جنرل باجوہ کی الوداعی ملاقاتیں

12

جنرل باجوہ صاحب کی الوداعی ملاقاتوں کے بعد عمران خان کی ایک خواہش تو پوری نہیں ہو سکی کہ اگلے الیکشن تک جنرل باجوہ کو مدت ملاذمت میں توسیع دی جائے۔ اس تجویز سے ان کا اول و آخر مقصد یہی تھا کہ اگلا الیکشن وہ جیت کر جب وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے تو نئے آرمی چیف کی تعیناتی وہ خود کریں۔مستقبل کے حال سے خدائے بزرگ و برتر کی ذات بہتر واقف ہے انسان تو اپنی انتہائی محدود عقل و سمجھ کے مطابق کچھ اندازے لگا لیتا ہے۔ موجودہ حکومت کو جنرل باوجوہ کی توسیع سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن جہاں تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اگر اگلے انتخابات میں عمران خان کے ایک فیصد جیتنے کے امکانات بھی ہوں تو پھر بھی نئے آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ موجودہ حکومت اگر آنے والی حکومت پر چھوڑ دیتی تو اس سے بڑا احمق کوئی اور نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ گذشتہ آٹھ نو ماہ سے ملک میں جو سارا کھڑاک ہو رہا ہے اس کی وجہ نئے آرمی چیف کا تقرر ہی تو ہے۔اگر کسی کو یاد نہیں تو ان کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ عدم اعتماد کی کی تحریک پیش ہی اس لئے کی گئی تھی کہ حزب اختلاف کو صحیح یا غلط دروغ بہ گردن راوی یہ خبریں مل رہی تھیں کہ خان صاحب اپریل میں اپنی مرضی کے نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے اور اس کے بعد یہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ اس وقت کی حزب اختلاف نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی تو نئے آرمی چیف کے تقرر کے بعد خان صاحب اپنی مخصوص مکارانہ سوچ کے تحت حزب اختلاف کے مطالبہ پر اسمبلیاں توڑ کر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیتے اور ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ان انتخابات میں دو تہائی اکثریت لے کر دوبارہ وزیر اعظم بن جاتے اور پھر قوانین میں اپنی من مانی ترامیم کرتے اور ان ترامیم کے خدوخال کیسے ہوتے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ جس طرح وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے معاملات تک جس طرح خان صاحب کی ہدایات پر آئین کو اپنے مفادات کے تحت توڑ مڑوڑ کر استعمال کیا گیا تو اگر سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو شاید عمران خان اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو چکے ہوتے۔قوانین میں ترامیم کے بعد میڈیا کا کیا حشر ہونا تھا اس کے لئے ان کے دور حکومت میں پیکا قانون کو ذہن میں رکھ لیں اور حزب اختلاف کے ساتھ کیا ہونا تھا اس کے لئے زیادہ سوچنے کی بھی ضرورت نہیں بس یہ سمجھ لیں کہ اگلے پانچ سال میں ان کی پوری کوشش ہونی تھی کہ ملک سے حزب اختلاف کا نام و نشان تک مٹ جائے اور صورت حال ایسی ہو جائے کہ
پنج ست مرن گوانڈناں
رہندی آں نوں تاپ چڑھے
سنجیاں ہو جان گلیاں
وچ مرزا یار پھرے
سلیس اردو میں ترجمہ ہے کہ پانج سات پڑوسنیں مر جائیں اور جو باقی بچیں وہ بیمار ہو جائیں اور گلیاں ویران ہو جائیں جن میں مرزا یار اکیلا ہی چلا پھرا کریں۔ اس میں قریبی پڑوسنوں سے مراد میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن ہو سکتے ہیں اور جن کے لئے شاعر بخار کی تمنا کر رہا ہے انھیں آپ موجودہ حکومت کے وہ اتحادی کہہ سکتے ہیں کہ جو اس سے پہلے خان صاحب کے ساتھ تھے۔ اگر کسی کو ہماری رائے سے اختلاف ہے تو خان صاحب کی وہ خواہشات جن کا اظہار انھوں نے بیانات کی صورت کیا تھا یاد کر لیں کہ اگر پچاس بندوں کو لٹکا دیا جائے تو ملک میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔
خان صاحب اپنے لانگ مارچ کو ٹھیک ان دنوں میں اسلام آباد پہنچانا چاہ رہے ہیں کہ جن دنوں نئے آرمی چیف کے تقرر کا امکان ہے۔ جس طرح خان صاحب دن میں اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہتے ہیں اور رات کے اندھیروں میں ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور اب تو یہ بات کوئی راز نہیں رہی بلکہ کئی مرتبہ خان صاحب خود اس کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ بگایا جاسکتا ہے کہ خان صاحب اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کے بغیر سیاست نہیں کر سکتے لہٰذا وہ نئے آرمی چیف کے تقرر کے بعد بھی آخری حد تک جائیں گے کہ ان کے تقرر کو جس حد تک ہو سکے متنازع بنا دیا جائے۔ صدر سے کہہ کر اسے ممکنہ حد تک یعنی پچیس دن تک لٹکایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام بھی کر سکتے ہیں اس لئے کہ اگر افواج پاکستان کے چیف کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ سے ہونے لگے تو پھر باقی کیا رہ جائے گا۔ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات ہم نہیں کر رہے بلکہ یہ کچھ تجزیہ کاروں کی رائے ہے لیکن ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے اس لئے کہ سپریم کورٹ کا اس تقرر سے نہ تو کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے عدلیہ کا کوئی آئینی کردار ہے لیکن عمران خان کو اس کی پرواہ نہیں ہو گی ان کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ہر معاملہ کو متنازع بنا کر اس سے اپنا مفاد حاصل کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اگر ہم ایسے بے خبر انسان کو یہ سوچ آ سکتی ہے تو دوسروں کو بھی یقینا آئے گی تو امید ہے کہ اس کا بہتر حل نکال لیا جائے گا۔اس حوالے سے خان صاحب کی ساری تگ و دو اس نقطہ پر مرکوز رہے گی کہ میڈیا میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں کہ قبل از وقت انتخابات اور نئے آرمی چیف کے تقرر میں ان کی مشاورت ایسے مطالبات کے رد ہونے کے بعد انھوں نے ایک افسر کے آرمی چیف نہ بنانے کی جس خواہش کا اظہار کیا تھاکم از کم وہ پوری ہو جائے اور اس کے لئے حکومت کے سامنے یہ مشکل ہے کہ ان کی مدت ملازمت 29نومبر سے دو دن پہلے پوری ہو رہی ہے اور اگر حکومت انھیں آرمی چیف بناتی ہے تو اس بات کو لے کر خان صاحب کافی واویلا مچا سکتے ہیں لیکن حکومت یا اس سے بھی اہم افواج پاکستان کا ادارہ کوئی بچوں کے کھیلنے کا میدان نہیں ہے کہ جہاں پر جس کا جوجی چاہے کرتا پھرے بلکہ یہ معاملات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ہمارے خیال میں اب اس حوالے سے کچھ نہ کچھ پیش بندی کرنی پڑے گی اس لئے کہ اگر کوئی بات ہو تو تب تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ خان صاحب کے سر سے آشیر باد کا ہاتھ اگر ہٹا لیا ہے تو خان صاحب ریلو کٹے بن کر ملک و قوم کے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر حد کراس کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور انھیں اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اور دشنام طرازی کی جس سیاسی ڈگر پر وہ چل رہے ہیں اس سے ملک و قوم اور خاص طور پر معیشت کو کیا نقصان ہو رہا ہے اور جس الزامی سیاست پر خان صاحب کی دکان داری چل رہی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سی این این کی خاتون اینکر کے بار بار پوچھنے کے باوجود بھی خان صاحب اپنے اوپر ہونے والی فائرنگ کے متعلق وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور افواج پاکستان کے ایک افسر پر لگائے الزامات کا کوئی موثر جواب نہیں دے سکے۔ بہرحال آرمی چیف کے تقرر میں اب چند دن ہی رہ گئے ہیں امید ہے اور دعا بھی ہے کہ اس کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.