نظام ڈی ریل ہونے کو ہے؟

17

عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد پی ٹی آئی ایک نئے جذبے اور نئے بیانیے کے ساتھ ملک میں دنگا فساد مچانے میں مصروف ہو گئی ہے۔ قاتلانہ حملے کے موقع سے گولی چلانے والا گرفتار بھی ہو چکا ہے جس نے عمران خان کو قتل کرنے کے ارادے کا اظہار بھی کر دیا اور اس کی وجوہات بھی بیان کر دیں۔ اعترافی بیان ریکارڈ ہوا اور پھر قومی الیکٹرانک میڈیا پر نشر بھی کرا دیا گیا حیران کن بات یہ ہے کہ اعترافی بیان مکرر نشر کرایا گیا حالانکہ قتل یا اقدام قتل کے ملزم کا اعترافی بیان عدالت پیشی تک پولیس بحفاظت تحویل میں رکھتی ہے لیکن اس ہائی پروفائل کیس میں ایسا نہیں کیا گیا؟ قاتل کو رنگے ہاتھوں پی ٹی آئی کے ایک ٹائیگر نے قابو اور پھر پنجاب پولیس کے حوالے کیا۔ وزیر آباد ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا حلقہ اثر ہے وہی یہاں عمران خان کے لانگ مارچ کے میزبان بھی تھے۔ پنجاب کی پولیس، تمام صوبائی انٹیلی جنس ایجنسیاں صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں چودھری صاحب عمران خان کے پُرجوش حلیف اور ان کے بیٹے مونس الٰہی عمران خان کے ذاتی طور پر بھی چاہنے والے دیوانے ہیں اور وہ لانگ مارچ کا تاریخی استقبال کرنے کا اعلان بھی کر چکے تھے ایسے میں عمران خان پر حملے نے قومی سطح پر ہلچل مچا دی، شوروغوغا مچا۔ پھر جب عمران خان صاحب کو قریبی ہسپتال لے جانے کے بجائے میلوں دور لاہور میں واقع شوکت خانم لے جایا گیا تو دیکھنے و سننے والوں کے ماتھوں پر بل پڑنا شروع ہو گئے پھر جب قاتل کا اعترافی بیان نیشنل میڈیا پر نشر ہوا تو ”اقدامِ قتل“ پر شکوک و شبہات کے بادل چھانے لگے۔ مکرر اشاعت نے شکوک و شبہات کو اوربھی تقویت دی پھر جب عمران خان نے شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل کو نامزد کر کے ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کیا تو ”سازش کی بلی“ تھیلے سے باہر نکل آئی اس وقت سے ہنوز عمران خان جو بیانیہ تشکیل دے کر ملک کو فتنہ و فساد میں دھکیلنے میں مصروف ہیں قتل کے واقعات کے بارے میں ماہرین سازش پر متفق ہوتے نظر آ رہے ہیں اور سازشی کوئی اور نہیں بلکہ خود عمران خان نظر آنے لگے ہیں۔ 25 مئی کے لانگ مارچ/ دھرنے کی ناکامی کے بعد عمران خان ایک نئے جذبے اور جرأت کے ساتھ تاریخی لانگ مارچ کی تیاری میں لگ گئے۔ انہوں نے لگاتار جلسے کئے لاجواب تقریریں کیں ویسے تو ان کی تقاریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے حکومتی اکابرین اور فوج کے سالار اور دیگر عمائدین کے خلاف خوب زہر اگلا۔ نفرت اور دشمنی کی مسموم فضا تیار کرنے کی
کوشش کی پھر جب ان کی طویل تیاری کی عملی شکل لانگ مارچ کا وقت آیا تو ہم نے دیکھا کہ عوام کا سمندر یا دریا تو دور کی بات ہے نہریں اور ندیاں بھی مشکل سے ہی نظر آئیں۔ لبرٹی چوک اور پھر داتا دربار چوک میں لانگ مارچ کی ابتدا بڑی مایوس کن تھی۔ وزیر آباد تک یہ مایوسی بڑھتی ہی چلی گئی۔ مخالفین و ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوس کن صورت حال سے نکلنے کے لئے عمران خان نے قاتلانہ حملے کی منصوبہ سازی کی تاکہ نفرت اور دشمنی کے جذبات کو ہوا دے کر انتقام کی آگ بھڑکائی جا سکے لیکن قاتلانہ حملے کے بعد ایسی فضا دیکھنے میں نہیں آئی۔ عمران خان کے منصوبے کے مطابق پنجاب حکومت نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا گزرے چند دنوں کے دوران عمران خان کا سازشی منصوبہ سامنے آنے لگا ہے اور لوگوں کو خاصی حد تک یقین ہو چکا ہے کہ قاتلانہ حملہ اصلی نہیں تھا کیونکہ اگر اصلی ہوتا تو عمران خان رخصت ہو چکے ہوتے۔ اب مزید مایوسی کے تحت پی ٹی آئی کے کارکنان کو دنگافساد اور نقص امن پیدا کرنے پر لگا دیا گیا ہے کیونکہ اس کام کے لئے زیادہ افرادی قوت درکار نہیں ہوتی اور تشدد کے ذریعے مطلوبہ نتائج جلد حاصل کئے جانے کی امید ہے۔
عمران خان سیاسی جنگ مکمل طور پر ہار چکے ہیں۔ 10 اپریل کو اسمبلی میں انہیں ووٹ کی طاقت کے ذریعے شکست فاش ہو چکی ہے۔ 26 مئی کو ان کی سٹریٹ پاور اور دھمکی و دھونس کا بیانیہ بھی پٹ چکا ہے۔ فوری انتخابات کا مطالبہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ ان کی لانگ مارچ کی تیاریاں، عملی میدان میں رنگ لانے اورجمانے میں قطعاً ناکام ہو چکی ہیں۔ قاتلانہ حملے کا ڈرامہ بھی فلاپ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ عمران خان کسی طور بھی حکومت کو ڈرانے اور جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اس لئے اب وہ راست ایکشن یعنی توڑپھوڑ اور دنگے فساد کے ذریعے حکومت کو ناکام بنانے اور تیسری قوت کو میدان میں کودنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ان کی اس نئی سازش کا انجام کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف اتحادی حکومت کی مصالحانہ پالیسی، بزدلی اور ناکامی کا تاثر دینے لگی ہے حکومت ابھی تک عمران خان کی احتجاجی سیاست کے آگے بے بس ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک ناکام نظر آ رہی ہے حد یہ ہے کہ مسلح افواج کے خلاف عمران خان کے نفرت انگیز بیانیے کا ردکرنے کے لئے ڈی جی آئی ایس آئی کو خود میدان میں آنا پڑا۔ یہ حکومت کی نااہلی اور ناتوانی کا نتیجہ ہے کہ فوج اپنا دفاع کرنے کے لئے اس حد تک آ جائے یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ آئین کے مطابق ادارے کا تحفظ کیا جائے اور آئین و قانون شکنی کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اس حوالے سے حکومت سے کارروائی کرنے کا کہہ بھی چکے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدام دیکھنے میں نہیں آیا ہے جبکہ عمران خان کی جولانیاں اور پی ٹی آئی کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ عمران خان بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ ایک سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک جارح اور ریاست کے باغی کے طور پر ہر آئینی اور قانونی ریڈلائن کو کراس کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی زبان ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ہر آئینی اور قانونی سرخ لائن کو تہس نہس کرتے جا رہے ہیں جبکہ حکومت اپنے آئینی و قانونی فرائض ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان اپنے شیطانی اور فسادی ایجنڈے پر بڑی حکمت و تدبر کے ساتھ کامیابی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں حتیٰ کہ اگر وہ نہیں تو کوئی بھی نہیں اور ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے مصداق نظام ڈی ریل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو موجودہ حکمران بھی اس گناہ کبیرہ میں عمران خان کے ساتھ برابر کے شریک تصور کئے جائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.