پاک فوج۔۔ہماری ریڈ لائن

20

جس طرح قوم کی حفاظت اورملک کی بقا کے لئے پاک فوج کی قربانیاں،جدوجہد،ہمت وعزم بے لوث اورلازوال ہے اسی طرح افواج پاکستان کے ایک ایک سپاہی اورقوم کے ایک ایک محافظ کے لئے ہماری محبت اورچاہت بھی بے لوث،لازوال اوربے مثال ہے۔گرمی ہویاسردی،ہرموسم اورہرآفت میں رات کے آخری پہرلائن آف کنٹرول اورسیاچن جیسے دورافتادہ علاقوں اورسنگلاخ پہاڑوں میں ملک وقوم کی حفاظت کے لئے پہرہ دینے والے اگرایک لمحے کے لئے ہمیں نہیں بھولتے توپھرقوم کے ایسے جانثارسپاہیوں اورمحافظوں کوہم کیسے بھولیں۔؟دسمبرکی ٹھٹھرتی راتوں میں برف پوش پہاڑوں پرساری ساری رات چوکیداری کیایہ کوئی آسان کام ہے۔؟ایئرکنڈیشن کمروں اوربلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کرپاک فوج کے خلاف بھونکناتوآسان ہے مگر لائن آف کنٹرول پرجان ہتھیلی پررکھ کردشمن کامقابلہ کرنامشکل بہت ہی مشکل ہے۔افواج پاکستان کے خلاف بھونکنے والے ایک صرف ایک دن ایل اوسی اورسیاچن میں گزار کر تو دکھائیں۔ یہ میڈیااورسوشل میڈیاپرپاک فوج کے خلاف مورچے اورمحاذکھول کریہ جوبہادربنے بیٹھے ہیں ان کوایک دن نہیں صرف چندگھنٹوں کے لئے بھی اگراگلے نہیں پچھلے محاذپربھی بھیجاجائے توآپ یقین کریں یہ گھنٹوں نہیں منٹوں میں یہ ملک ہی چھوڑکربھاگ جائیں گے۔یہ توپاک فوج کے جوان ہی ہیں جوتمام ترنامساعدحالات اورہرقسم کے مشکلات کے باوجودسینہ تھان کرآج بھی دشمن کے خلاف اگلے محاذپرڈٹ کرکھڑے ہیں۔ہمارے یہ بھونکنے والے نام نہادبہادرجوحب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جیب میں لئے پھرتے ہیں یہ تو آنسو گیس،پولیس لاٹھی چارج اورڈنڈے کودیکھ کر نانی یادکرنے اورپکارنے لگتے ہیں۔ خود سوچیں۔ ان کا سامناجب سیاچن اورلائن آف کنٹرول پراگلے کسی
محاذپر انڈین جیسے مکاردشمن سے ہوگااس وقت پھران کی کیاحالت ہوگی۔؟ہم نے اس ملک میں آمریت کی کوئی حمایت کی اورنہ ہی سیاست میں انگلیاں مارنے والے جرنیلوں کے کوئی قصیدے لکھے لیکن ایک بات پہلے بھی ڈنڈے کی چوٹ پرکی اورآج بھی کرتے ہیں کہ یہ ملک اسی فوج کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔ آج یہ جو سیاسی لوفر جن سیاستدانوں، لیڈروں اورقائدین کی سیاست اور محبت میں اندھے،گونگے اور بہرے ہو کر اس فوج کے خلاف بھونک رہے ہیں ان کے انہی سیاستدانوں، لیڈروں اور قائدین کااگرذرہ بھی کوئی بس چلتا تووہ اقتداراورکرسی کے لئے اس ملک کوکب کے بیچ چکے ہوتے۔جولوگ اقتدار اور کرسی کے لئے ملک وقوم کی سلامتی کاکوئی خیال رکھتے ہیں اورنہ ہی اہم وحساس قومی اداروں کومعاف کرتے ہیں وہ ا قتداراورکرسی کے لئے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ یہ تواللہ کاشکراورخاص کرم ہے کہ اس ملک کا دفاع ان ہاتھوں میں ہے جن ہاتھوں نے اس ملک کواب تک لیبیا، عراق، شام اورافغانستان بننے سے روکے رکھاہے۔آج جن قومی محافظوں کوبرابھلاکہہ کرگالیاں دی جارہی ہیں ملک وقوم کے یہی محافظ اگرنہ ہوتے توآج ہماری حالت بھی شام، عراق، لیبیا اور افغانستان سے ہرگز مختلف نہ ہوتی۔ سیاچن اورلائن آف کنٹرول سے ہٹ کربھی اس ملک وقوم پر سیلاب، زلزلہ اور دہشتگردی سمیت آزمائش وامتحان کی کوئی گھڑی آتی ہے تواس وقت پاک فوج کے یہی جوان اور قوم کے یہی محافظ ہوتے ہیں جو فرنٹ لائن پراپنی جانوں سے کھیل کرملک وقوم کو اس آزمائش سے نکالتے ہیں۔ ہم تواپنی ماؤں اوربچوں کی خاطر گھروں سے ہی نہیں نکلتے۔کیاقوم کے ان محافظوں کی مائیں اور بچے نہیں ہوتے۔؟ آپ نے کبھی سوچاہے کہ اس ملک وقوم کی خاطر جو جوان اگلے مورچوں اور محاذوں پرجام شہادت نوش کرکے خونی لباس میں بے جان جسم اوربندآنکھوں کے ساتھ تابوت میں واپس گھروں کولوٹتے ہیں تواپنے جگرگوشوں کوخون میں اس طرح لت پت دیکھ کران کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اورچھوٹے چھوٹے بچوں پرکیاگزرتی ہو گی۔؟ باہرجب حالات خراب ہوتے ہیں توتمہیں مائیں کہتی ہیں کہ بیٹاگھرسے باہرنہ جاناحالات خراب ہیں تمہیں کوئی چوٹ لگ جائے گی یا کوئی نقصان پہنچ جائے گا۔ایک صرف ایک منٹ کے لئے دل پرہاتھ رکھ کربتائیں کہ سیلاب اورزلزلہ کیا۔؟ گولیوں کی پوچھاڑمیں سروں پرکفن باندھ کرنکلنے والے ان قومی محافظوں کوجب ان کی مائیں رخصت کرتی ہونگی توان کے دلوں پراس وقت کیا بیت رہی ہونگی۔؟ آپ کے یہ سیاستدان،یہ قائداوریہ لیڈر تو جان کے معمولی خطرے کے پیش نظربھی پلٹ پروف گاڑیوں اورمکانوں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن آپ نے کبھی یہ سناہے کہ قوم کا کوئی محافظ بم دھماکے یاکسی خودکش حملے کی وجہ سے گھرمیں چھپ کربیٹھ گیاہے۔یہی وہ لوگ اورملک وقوم کے اصل ہیروہیں جوہمارے ہی کل کے لئے اپنا آج قربان کررہے ہیں۔آپ کے یہ سیاستدان، یہ لیڈر اور یہ قائد تو ستر سال سے ہمیں مہنگائی، غربت اوربیروزگاری جیسی ان چھوتی چھوٹی بلاؤں سے نہیں بچاسکے لیکن ہمارے یہ ہیرواللہ کی مدد اور نصرت سے آج تک ہمیں خطرناک سے خطرناک دشمن سے بھی بچارہے ہیں۔ آپ کے لئے عمران خان ریڈلائن ہوں گے یانوازشریف یاآصف علی زرداری یامولانافضل الرحمن۔لیکن ہمارے لئے پاک فوج کے یہی بہادر اور جانثار جوان ہی ریڈلائن ہیں۔ کپتان کے کھلاڑی ہوں یا دیگر سیاسی پارٹیوں کے کوئی اناڑی۔ہماری اس ریڈلائن کوجو بھی کراس کرے گا۔ ہمارے لئے پھر ان میں اور بھارتی ایجنٹ وسورماؤں میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اس ریڈلائن کوکراس کرنا ہمیں کسی بھی طور پر گوارا نہیں۔

تبصرے بند ہیں.