اندھے بانٹیں ریوڑیاں!

37

آج میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ دیکھ رہا تھا، جس میں انکشاف کیا جارہا تھا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار حکمران کے اقتدار میں کیسی کیسی نوازشات اُن لوگوں پر کی گئیں جو کسی طورپر اُس کے مستحق نہ تھے، یہ ”کارنامے“ دوسری حکومتوں نے بھی ”انھے وا“ کیے مگر تبدیلی کے دعویدار کو اِس معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے تھا جوکہ وہ نہیں رہے، اب ایسے بے شمار انکشافات کے باوجود اُن کے حواری اُنہیں ”صادق وامین“ قرار دیتے ہیں تو اُن کی دماغی حالت پر ترس آتا ہے، صادق وامین پوری کائنات میں صرف ایک تھے اور وہ آپ ﷺ تھے، اُن کے علاوہ کوئی صادق وامین کہلوانے کا حقدار ہونا تو دُور کی بات ہے اُس کا تصورتک نہیں کرسکتا، اگر کوئی شخص خود کو صادق وامین قرار دیتا ہے یا اپنے حواریوں کی اِس بات پر خوش ہوتا ہے تو اُس کے صادق وامین نہ ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ آپ ﷺکو صادق امین آپ ﷺ کے ساتھیوں نے نہیں اہل کفار نے قرار دیا تھا جو آپ ﷺ کے بدترین مخالف تھے، جبکہ خان صاحب کو جِس سابقہ چیف جسٹس نے ”صادق وامین“ قرار دیا اُس پر الزام ہے وہ اُس دور میں اندرواندری خان صاحب اور اُن ”اصلی اسٹیبلشمنٹ“ سے مِلا ہوا تھا جو خان صاحب کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکی تھیں، اگر نواز شریف اُن اصلی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے مکمل طورپر محروم نہ ہوچکے ہوتے اُسی چیف جسٹس سے نواز شریف کو صادق وامین قرار دلوادیا جاتا، ……ایک بار خان صاحب کا موڈ بڑا اچھا تھا، وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ون ٹو ون ایک ملاقات میں اُن سے پوچھا ”جب آپ کے حمایتی آپ کو صادق وامین قرار دیتے ہیں آپ کو بُرا نہیں لگتا؟ کہ یہ اعزاز تو صرف رسول اللہ ﷺ کو سجتا ہے“ …… اِس کے جواب میں جوکچھ خان صاحب نے فرمایا وہ تقریباً اُسی طرح کی باتیں اپنے بے شمار جلسوں میں بھی کرتے ہیں جنہیں اُن کے حواری نظرانداز کردیتے ہیں، اِس طرح کی باتیں کوئی اور کرے اُس پر فوراً ”توہین“ کے فتوے لگادیئے جائیں۔ اِس ”خودساختہ صادق وامین“ کے دور میں جہاں اور بے شمار محکموں میں نااہل افراد پر نوازشات کی بارشیں ہوئیں، جس کی ابتداء بزدار جیسے نکمے شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب بناکے کردی گئی تھی وہاں پی ٹی سی ایل میں  بھی ایسے ہی نکمے لوگوں کو بھاری تنخواہوں ومراعات سے صرف اِس لیے نواز گیا وہ پی ٹی آئی یا خان صاحب کے چہیتے یار کسی نہ کسی حوالے سے اُن کے ”خِدمت گزار“ تھے، ……ممکن ہے ایسی تمام ”نوازشات“ ذاتی طورپر خان صاحب کے نوٹس یا عِلم میں نہ ہوں مگر وہ اپنی حکومت میں ایسا ماحول قائم کرنے میں بالکل ناکام رہے جِس کے تحت تمام تقرریاں اور تبادلے صرف اور صرف میرٹ پر ہوتے جِس کے خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے بلندوبانگ دعوے کرتے تھے۔ افسوس بے شمار محکموں میں اقرباپروری کو فروغ دیتے ہوئے اپنے نااہل داروں کو نوازاگیا جنہوں نے اپنی نااہلیوں سے اپنے محکموں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، …… یہ کہانی بھی اِن دنوں زباں زدعام ہے اُن کے اقتدار کے آخری دِنوں میں پی ٹی سی ایل میں تقریباً اڑھائی سو چھوٹے گریڈ کے ملازمین کو برطرف کرکے  مبینہ طورپر پی ٹی آئی اور خان صاحب کے ایک لاڈلے شعیب بیگ کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر گروپ چیف بنادیا گیا، اُن کے علاوہ پانچ مزید لوگوں کو بھاری تنخواہوں اور مراعات پر مختلف عہدوں سے نوازاگیا، حیرانی کی بات یہ ہے ”تبدیلی“ کے دعویدار حکمرانوں نے اس ضمن میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری بھی نہیں لی جو رولز کے مطابق ضروری تھی، مجھے نہیں معلوم سابقہ حکمرانوں جیسے موجودہ حکمرانوں نے مذکورہ بالا نااہل افراد کو ابھی تک اُن کے عہدوں سے فارغ کیا یا نہیں؟ پر یہ مجھے یقین ہے اُنہیں فارغ کر بھی دیا گیا اُن کی جگہ ویسے ہی نااہل لوگوں کو وہ بھی نوازیا شہباز دیں گے کہ ہمارے ہاں سارے حکمران ایک جیسے ہوتے ہیں تو اُن کے چہیتے بھی ایک جیسے نااہل ہی ہوتے ہیں، …… پاکستان میں اقرباپروری اور ناجائز نوازشات کا عمل جب تک مکمل طورپر ختم نہیں ہوگا۔ میرٹ اور دیانت پر تقرریاں نہیں ہوں گی، ادارے اِسی طرح تباہ وبرباد ہوتے رہیں گے جیسے اب ہو رہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں، …… میں آپ کو ایک بڑی دلچسپ داستان سناتا ہوں، جیسا کہ میرے دوست بخوبی جانتے ہیں خان صاحب کے ساتھ میرا چوبیس برسوں پرانا ذاتی تعلق تھا، جو،  اب سچ لکھنے کی وجہ سے اچھا خاصا متاثر ہوچکا ہے، وہ سچ پسند کرتے ہیں، مگر ”سچ“ اُن کی مرضی کا ہونا چاہیے۔ پہلے وہ ایسے نہیں تھے، وزیراعظم بننے کے بعد وہ بھی ویسے ہی ہوگئے جیسے باقی سب حکمران ہوتے ہیں جِن کی خواہش بلکہ یہ ”حکم“ ہوتا ہے صرف اُن کی مرضی کا سچ اُن سے پوچھ کر بولا جائے،……پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد مجھے مختلف عہدوں کی پیشکش ہوئی۔ میں نے معذرت کرلی، اِس کی دووجوہات تھیں۔ ایک تو میں دل سے یہ سمجھتا تھا میں اُن عہدوں کا اہل نہیں، دوسرے میں یہ سوچتا تھا کسی بھی اہم عہدے پر میری تقرری سے خان صاحب پر حرف آئے گا کہ اُنہوں نے اپنے چوبیس سالہ پرانے تعلق دار کو نواز دیا۔ میں نہیں چاہتا تھا اِس طرح کا کوئی گند خان صاحب پر اُچھالا جائے۔ میں اِس یقین میں مبتلا تھا خان صاحب اقتدارمیں آنے کے بعد کوئی تقرری میرٹ سے ہٹ کر نہیں کریں گے اور میرٹ پر میری تقرری بنتی نہیں تھی، ایک بار وہ مجھ سے کہنے لگے ”کویت میں مقیم پاکستانیوں اور کویت کے حکمرانوں کے ساتھ مجھے پتہ ہے تمہارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میں چاہتا ہوں تمہیں کویت میں پاکستان کا سفیر بناکر بھیج دیاجائے جیسے عطا الحق قاسمی کو ناروے میں سفیر بناکر بھیجا گیا تھا۔ وہ بھی تمہاری طرح پروفیسرتھے، میں نے عرض کیا ”سفارتکاری کس بلاکا نام ہے؟ مجھے نہیں معلوم“ ……وہ بولے ”وزارت خارجہ اِس کی باقاعدہ ٹریننگ کرواتی ہے“…… میں نے ہاتھ باندھ کر معذرت کرلی، بلکہ ایک جملہ بولا جو اللہ جانے کیسے اُن کی سمجھ میں آگیا اور وہ مجھ سے خفا ہوگئے…… میں نے عرض کیا ”میں جس عہدے کا خودکو اہل نہیں سمجھتا، وہ عہدہ میں نے قبول کرلیا تو میں بھی اُسی طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کروں گا جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ آپ کررہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.