میلبرن میں پاکستان کو شکست دینا آسان نہیں: کرکٹ تجزیہ کار

19

 

میلبرن: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کچھ دیر بعد میلبرن کے تاریخی گراؤنڈ پر ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ میلبرن میں آج بارش کا امکان ہے تاہم محکمہ موسمیات اور کرکٹ شائقین پرامید ہیں کہ آج کا میچ ضرور ہوگا۔ جبکہ کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کیلئے پاکستان کو شکست دینا انتہائی مشکل ہوگا۔

 

یواے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کے مضمون نگار انیس سجن نے لکھا ہے کہ میلبرن میں پاکستان کو شکست دینا مشکل ہو گا۔۔ پاکستانی شائقین پر امید ہیں آج بھی 30 سال پہلے اسی گراؤنڈ پر کھیلے گئے 1992 کے فائنل کی تاریخ دہرائی جائے گی۔

 

انیس سجن کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے میچ سے تین ہفتے قبل بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی اور تمام شائقین امید کر رہے تھے کہ بارش رکے گی اور انہیں بھرپور کھیل ملے گا۔ جب پاکستان نے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرا دیا تو شائقین ایک اور  بھارت پاکستان میچ کی امید کرنے لگے اور وہ بھی فائنل  لیکن جوس بٹلر اور انگلینڈ نے بھارتی ٹیم کو ناک آؤٹ پنچ دیا اس صدمے  سے بھارتی شائقین ابھی تک  نہیں نکل سکے۔

 

مضمون نگار نے مزید لکھا کہ اب مضبوط انگلینڈ اور غیرمتوقع کارکردگی کے لیے معروف پاکستان کے درمیان ایک بڑا فائنل ہونے جا رہا ہے۔  پاکستانی شائقین پر امید ہیں 30 سال پہلے کی تاریخ دہرائی جائے گی اور پاکستان انگلینڈ کو شکست دے کر چیمپئن بن جائے گا۔

 

پاکستانی شائقین کا خیال ہے کہ پاکستان کے کپتان بابر اعظم بھی عمران خان کی طرح کر سکتے ہیں جنہوں نے 1992 میں 50 اوور کے ورلڈ کپ میں شاہینوں کو فتح دلائی تھی ۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ یہ ایک مختلف فارمیٹ ہے جہاں انگلینڈ اپنی پوری کوشش کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ 1992 میں جو کچھ ہوا اس کا اعادہ نہ ہو۔

 

انیس ساجن کے مطابق سب جانتے ہیں کہ یہ میچ انگلینڈ کی نڈر اور حملہ آور بیٹنگ لائن اپ اور  پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کے خلاف ہے جو دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک میں سے ایک ہے۔ تیز رفتار شاہین شاہ آفریدی اپنی بہترین کارکردگی پر واپس آ رہے ہیں کیونکہ وہ انجری سے واپس آ رہے تھے۔ اور نوجوان نسیم شاہ جو  145 کی سپیڈ سے گیند کرا رہے ہیں ۔پاکستان کے پاس حارث رؤف بھی ہیں  جنہیں بگ بیش کی وجہ سے آسٹریلوی کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ ہے اور پاکستان کے پاس سے بڑا ہتھیار مسٹر T20 شاداب خان ہے۔

 

شاداب خان وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو دیگر باؤلر نہیں کرسکتے ۔آج کے میچ میں پاکستان کو فتح دلانے کے لیے سب سے اہم کردار شاداب خان کا ہوگا ۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ یاد رکھیں، انگلینڈ لیگ اسپن اچھی طرح سے نہیں کھیلتا اور شاداب کے پاس تمام چالیں ہیں اور وہ ایک حملہ آور باؤلر ہے جس نے  ٹورنامنٹ میں بہترین باؤلنگ کی۔ 6 میچوں میں 22 اوورز کرکے 14.50 کی اوسط اور صرف 6.59 کی اکانومی سے 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

 

انگلینڈ کی ٹیم بے خوف کھیلنے کے لیے مشہور ہے چاہے حالات کچھ بھی ہوں لیکن یہ ورلڈ کپ کا فائنل ہے۔ انگلینڈ فائنل میں ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سے جیتی بازی ہار چکا ہے اب جوزبٹلر یقینی طور پر ذہن میں ہوگا اور وہ اس موقع کو تیسری بار ہاتھ سے جانے دینا پسند نہیں کرے گا۔

 

یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انگلش بلے باز پاکستانی باؤلرز کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں ۔ انگلینڈ کو بھی معلوم ہے کہ یہ پاکستانی ٹیم سب سے خطرناک ہے اور اسے ہرانا مشکل ہے کیونکہ اسے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔

 

اب ایک ٹیم جو بے خوف کرکٹ کھیلتی ہے اور دوسری وہ جو کسی چیز سے نہیں ڈرتی۔ ان دونوں ٹیموں کے درمیان کچھ دیر بعد مقابلہ ہوگا ۔

تبصرے بند ہیں.