میں نہ مانوں؟

22

آج کل قانون کی حکمرانی اور قانون کی عملداری کے چرچے عام ہیں۔یقینا ایک مہذب قوم کا شیوہ یہی ہونا چاہیئے کہ ہر شہری قانون کی حکمرانی کو تسلیم کر کے اس پر عملدرآمد بھی کرے،اگر ایسا نہیں تو معاشرہ نہ صرف افراتفری کی ڈگر پر چل نکلے گا بلکہ انتشار کا شکار ہو جائیگا۔لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا قانون کی حکمرانی تسلیم اور قانون پر عملدرآمد کرنا کیا صرف تھانیداروں کے لئے ہے۔افسر شاہی پر اسکا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟بالخصوص قانون کے رکھوالے اگر اسکی دھجیاں بکھیریں تو کیا کہیے گا؟
اگرڈسپلنڈ فورس کے صاحب بہادر قانون کو ہوا میں اڑانے لگیں اور ماتحتوں کے لئے ایک نظیر بن جائیں تو کیا محکمہ میں ڈسپلن برقرار رہ سکتا ہے؟یقینا ایسے رویوں سے نہ صرف ڈسپلنڈ فورس تباہ ہو گی بلکہ معاشرے میں کج روی کو بھی کوئی نہیں روک سکے گا،ایک مربوط اور مضبوط معاشرے کے لئے اسکی تمام اکائیوں کا اپنے وضع کردہ قوانین،روایات جیسے اقدامات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو تباہی اسکا مقدر ٹھہری!
اس تمہید کا مقصد پولیس فورس کی کج روی پر چلنے کے اس پہلے قدم کی طرف اشارہ کرنا ہے جو سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے اپنی معطلی کے بعد”اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کو تسلیم نہ کر کے اپنی سیٹ پر براجمان“ رہ کر اٹھایا ہے۔یہ ایک خطرناک رحجان ہے کیونکہ یہ ڈسپلنڈ فورس میں ایسی روایت کو جنم دینے کے مترادف ہے،کہ جس سے”میں نہ مانوں  “ کا ایک ایسا عمل شروع ہو جائے گا کہ کسی افسر کا کوئی ماتحت حکم مانے گا نہ ڈسپلن ہی برقرار رہے گا۔ہر معطل ماتحت معطلی کے حکم کو نہیں نہیں کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اپنے ڈانڈوں کے بل پوتے پر احکامات دیتا رہیگا نہ کوئی سپاہی پیچھے رہے گا نہ ہی تھانیدار،اور اس کے اوپر رینک کے سب افسر۔
بوڑھے چچا حوالدارکہتے ہیں غلام محمود ڈوگر کی سی سی پی او عہدے کی کرسی سے محبت کی داستان زبان زد عام ہو چکی ہے۔شہر میں ڈاکو راج لگ جائے یا لوگوں کی عزتیں غیر محفوظ ہوجائیں؟ بس صاحب بہادر کا عہدہ سلامت رہنا چاہیے۔پولیس کی تاریخ میں اس پیشے سے منسلک شاید ہی کسی نے اتنی بیدردی سے اس وردی کو داغدار کیا ہو جتنا اب ہورہا ہے۔صاحب بہادر ڈسپلنڈ فورس کا حصہ ہے لیکن خلاف ورزی کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے اس کی مثال بھی وہ خود ہی ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے غلام محمود ڈوگر کو رپورٹ کرنے کے لئے لکھا جو کہ اسے ناسمجھی کہیے یا بہادری اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے احکامات تسلیم نہ کر کے ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جس سے روشنی آنے کی امید کم اور باد سموم آنے کی امید زیادہ ہے۔ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین بار انکار کرنے کے بعد سی سی پی او لاہور کومعطلی کا سامنا کرنا پڑا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو ایس او پی کے تحت تین نوٹسز بھجوائے اور پھر معطل کر دیا گیا،لیکن وہ اپنی سیٹ پر براجمان ہیں،یہی نہیں اب ان کو ڈسمس کا نوٹیفکیشن جاری ہونا باقی رہ گیا ہے۔پہلے تو بہانہ تھا کہ پنجاب حکومت ریلیو نہیں کر رہی اب معطلی کے بعد یہ بہانہ بھی ختم ہو چکا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ غلام محمود ڈوگر خود اپنے تئیں یہ سب کچھ کر رہے ہیں یا انہیں نادیدہ قوتین ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔صاحب بہادر کی سیٹ سلامت رہے لیکن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکم کی تعمیل نہ کرنابہت سے شکوک و شہبات پیدا کر رہا ہے وہیں ان کے اس اقدام سے پنجاب پولیس کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔
غلام محمود ڈوگر سی سی پی او کے عہدے سے معطلی کے بعد بھی ڈھٹائی کے ساتھ وردی پہنے سیٹ پر بیٹھے رہے۔لیکن اس کو کون سمجھائے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خودکو سرینڈڑ کر نا ہی واحد حل تھا تاکہ ریٹائرمنٹ کیکے قریب کے آخری ایام میں نیک نامی کا تاج اپنے سر سجاتے لیکن شائد بے توقیری کو ہی اپنے لئے بہتر سمجھا اور اپنی ”میں نہ مانوں“کی رٹ چھوڑ دیں۔سی سی پی او کی سیٹ پر معطل شدہ غلام محمود ڈوگر کا ہر حکم اب غیر قانونی ہوچکا ہے، تعمیل کرنے والے افسران بھی غیر قانونی فعل میں ملوث پائے جا سکتے ہیں۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو نہ سہی دوسروں کو کسی کڑی آزمائش میں نہ ڈالیں جس سے ان کے ماتحتوں کے کیرئیر پر کوئی دھبہ لگے۔بوڑھے حوالدر یہ سب بول کر سمجھا کر اور آگاہی دہ کر چائے پینے چلے گئے۔

تبصرے بند ہیں.