئے تھے کہ یہ مزید خراب ہوتے تو گورنر راج لگا دیا جاتا تاہم اس وقت ایسی صورت حال نہیں رہی۔ گورنر بلیغ الرحمن کا کہنا تھا کہ شہرت کا حصول کبھی میرا مطمع نظر نہیں رہا۔ عوام کی خدمت محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔
2014 سے جب سے دھرنے شروع ہوئے ہیں ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت ملک کے معاشی حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے دن رات کوشش کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک میں تعلیم کے فروغ کا دعویٰ کیا تاہم عملاً اس کے لیے مختص بجٹ کو انتہائی کم کر دیا۔ منہاج القرآن یونیورسٹی اس حوالے سے قابل ذکر ہے کہ جہاں یہ مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کر کے ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے وہیں بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرے سے اقلیتوں کے خلاف موجود تعصب اور نفرت کو ختم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ چیئرمین حسین محی الدین اور یونیورسٹی کی انتظامیہ اس کارہائے نمایاں پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس موقع پر صدر پاکستان عارف علوی نے بہت اہم باتیں کیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو بحیثیت قوم ہم اپنے معاشرے کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی اور آقائے دو جہاں حضرت محمدﷺ کی دعا رب ِزِدنی علما کا مفہوم و حکمت جان کر اسے اپنا لیں تو ہمیں کامیابی کی منازل طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمیں اپنے باہر کے ساتھ اپنے اندر کی دُنیا پر بھی غور و فکر کرنا ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا مولانا رومی نے انسانی ترقی کے کچھ مدارج کا ذکر کیا ہے۔ پہلا درجہ خود کو سمجھنا اور محبت کرنا ہے۔ دوسرا درجہ اپنے اہل خانہ اور خاندان کے لیے محبت رکھنا اور انکی فلاح کا کام کرنا، تیسرا درجہ ہمسایوں کے لیے محبت رکھنا، چوتھا درجہ انسانیت کی فلاح اور پانچواں درجہ اللہ رب العزت کی ساری مخلوق سے محبت رکھنا ہے۔

تبصرے بند ہیں.