زمینی حقائق اور ٹوئٹر

97

ایک بدنام زمانہ دو نمبر آدمی تھا وہ چوری کے مقدمہ میں دھر لیا گیا۔ اس پر بہت سی وارداتوں کے الزام تھے۔ پولیس نے جب اس کو گرفتار کیا تو اس سے وارداتوں کے بارے میں پوچھنے لگے پولیس نے روایتی حربے آزما لیے بالآخر ملزم نے کہا تھانیدارا مجھے ایک گلاس لسی پلا دو۔ پہلوان لسی پی کر کہنے لگا کہ تھانیدارا تو چوریوں اور وارداتوں کی بات کرتا ہے مجھے لسی کا یہ گلاس منوا لے کہ میں نے پیا ہے تو میں مان جاؤں، یہی حالت سیاسی افق پر پی ٹی آئی کی ہے، عمران خان کی ہے۔ ساری قوم ان متنازع، ایک دوسرے کے برعکس وقتاً فوقتاً اپنے مفاد کی خاطر بدلتے ہوئے موقف، بیانیے اور بیانات دہرا دہرا کر ہلکان ہو گئی مگر عمران سیریز ابھی جاری ہے۔ ساری دنیا کے سامنے وزیر آباد والا واقعہ پیش آیا ہزاروں فوٹیج ہیں عمران سے کوئی گولیوں کی تعداد نہیں اگلوا سکا نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ کہنا شروع ہو گئے گولی تو لگی نہیں بس ایک ”ٹھڈا“ لگا ہے۔ ملزمان کی تعداد بدلتی اور گھٹتی بڑھتی جا رہی ہے، جس کو کچھ نہیں لگا وہ زمانے پھر میں لہو لگا کر پھر رہا ہے اور جو زیر زمین چلا گیا اس کا ذکر تک نہیں۔ دراصل باطن نے بالآخر ظاہر ہونا ہی ہوتا ہے آج کل ٹویٹر اور سوشل میڈیا کا دور ہے لہٰذا اب لوگوں کی اصلیت برق رفتاری سے عیاں ہو رہی ہے اسی رفتار سے لوگ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے وطن عزیز کو نظریاتی قیادت دی جو آج تک پیپلز پارٹی اور مختلف جماعتوں میں سیاسی میدان میں ہے۔ کچھ لوگ آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ جناب بھٹو کے بعد عمران خان کو مقبولیت ملی ہے البتہ اس شک کا فائدہ دیتے ہیں کہ تب ٹوئٹر اور سوشل میڈیا نہیں تھا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جناب بھٹو 5 جولائی 1977 کو گرفتار ہوئے درمیان میں کچھ عرصہ جسٹس صمدانی صاحب نے ضمانت منظور کی تو رہا ہوئے باقی عرصہ 4 اپریل رات دو بجے 1979 تک جیل میں رہے۔ بھٹو صاحب جیل میں اور محترمہ نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو جیل سے باہر اور نظر بندی میں ایسی اذیتوں کا سامنا کرتے رہے جو آج تاریخ ہے پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد ضیا کے 11 سال، ملا مافیا، سرمایہ دار مافیا، میڈیا، امریکہ، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ کون تھا جو محترمہ کا ساتھی تھا صرف ان کا ووٹ بنک۔ اگر میں کوڑے، جیلوں، گرفتاریوں، پھانسیوں اور جلا وطنیوں کی داستان لکھوں تو لگے کا یہ قرون اولیٰ بلکہ فرعون کے وقت کے عوام کی حالت زار بیان کر رہا ہوں اور مقبولیت کا اندازہ لگائیں کہ وطن عزیز کی آبادی 9/10 کروڑ سے زیادہ نہ تھی مگر 10 اپریل 1986 کو جب محترمہ واپس آئیں تو اس دن اللہ کی کائنات میں صرف محترمہ کا استقبال تھا، طویل جدوجہد کے بعد حکومت ملی صرف 20 ماہ بعد سازشوں کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ پھر دوبارہ 17 اکتوبر 2007 کو کراچی میں جب جلاوطنی کاٹ کر وطن لوٹیں تو 30 لاکھ لوگ استقبال کر رہے تھے۔ بم دھماکہ ہوا 300 کے قریب لوگ شہید ہوئے پھر دوسرا دھماکہ ہوا بی بی کو ورکرز نے حصار میں لے لیا۔ مگر بی بی نے جعلی پٹیاں نہیں باندھیں اگلے روز پریس کانفرنس کی اور قاتلوں کو للکارا۔ بچوں کو ملنے دبئی گئیں، پرویز الٰہی کی اعلیٰ ظرفی دیکھیں، طعنے دینے لگے کہ بھاگ گئیں۔ وہ دوبارہ واپس آئیں، ہر قدم پر موت تھی، موت کا یقین تھا مگر بین الاقوامی سازش نے جان لے لی۔ پتہ نہیں کون کہہ رہا تھا کہ صرف سندھ میں احتجاج ہوا تھا لعنت
ہے اس پر، احتجاج تو آج بھی جاری ہے۔ عمران خان کیا حیثیت رکھتا ہے؟ جو پرزنر وین کے آنے کا سن کر چوکڑیاں بھرتا پتلی گلی سے بنی گالا نکل گیا صرف خبر سن کر کہ عدالتوں کے گیٹ کل گئے، ایئر پورٹ بند کر دیئے گئے، پرزنر وین آ گئی اور سلطان ٹیپو کے سانس اکھڑ گئے۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ دلیر بہت ہے، استغفراللہ۔ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن بنایا، بہت سے لوگوں کو لیڈر بنایا۔ آئیں اب فرق بتا دوں۔ گریٹ بھٹو حکومت چھوڑ کر جیل گئے، تحریک چلائی، نئی جماعت بنائی اور ملک کی پانچ سال میں وہ خدمت کی جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پوری زندگی قربانیوں اور جدوجہد سے عبارت ہے، بلاول بھٹو
والدین کے مشترکہ سایہ سے محروم رہے۔ گود میں تھے تو والدہ نانا کی داستان سناتی، ماموں کی شہادت کے قصے سناتیں، ساڑھے 6 فٹ کا جوان ماموں سازش سے قتل ہوا۔ باپ نے 12 سال سے زائد جیل میں گزار دیئے۔ لڑکپن میں پاؤں رکا کہ جواں سال شہید ماں کی میت اٹھانا پڑ گئی۔ دکھ ابھی جاری تھے کہ مخالفین نے بلاول بھٹو کا نام آنے پر جناب بھٹو کے وقت کی دفن شدہ سنگینیں پھر نکال لیں۔ بلاول بھٹو دبئی میں اپنے گھر دیواروں سے فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ جوان ماں کی میت بچوں کو لمحوں میں بوڑھا کر دیا کرتی ہے۔بھٹو کا نواسہ، بی بی کا لخت جگر، شاہنواز اور مرتضیٰ کا بھانجا، زرداری کا بیٹا دکھوں تکلیفوں اذیتوں کے سفر طے کرتے کرتے آج وطن عزیز کا کھویا مقام دنیا میں دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ بہادری اور سیاست ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی سیاست کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ میاں نوازشریف نے تین حکومتیں کس وجہ سے گنوائیں؟ سب کو علم ہے دو بار اذیت ناک جیل اور جلا وطنی دیکھی۔ مریم نواز نے عمران کی صورت میں ضیا، مشرف اور یحییٰ کو اکٹھے دیکھا۔ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں سیاسی بلکہ ہائبرڈ نظام کا سیاہ ترین دور تھا جس کا سامنا ان لوگوں نے کیا۔ دوسری طرف عمران خان جن کا منشور صرف جھوٹ اور طاقت کا سرچشمہ صرف پنڈی اور اسلام آباد تھا۔ ابھی تک ان کا دیا ہوا بندوبست سہارا دیئے ہوئے ہے۔ جنرل حمید گل، جنرل پاشا، جنرل ظہیر اسلام، جنرل راحیل، جنرل باجوہ نے گود سے گود کا سفر کرایا۔ جب ادارے نے اپنی ساکھ برباد ہوتے دیکھی تو غیر جانبداری کا فیصلہ کیا جو عمران خان کو اندر سے زخمی کر گیا۔ عمران خان صرف ٹوئٹر اور سوشل میڈیا کا لیڈر ہے اس کی حمایت کرنے والے اپنی فالوئینگ اور ریٹنگ بڑھانا چاہتے ہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ سوشل میڈیا پر بہت پیچھے ہیں لیکن انتخابی سیاست میں عمران خان آج بھی بمشکل چوتھے نمبر کی قیادت ہے۔ وقت آنے پر واپس عمران خان سے اصغر خان ہو جائیں گے، میری تجزیہ کاروں سے گزارش ہے کہ تاریخ مسخ نہ کریں اور ریٹنگ میں عمران کو محدث عدسہ سے دیکھنا بند کر دیں۔ نوازشریف، بلاول بھٹو، مریم اور پھر عمران مگر مولانا فضل الرحمن اور جناب سراج الحق صاحب پر بات پھر ہو گی۔ یہی زمینی حقائق ہیں مگر ٹوئٹر پر اگر اعتزاز احسن اور نعیم بخاری توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی۔

تبصرے بند ہیں.