رائے ریاض حسین کی "رائے عامہ” ……!

52

جناب رائے ریاض حسین کا نام اس وقت سے سن رکھا ہے جب وہ سابق وزرائے اعظم بالخصوص وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے پریس سیکرٹری تھے۔ ان کا نام کہیں میڈیا میں آجاتا تھا۔ ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ایک قومی معاصر میں ان کے کالم چھپنے لگے تو اپنی عادت کے مطابق میں ان کو دیکھ اور پڑھ لیا کرتا تھا کہ ایوان اقتدار میں شب وروز بسر کرنے والوں یا قومی زندگی سے کسی نہ کسی صورت میں وابستہ رہنے والوں کی تحریروں اور آب بیتیوں سے ایک خاص دور کے بعض اہم حالات و واقعات  کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی یا معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ اب "رائے عامہ” کے نام سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور نے ان کی خود نوشت شائع کی توبھلا ہو قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے مہتمم محترم علامہ عبدالستار عاصم کا کہ انھوں نے حسب روایت کتاب کی ایک جلد مجھے بھی بھجوا دی میں اس کے لیے جہاں ان کا تہہ دل سے ممنون وہاں کسی حد تک اپنے آپ کو شرمندہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ "رائے عامہ” کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار میں اتنی تاخیر کر دی ہے۔
یہ درست ہے کہ کتاب کے لکھنے یا مرتب کرنے والے جنہیں مصنفین یا مرتبین کہا جاتا ہے بلاشبہ ہدیہ تبریک کے مستحق گردانے جا سکتے ہیں کہ انھوں نے اتنی محنت اور جانفشانی سے اور خون جگر جلا کر نگارشات تخلیق کیں یا ترتیب دی ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں آج کے دور میں مصنفین اور مرتبین کے مقابلے میں کتابیں چھاپنے والے ادارے یا ان کے منتظمین زیادہ تعریف و توصیف کے حقدار سمجھے جانے چاہئیں کہ وہ اس بات کا خیال کیے بغیر کہ کتاب یا کتابیں جو وہ چھاپ رہے ہیں، انہیں کتنی پذیرائی ملے گی اور اس سے انہیں کتنی آمدن ہوگی یا نہیں ہوگی، اس کے باوجود وہ کتاب یا کتابیں چھاپنے کا خطرہ Risk مول لیتے ہیں۔میں علامہ عبدالستار عاصم کو بطور خاص ہدیہ تبریک پیش کرونگا کہ وہ اپنے اشاعتی ادارے (قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل) کے تحت نت نئی کتابیں چھاپنے کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ علامہ عبدالستار عاصم اس لحاظ سے بھی قدر افزائی کے مستحق ہیں کہ وہ صرف ایک پبلشر یا ناشر ہی نہیں ہیں بلکہ بذات خود ایک اعلیٰ پائے کے مصنف اور قلم کار بھی ہیں جو علمی اور ادبی تحریروں اور نگارشات کی قدر و قیمت کو پرکھنے اور جانچنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ذاتی طور پر میں اپنے آپ کو ان کا ممنون احسان سمجھتا ہوں کہ وہ میری خامہ فرسائی (کالم نگاری) کے مستقل قاری ہی نہیں ہیں بلکہ وٹس ایپ اور وائس مسیجز کے ذریعے میری حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں۔
سپاس تشکر کے طور پر اس تمہید جو کسی حد تک طولانی ہو گئی ہے کے بعد محترم رائے ریاض حسین کی "رائے عامہ”کی طرف آتے ہیں۔ "رائے عامہ”، رائے ریاض حسین کی یاداشتوں پر مبنی ایک ایسی تصنیف ہے جس سے کسی حد تک ان کی آب بیتی بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ رائے صاحب نے اس کا نام رائے عامہ رکھا ہے تو اس کے بجائے "رائے نامہ "بھی نام ہو سکتا تھا۔ "رائے نامہ”تجویز کرتے ہوئے مجھے اردو کے بڑے عوامی شاعرنظیر اکبر آبادی کا خیال آرہا ہے جن کی "آدمی نامہ”، "بنجارہ نامہ” اور "ہنس نامہ” جیسی نظمیں مقبول اور پسندیدہ سمجھی جاتی ہیں۔ "بنجارہ نامہ” کا ٹیپ کا یہ مصرعہ ؎سب ٹاٹ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ، کیا کمال کا مصرعہ ہے۔ خیرنظیر اکبر آبادی کا یہ تذکرہ ایک جملہ معترضہ سہی۔ "رائے عامہ” کی طرف لوٹتے ہیں جس میں رائے ریاض حسین نے درپیش حالات و واقعات اور اپنی زندگی کے بیتے لمحات کو بڑی سادگی، سلاست، روانی کے ساتھ خوب صورت طرز تحریر اور دلکش پیرائے میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی قاری کی دلچسپی کم نہیں ہونے پاتی۔
کتاب رائے عامہ بظاہر دو حصوں پر مشتمل نظر آتی ہے۔ پہلا حصہ صفحہ 8 سے161تک پھیلا ہوا ہے۔اس میں کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں مختلف شخصیات کے لکھے ہوئے مضامین کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ درجن عنوانات کے تحت مصنف نے خیال آرائی کر رکھی ہے۔ ان میں نواز شریف شخصیت اور حقیقت، کیپٹن محمد صفدر، شہباز شریف، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری نثار علی خان، میر ظفراللہ خان جمالی وغیرہ جیسے عنوانات کے تحت لکھے گئے مضامین میں ان شخصیات کے بارے میں مصنف کے ذاتی جذبات و احساسات کے اظہار کے ساتھ قومی تاریخ کے بعض اہم واقعات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ مصنف نے اس حصے میں ہمارے والد صاحب اور ہماری والدہ صاحبہ کے عنوانات کے تحت انتہائی پر اثر اور پر خلوص انداز میں اپنے والدین کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے تو سیاست کی پر خار وادی کے عنوان کے تحت 2008میں بطور مینجنگ ڈائریکٹر APP، سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعدکے بعض حالات و واقعات کا ذکربھی کیا ہے، کہ کیسے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی دعوت پر 2010میں انھوں نے بطور کنسلٹنٹ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیااور پھر 2013کے عام انتخابات میں اپنے آبائی ضلع جھنگ سے قومی اسمبلی کے ایک حلقہ سے عام انتخابات میں حصہ لے کر سیاست کی پر خار وادی میں قدم رکھنے کی منصوبہ بندی کی لیکن مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر انہیں ٹکٹ نہ مل سکا  تو ان کی یہ منصو بہ بندی دھری کی دھری رہ گئی اور انہیں سیاست کی پر خار وادی کو خیر باد کہنا پڑا۔
"رائے عامہ کا دوسرا حصہ رائے صاحب کے اخبار ی کالموں پر مشتمل ہے اس میں تین چار کالموں کو چھوڑ کر باقی تمام قومی معاصر روزنامہ نوائے وقت میں ستمبر 2008سے نومبر 2015کے عرصے کے دوران چھپے ہیں۔ رائے عامہ کا جائزہ کچھ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ بلاشبہ اسے ایک ایسی تصنیف سمجھا جا سکتا ہے جس میں مصنف رائے ریاض حسین نے ذاتی حالات و واقعات کے ساتھ ایک پورے عہد کی قومی تاریخ اور ملکی حالات و واقعات کی جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یقینا یہ ایک ایسی تصنیف ہے جسے اپنے موضوعات کی رنگا رنگی کے حوالے سے یادگار تصنیف کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.