مفرور شخص ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے فیصلے کررہا ہے: عمران خان 

5

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفرور شخص ملک سے  باہر بیٹھ کر  پاکستان کے فیصلے کررہا ہے۔
 تفصیلات کے مطابق پاکستان کے چیئرمین عمران خان کا آزادی مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک خطاب میں کہنا تھا کہ لندن میں بیٹھ کر ملک کے اہم فیصلے کئے جا رہے ہیں،کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا کہ مفرور لوگ ملک کے فیصلے کریں، اسحاق ڈار بھی ملک سے باہر بھاگا ہوا تھا، اسحاق ڈار این آر او ملنے کے بعد  پاکستان واپس  آیا ہے۔  
عمران خان نے کہا حسن نواز نے لندن میں 10 ارب کی جائیدادیں خریدیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ پیسہ کہاں سے آیا؟ ڈیلی میل نے شہباز شریف پر چوری کا سنگین الزام لگایا ہے، شہبازشریف کو نہیں پتہ کہ وہ اس بار کہاں پھنسا ہے ۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا شہبازشریف کو غلط فہمی ہوئی کہ برطانیہ بیٹھ کر مرضی کا فیصلہ  کر لے  گا، عدل و انصاف کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، ملک کے سربراہ چوری کا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں، ان کو پیسہ واپس ملک میں لانا ہوتا ہے تو پاپڑ  والے کا نام استعمال کرتے ہیں ۔
عمران خان نے کہا  کہ اوورسیز پاکستانی اس لیے سرمایہ کاری نہیں کرتے کیونکہ  انہیں تحفظ نہیں دیا جاتا، اس طریقے سےنہ  ملک ایشین ٹائیگر بنے گا  اور نہ ہی لاہور پیرس بن سکتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ مجھ پر  آرمی چیف کی تعیناتی کو  متنازعہ بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے لیکن  میں ایسا نہیں چاہتا میرٹ  پر تقرری چاہتا ہوں،مجھے نہ کوئی اپنا جج چاہئے،   نہ آئی جی اور  نہ  نیب کا ہیڈ چاہئے ،آئی جی اسلام آباد  کے بارے میں عمران خان نے کہ ایسے شخص کو  آئی جی لگا دیا گیا جسے سزا ہونی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے دور  حکومت میں معیشت درست سمت میں جارہی تھی،  میری حکومت جانے کے بعد معیشت کا برا حال ہو گیا،موجودہ حکمران معیشت کو ہینڈل نہیں کر پا رہے،  موجودہ حکومت کے دور  میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے،  انڈسٹری بند ہو رہی ہے،  مزدور بے روزگار ہورہےہیں۔  
 پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف  کے  قتل پر پوری عوام سخت تشویش میں مبتلا ہے، اعظم سواتی کو  بھی بلیک میل کرنے کیلئے ان کی  ذاتی ویڈیو ریکارڈ کی گئی، اس سب کا مقصد  یہ ہے کہ  ہم چوروں کو تسلیم کرلیں۔

تبصرے بند ہیں.