سعودی عرب واقعی بدل چکاہے

25

میں انٹرنیٹ پرایک خبرکی تلاش میں مصروف تھا کہ اچانک ایک خبرمیری نظروں سے گزری تومیں ٹھٹک کررہے گیا،خبرکاعنوان تھا کہ ریاض میں ہیلووین: وینڈیگو اور چڑیلوں کے خوفناک جلوے۔ میں حیران تھا کہ یہ کیامعاملہ ہے؟اس معاملے کومزیدکریداتوحیرت کاجہاں کھلتاگیا۔پہلے آپ مختصرخبرملاحظہ فرمائیں تاکہ آپ کواندازہ ہوکہ عالم اسلام کامرکزسعودی عرب کس طرف جارہاہے۔
سعودی عرب میں ہیلووین کے حوالے سے ریاض کے تفریحی مقام بولی وارڈمیں ہیلووین منایاگیا جہاں خوفناک لباس اور روپ دھار کر آنے والوں کو فری انٹری دی گئی۔عبدالرحمان نامی شخص نے شمالی امریکہ کے افسانوی کردار وینڈیگو کا بھیس بدلا تھا۔وینڈیگو اپنی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کا گوشت کھاتا تھا۔ عبدالرحمان پہلی مرتبہ ہیلووین منا رہے تھے۔چڑیل کا روپ دھارے امیرہ جو اپنے دوست کے ساتھ تقریب میں شریک تھیں، کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس وہ ہیلووین کی تقریب کی تاریخ بھول گئی تھی تاہم اس دفعہ انہوں نے یاد رکھا۔ اس کے علاوہ بھی تقریب میں ایسا بہت کچھ دیکھنے کو ملا جس سے خوف ٹپکتا تھا جبکہ خوفناک آوازوں کی گونج اس میں مزید اضافہ کر دیتی تھی۔ اسی طرح کی ایک تقریب کا انعقاد مارچ میں بولیوارڈ ریاض سٹی اور ونٹر ونڈر لینڈ میں ہوا تھا۔
اب ظاہرسی بات ہے کہ ہیلووین کا اس کااسلام اورسعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں،یہ مغرب کی ویلنٹائن ڈے کی طرح کی ایک بے ہودہ رسم ہے مگرمسلمان ممالک اوربالخصوص سعودی عرب جیسے ملک کی طرف سے سرکاری سطح پرایسی تقریبات کا انعقاد کرنا یہ ثابت کرتاہے کہ مغرب اورعالمی طاقتیں مسلمانوں کی تہذیب،شناخت اورمسلمان معاشرے کے اندرتک سرایت کرچکی ہیں اورہم اس سیلاب میں بہے جارہے ہیں۔
ہالووین (Halloween)امریکہ میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے۔اس تہوار کے بارے میں تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے، جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔
سیلٹک قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو دنیا میں انسانوں اور بری ارواح کے درمیان
ایک پردہ موجود ہوتا ہے، جو انسانوں کو ان بری ارواح سے محفوظ رکھتا ہے، ان کے خیال میں موسم ِ گرما کے اختتام پر یہ پردہ بہت باریک ہو جاتا ہے، اس پردے کے نازک ہونے کے سبب اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ یہ بری اروح دنیا میں آکر انسانوں، مال، مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان بد روحوں کو خوش کرنے کے لیے سیلٹک قبائل 31 اکتوبر کی رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔تاکہ ان کو ایسے دیکھ کر بدروحیں خوش ہو جائیں اور وہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔
31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جاکر دستک دیتی ہیں اور trick or treat کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انہیں ٹافیاں اور چاکلیٹ دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔
سعودی عرب کے حوالے سے کافی عرصے سے پہلوتہی برت رہاتھا مگرہیلووین کی خبرپڑھنے کے بعد جب میں نے سعودی عرب میڈیااوران کی متعلقہ ویب سائٹس دیکھیں توچندلمحوں میں ہی اندازہ ہواکہ سعودی عرب تویک دم یوٹرن لے چکاہے۔سعودی عرب کی تودنیاہی بدل چکی ہے ان ویب سائٹس پرجب ڈھونڈنے سے بھی موسیقی،فلم،ڈرامے اورفحاشی پرمبنی کوئی کلپ دیکھنے کونہیں ملتاتھا اب وہاں ان چیزوں کی بھرمارہے۔
ایک اورخبرکے مطابق سعودی میوزک کمیشن کے سربراہ سلطان البازعی نے کہاہے کہ ٹک ٹاک پر گانے کا شوق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے خصوصی پلیٹ فارم جاری کیا ہے۔ جہاں سعودی نوجوانوں کو فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کوانعامات کے علاوہ پوری طرح سے سپورٹ کیا جائے گا۔ایسے نوجوانوں کو جو مقبولیت حاصل کریں گے انہیں خصوصی مہارتیں سکھانے کے علاوہ تربیتی کورسز سے گزارا جائے گا۔
تین سال قبل بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ عام طور پر ایم بی ایس کے نام سے مشہور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند معاشرے کو بدلنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔توہم نے اس رپورٹ کومستردکرتے ہوئے کہاکہ کہ یہ محمدبن سلمان کے بغض میں لکھ رہے ہیں۔مگربعدکے حالات نے ثابت کیا کہ واقعی ایم بی ایس ”تبدیلی“ کاوژن لے کرآئے ہیں۔ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق دینے کے نام پرکئی اہم اقدامات اٹھائے جن کااسلامی تہذیب یاعرب ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔
ایم بی ایس کویہ اعزازبھی حاصل ہے کہ ان کے دورمیں سعودی فلم انڈسٹری بھرپورترقی کررہی ہے۔ان ہی کی پالیسیوں کانتیجہ ہے کہ اپریل 2018 میں 35 برس بعد سعودی عرب کے سنیما میں دوبارہ فلم دکھائی گئی، اور سعوی عرب میں پہلے اینٹرٹینمنٹ سٹی کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ایک اورخبرکے مطابق  سعودی عرب میں سینما کی تحریک کی مدد کرنے کے تناظر میں سینما انڈسٹری ترقی پا رہی ہے۔۔یہ توچندخبریں ہیں جوفوری طورپرسامنے آئیں ورنہ اس حوالے سے تواتناکچھ ہے کہ اس کااحاطہ کرناہی ممکن نہیں۔بس اتناہی کہاجاسکتاہے کہ
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
محمدبن سلمان نے یہ طے کرلیاہے کہ انہوں نے سعودی عرب کواب صرف عالم اسلام کامرکزہی نہیں رہنے دینابلکہ عالمی دنیاکے ساتھ چلناہے یہی وجہ ہے کہ چندہ ماہ قبل اسرائیل کے دورے کے فوراً بعد امریکی صدرجوبائیڈن نے محمدبن سلمان سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیاتھاکہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود کو اسرائیل کے لیے کھول دے گا، جو اس سے قبل بند تھی۔اس کااندازہ نہیں تھا کہ محمدبن سلمان فضائی حدود کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین بھی یہودیوں کے لیے کھول دے گا۔پھرہماری گناہ گارآنکھوں نے یہ دیکھا کہ امریکی صدرکے دورے کے فوراً بعد ایک یہودی صحافی گِل تماری نے سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں ان مقامات کا دورہ کیا جہاں غیر مسلم افراد کا داخلہ منع ہے،اس نے مقدس مقامات کی عکس بندی کی۔
سعودی حکومت اس کی لاکھ تاویلیں کریں مگریہ ثابت ہوگیاہے کہ موجودہ سعودی حکمران تدریجاًاسرائیل کی طرف بڑھ رہے ہیں،اورطے شدہ پالیسی کے تحت ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں کہ جس سے اسرائیل تسلیم کرنایانہ کرناایک بے معنی سی بات ہو کر رہ جائے گی۔ سعودی حکمران اگراسرائیل کوتسلیم بھی کرلیتے ہیں توامت مسلمہ کی طرف سے کون ساطوفان اٹھنے والاہے؟امت مسلمہ توکب سے امت مرحومہ ہوچکی ہے،امہ کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کوصرف منظرسے ہی نہیں ہٹایابلکہ اس دنیاسے ہی اٹھادیاگیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.