وقت کرتا ہے پرورش برسوں

82

مرزا اسد اللہ خان غالب کو کوتوال شہر کی مخاصمت اور رقابت کی وجہ سے بے گناہ مقدمہ کی بنیاد پر چند ماہ قید ہو گئی۔ مرزا صاحب جیل سے رہا ہو کر آئے، دوستوں کو جیل کی روداد سنا رہے تھے ایک دوست نے پوچھا کہ نوشہ جیل میں کوئی خاص فکر یا تکلیف بتائیں۔ مرزا صاحب شاعر تھے کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے کہ اپنی سات دن کی جیل کو بیچتے یا پھر کوئی جعلی دانشور نہیں تھے جو پکڑے کسی اور جرم میں جاتے اور دہراتے رہتے کہ میں ضیا کے دور میں جیل گیا تھا۔ لافانی شاعری کے خالق تھے دل کی بات کرتے تھے احساس کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جیل میں دو باتیں تکلیف دیتیں ایک یہ فکر کہ آموں کا موسم کہیں جیل میں ہی نہ گزر جائے (تب کولڈ سٹور نہیں تھے)۔ دوسری تکلیف یہ تھی کہ جیل میں ان کا دربان شاعر تھا اور وہ روزانہ مرزا صاحب کو 10 شعر سناتا تھا۔ مرزا صاحب ظاہر ہے قیدی تھے کہیں جا بھی نہیں سکتے تھے دربان جیل کا سنتری جو ان پر مامور تھا وہ شعر بھی سناتا، حواس کا تقاضا تھا کہ اس سے معذرت کر لیتے مگر روایات اور اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی شاعری سنتے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں یہ دوسری تکلیف تھی مجھے اس کے دس شعر روزانہ سننا پڑتے جو ایک ایک شعر دس دس دروں کے برابر تھا، تکلف ناقابل بیان تھی۔ لہٰذا دن میں ”50 کوڑے“ کھانا پڑتے۔ وطن عزیز میں بے روزگاری، مہنگائی اپنی جگہ الگ عذاب ہے مگر یہ عمران نیازی کی 22 سال سے جاری تقریر جس میں 2011 سے شدت آ گئی، مسلسل ایک ہی تقریر، بھدی آواز میں جھوٹ جھوٹ اور صرف جھوٹ پر مبنی تقریر سننا الگ عذاب ہے۔ سوشل میڈیا کا لیڈر ٹرینڈ بنا بنا کر مقبول ترین رہنما ہونے کا دعویدار ہے حالانکہ تکلیف دہ ترین رویے اورجھوٹ کا پرچاری ہے۔ اس پر ظلم یہ کہ ایک جھوٹ دوسرے سے نہیں ملتا۔ کامران شاہد نے ڈار سیالکوٹی کو درست کہا ہے کہ آپ لوگوں نے بدتمیزوں کی ایک نسل تیار کر دی جو والدین کا بھی لحاظ نہیں رکھتی۔ اگر ماں بھی کہہ دے کہ عمران نیازی نے یہ بات ذرا ایسی کر دی ہے تو ماں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ میرے دوست جناب میاں افضل ایڈووکیٹ کا فون آیا کہ آپ نے نوازشریف کی حمایت شروع کر دی ہے۔ میں نے کہا، نہیں ایسا تو نہیں۔ وہ کہنے لگے کہ آپ تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے حامی تھے اب آپ نوازشریف کے حامی ہو گئے۔ میں نے تاویلیں پیش کیں، ظاہر ہے میرے جگری یار ہیں، ان کو یہ نہ کہہ سکا کہ جھوٹ کی مذمت، آئین کی سپرامیسی اور عمران نیازی دور کی کرپشن و کارکردگی کا حساب مانگنا بطور پاکستانی ہمارا حق ہے۔ یہ میاں نوازشریف کی حمایت نہیں، وہ جیلیں جلاوطنیاں کاٹ چکے۔ پیپلز پارٹی والے قتل ہو چکے، تاریخی مار کھا چکے اور سبب سیاسی تھا۔ یہ اگر توشہ خانہ،  مالم جبہ، بلین ٹری، فرح گوگی، بزدار دور، سابق احتساب چیئرمین کے احتساب، مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے مافیاز کے ذریعے جو کچھ کرتا رہا۔ خارجہ، داخلہ، معاشی حوالوں سے جو مجرمانہ کارکردگی دکھائی اس کا حساب مانگنے پر اگر
لانگ مارچ کرتا پھرے، اس پر بات کرنا نوازشریف کی حمایت نہیں ہے۔ ہم پر سوشل میڈیا اسی طرح ہی مسلط ہے جیسے مرزا غالب پر روزانہ بے ترتیب، بے وزن ادب کو برباد کرنے والے دس شعر وہ سنتری سناتا تھا جس کا ادب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح سوشل میڈیا کی خبریں، ٹرینڈ قومی نقصانات کا موجب بن رہی ہیں۔ مبشر لقمان نے درست مطالبہ کیا ہے کہ ایک ماہ کے لیے سوشل میڈیا بند کر دیا جائے تا کہ قوم کے اعصاب کچھ عرصہ ایک تکلیف دہ دباؤ سے باہر آ سکیں۔ ابھی یہاں تک پہنچا تھا کہ خبر چل گئی، عمران خان کے کنٹینر پر حملہ ہوا ہے پھر جو خبریں کلپس چل گئے، جو معلومات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ حملہ آور کا بیان ہے کہ عمران خان کے کنٹینر سے گانے اور بھنگڑے اذان کے ساتھ چلتے تھے، مجھے گوارا نہ ہوا یہ قوم کو گمراہ کر رہا تھا میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس کو قتل کر دوں گا، میرا ٹارگٹ صرف عمران خان تھا۔ دوسری طرف اس کو بچانے کی کوشش کرنے والا عمران کے فین کلب میں سے ہے یہ دو انتہائیں عمران کو ایک متنازع ترین شخصیت ثابت کرتی ہیں۔ سچ تو پی ٹی آئی کے موقف سے متضاد ہے ابھی واقعہ کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ الزامات ان لوگوں پر لگا دیئے جن پر کوئی یقین نہ کرے۔ وطن عزیز کی ساری بڑی سیاسی قیادت نے حملے کی مذمت کی اور جلد صحت یابی کی دعا کی۔ یہ ان کا بڑا پن ہے اور خاص طور پر بلاول بھٹو کا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ ہے کہ انہوں نے بھی مذمت، دکھ اور جلد صحت یابی کا اظہار کیا ہے حالانکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بقول حسن نثار صاحب کے پورا ہمالیہ رویا تھا، اب تک لوگ دکھی ہیں مگر عمران خان نے افسوس تک نہ کیا۔ محترمہ کی شہادت کے وقت جب پورے ملک میں کہرام مچا ہوا تھا آصف علی زرداری نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایا۔ دوسری طرف شیخ رشید، فواد چودھری کے بیانات دیکھ لیں، اسی سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی پارٹی کیا ہوتی ہے اور نفرت پیدا کرنے والا گروہ کیا ہوتا ہے۔ نفرت کی سیاست، نفرت کی زبان نے قوم کو تقسیم کر دیا۔ لانگ مارچ دراصل الیکشن مہم کے لیے اور اپنی کارکردگی اور مقدمات سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے بلکہ الٹا پریشر ڈالنے کے لیے رکھا۔ پنجاب میں واقعہ ہوا ہے، عمران خان کی چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں حکومت ہے لہٰذا تفتیش درست ہو گی۔ ویسے اگر چند دن پہلے کے کلپ دیکھ لیں، مارچ میں شرکا کے چہرے اترے ہوئے تھے بلکہ لرزاں لرزاں تھے جس پر اعجاز چودھری کا بیان کہ احمد چٹھہ کو بتا دیا وزیر آباد میں حملہ ہو گا، اس پہلو پر بھی تفتیش ہونی چاہئے۔ اللہ کریم عمران خان کو زندگی دے، اصلاح ہو سکتی ہے لیکن زندگی واپس نہیں ملتی۔ وطن عزیز کے چوتھے نمبر کے رہنما ہیں اور رہنما روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ نفرت، فتنہ اور تقسیم کی سیاست کو اب خیرباد کہنا ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے حصول کی خاطر لانگ مارچ ترک کرنا چاہئے، سیاسی مکالمہ ہونا چاہئے ورنہ وقت تو پہلے ہی بہت گزر چکا اب ہی قدر کر لی جائے۔ زبان خلق خدا کو گرویدہ بھی بناتی ہے اور مصیبتوں کا سبب بھی ہوا کرتی ہے۔ سیاست میں متشدد الفاظ، تقاریر سے احتیاط کرنا ہو گی ورنہ نظام لپٹ جائے گا۔ اگر یہی مقصد ہے تو پھر کس بات کی جدوجہد اور کیا حاصل کیا لیاقت علی خان سے اب تک۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

تبصرے بند ہیں.