کچھ حقوق عوام کے بھی ہیں!

5

سیاست کے سینے میں دل ہوتا ہے نہ آنکھوں میں حیا۔ یہ مقولہ پاکستان کی سیاست پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔ملک میں جس طرح کی سیاست ہو رہی ہے اسے دیکھ کر محسوس ہونے لگا ہے جیسے سیاست دانوں کو عوام الناس کی مشکلات ا ور مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے۔ لاکھوں، کروڑوں شہری سیلاب کے باعث بے گھر ہو جائیں۔قومی معیشت کی کشتی ہچکولے کھاتی پھرے اور ملک دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ جائے۔ تعلیم، صحت کی سہولیات عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں۔ مہنگائی کا طوفان عوام کی کمر توڑدے۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے رہیں۔ یہاں تک کہ غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشی پر مجبور ہوجائیں۔لگتا ہے کہ سیاست دانوں کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں اپنے حقوق کا تو پورا خیال ہے مگر عوام کے حقوق کا کوئی احساس نہیں۔ وہ تو بس حصول اقتدار کی خاطر ہلکان ہو رہے ہیں۔ ملک کے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالئے۔اس وقت تقریبا تمام نمایاں سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی حکومت کا حصہ ہیں۔ مسلم لیگ(ن)، دیگر اتحادی جماعتوں کیساتھ وفاقی حکومت کا حصہ ہے۔، پیپلز پارٹی وفاق اور سندھ میں برسر اقتدار ہے۔صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ تمام سیاسی جماعتیں عوام الناس کے مسائل کے حل کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ اپنی اپنی حکومتوں کی کارگزاری بہتر بنانے کی طرف توجہ دیں۔لیکن صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ یہ جماعتیں اپنی حکومتوں پر توجہ دینے کے بجائے سیاست بازی میں الجھی ہوئی ہیں۔ان کا سارا زور بازو ایک دوسرے کے خلاف صرف ہوتا نظر آتا ہے۔
اس وقت تحریک انصاف کی چار حکومتیں قائم ہے۔یہ جماعت اپنا وقت، توانائی اور حکومتی وسائل لانگ مارچ پر خرچ کرنے میں مصروف ہے۔ جہاں تک سیاسی احتجاج کا تعلق ہے، یہ ہر شہری اور سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے۔ جمہوری نظریات کے حامل کسی شخص کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ دنیا بھر کا یہی چلن ہے۔ پاکستا ن کا آئین بھی شہریوں کا یہ حق دیتا ہے۔ لیکن احتجاج کرنے کا کوئی ڈھنگ، کوئی سلیقہ ہوتا ہے۔ لانگ مارچ میں زخمی ہونے کے بعد عمران خان فی الحا ل لانگ مارچ میں شرکت سے قاصر ہیں۔ لیکن ان کی ہدایت اور سیاسی حکمت کے مطابق ان کے کارکنان اور پیروکار مختلف شہروں میں احتجاج کرنے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ مختلف شہروں میں حکمت عملی کے تحت کارکنان نے راستے بلاک کر رکھے ہیں۔
راستے روکنے سے وفاقی حکومت کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔البتہ عام شہری ضرور پریشان ہیں۔ جہاں جہاں راستے روکے گئے ہیں، لوگوں کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کسی کو ہسپتال جانا ہو یا کوئی اور ایمرجنسی درپیش ہو، یہ مظاہرین کا مسئلہ نہیں ہے۔ شہریوں کی مشکلات کے حوالے سے روزانہ کئی قصے میڈیا میں گونجتے ہیں۔ کوئی بیٹا اپنے والد کے آپریشن کے لئے گھر سے نکلا لیکن احتجاج میں پھنس کر رہ گیا۔ کوئی اپنے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت سے محروم ہو گیا۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر مظاہرین کے خلاف سراپا احتجاج شہریوں کی گفتگو بھی سننے کو ملتی ہے۔ لیکن کسی کو ان کے حقوق کی فکر نہیں ہے۔
یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتیں مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کر رہیں۔ یہ خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ مٹھی بھر مظاہرین نے اہم راستے اور گزرگاہیں بند کر کے ہزاروں لاکھوں شہریوں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ راولپنڈی کے عوام خاص طور پر مشکلات کا شکار ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ احتجاج کے تناظر میں اسلام آباد میں قائم جامعات کو بند کرنے اور انہیں آن۔ لائن کلاسیں لینے کے ہدایت کی گئی ہے۔وفاقی حکومت بھی اس ضمن میں محض وعظ و نصیحت سے کام لیتی دکھائی دیتی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا یہ بیان میری نگاہ سے گزرا کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ عوام خود تحریک انصاف کا محاسبہ کریں گے۔ امن عامہ کو برقرار رکھنا،حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اگر اس کی ذمہ داری بھی عوام کے کاندھوں پر ڈال دی جاتی ہے ت یہ قابل جواز نہیں ہے۔ہمارے ہاں پہلے بھی دھرنے، جلسے، لانگ مارچ، ملین مارچ اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔ اس قسم کے احتجاج کا مقصد سیاسی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کی احتجاجی سرگرمیوں کا نقصان کسی جماعت کو ہوا یا نہیں ملک کو ضرور اس کا نقصان ہوا۔ 2014 میں 126 روزہ دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ پاکستان منسوخ ہو گیا تھا۔ اب 21 نومبر کوسعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے میں کئی اہم معاشی معاہدے بھی طے پانے ہیں۔ اس اہم موقع پر بھی احتجاج جاری ہو گا۔نجانے اس قسم کی سیاست سے دنیا میں ہمارے بارے میں کیا تاثر جاتا ہو گا۔
دنیا بھر میں احتجاج ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کے باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے عوام کو مشکلات کا شکار کر دیا جائے۔ یہ بھی نہیں ہوتا کہ ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ٓنجانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ نجانے کب ہمیں اس طرح کی منفی سیاست سے نجات ملے گی۔ کاش ہم بھی دنیا کے مہذب ممالک سے سبق سیکھیں اور اچھے سیاسی رویے اختیار کریں۔ احتجاج کریں۔ سیاسی مخالفت بھی کریں۔ لیکن یہ سب کرتے وقت ملک اور قوم کے مفادات کو فراموش نہ کریں۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر

تبصرے بند ہیں.