قومی سیاست میں مشرقی پاکستان کی بازگشت

18

پاکستان نے گندم خریداری کے لیے روس سے جو مجوزہ معاہدہ ڈرافٹ کیا تھا اس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ روس نے رعایتی نرخوں پر گندم فروخت کرنے سے انکار کیا ہے جب وہ گندم میں ہمیں کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تو سستا پٹرول والی پرانی کہانی کی کیا حقیقت ہے۔ اس دوران ایک یوکرائنی سینیٹر Igor Morozov کے اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا جب انہوں نے کہا کہ یوکرائن پاکستان کی مدد سے نیو کلیئر ہتھیار بنانا چاہتا ہے یہ وہ بات ہے جس پر روس اپنی جگہ اور امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی جگہ پاکستان سے ناراض ہو سکتے ہیں یہ بہت تشویشناک الزام ہے مگر کیا مجال ہے کہ اس پر پاکستان میں کوئی شور اٹھا ہو کیونکہ یہاں کسی کولانگ مارچ سے ہی فرصت نہیں ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف ایک ہی موضوع چل رہا ہے اور وہ ہے لانگ مارچ کا انجام۔ اس وقت ساری نظریں لانگ مارچ پر ہیں۔
عمران خان لانگ مارچ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہوا 5 دن میں لاہور سے گوجرانوالہ پہنچا ہے 5 دن میں تو لاہور سے اسلام آباد بندہ پیدل بھی پہنچ جاتا ہے مگر اصل معاملہ کچھ اور ہے۔ عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ذرائع انہیں ہر طرف کی خبر دے دیتے ہیں۔لانگ مارچ چونکہ براہ راست نئے آرمی چیف کی تقرری کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ عمران خان کے ذرائع نے انہیں بتایا کہ 4،5 نومبر تک نئے چیف کا نوٹیفکیشن جاری ہو جانا ہے لہٰذا انہوں نے اپنے پیادہ،سواروں اور گھوڑوں کو لاہور سے کوچ کرنے کا حکم دے دیا جس کی جوابی حکومت عملی کے طور پر نوٹیفکیشن میں تاخیر کر دی گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ تاخیر 25 نومبر تک چل سکتی ہے مگر لانگ مارچ کا تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ اب عمران اور ان کی پارٹی نے اپنی رفتار سست کر دی ہے۔ وہ 24 گھنٹے میں 2 گھنٹے کچھوے کی رفتار سے قافلے کو چلاتے ہیں اور باقی 22 گھنٹے بیک ڈور مذاکرات کاروں کی طرف دیکھتے ہیں یہ ایک اعصاب کی جنگ ہے جو انہیں تھکا دینے کے لیے ہے مگر اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ لانگ مارچ کا یومیہ خرچہ جو شروع میں ایک ہفتے کے لئے تھا وہ اب 4 ہفتے ہو سکتا ہے یعنی خرچے 4 گنا بڑھ جائیں گے مگر عمران خان کو اس کی پروا نہیں ہے انہیں ہر دور میں نئے سے نئے سپانسر میسر آجاتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر چین روانہ ہو چکے ہیں جہاں چینی صدر شی جنگ پنگ سے انکی اہم ملاقات طے ہے۔ اگر شہباز شریف کی حکومت کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا تو وہ یہ دورہ ملتوی کر دیتے یہ محض اتفاق کی بات ہے یا نہیں کہ جب بھی چائنا کے ساتھ پاکستان کا کوئی اہم ترین معاہدہ ہونے لگتا ہے یہ 2014ہو یا 2022ء تحریک انصاف والے سڑکوں پر ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان یہ لانگ مارچ حکومت گرانے کے لیے کر رہے ہیں؟
میرا جواب تو نہیں میں ہے کیونکہ حکومت گرانا ہی مقصد ہوتا تو وہ پنجاب اور پختونخوا کی اسمبلیاں توڑ دیں تو حکومت خود ہی گر جائے گی مگر وہ یہ نہیں چاہتے۔ وہ صرف اسٹیبلشمنٹ پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں اور ان کی اصل لچسپی نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ہے۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ فوج کے اندر ایسے ستون موجود ہیں جو انہیں اب بھی پسند کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابھی تک نئے آرمی چیف کی تقرری پر concensus نہیں ہو رہا۔
البتہ ایک با ت طے ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی پارٹیاں شروع ہو چکی ہیں۔ یہ شروعات تاخیر سے ہوئی ہے جس کی وجہ حالیہ حالات حاضرہ اور ان کی توسیع کی خبریں تھیں مگر اب یہ معاملہ کلیئر ہو چکا ہے۔ اسی اثنا میں نگران سیٹ اپ کی بازگشت سنی جا رہی ہے اس کے لیے جو نام گونج رہے ہیں وہ عمران خان کو یقینا ناقابل قبول ہوں گے مگر اس میں عمران خان کا کوئی آئینی کردار نہیں کیونکہ یہ پارٹی پارلیمنٹ سے مستعفی ہو چکی ہے۔ اس کے لیے نگران وزیراعظم کے لیے مشاہد حسین سید کا نام آ رہا ہے جن کا تعلق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ہے۔ ایک موقع پر انہیں ق لیگ کی اسائمنٹ بھی سونپی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ کے لیے ایک بار پھر حفیظ شیخ کا نام Tick ہو رہا ہے یہ ایک طرف تو IMF کے فیورٹ ہیں دوسرا انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسی حمایت کی بنا پر یہ تحریک انصاف کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔ عمران خان کو مشاہد حسین سے زیادہ اعتراض حفیظ شیخ پر ہو گا کیونکہ انہیں عمران خان نے غیر تسلی بخش کارکردگی پر نکالا تھا جب وہ سینیٹ الیکشن ہار گئے تھے۔ یہ دونوں چہرے اگر نگران حکومت میں آئیں گے تو یقینا تحریک انصاف پر اعتراض کرے گی مگر ان کے اعتراض کی آئینی حیثیت نہیں ہو گی۔
عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں ان کی مقبولیت جس لیول پر ہے وہ عام انتخابات جیت جائیں گے مگر ضمنی انتخابات کو بطور سند پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تحریک انصاف اپنے دور اقتدار کے سارے ضمنی الیکشن ہاری تھی۔ فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسوں میں نااہلی کے باوجود عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ جتنے مقبول ہیں انہیں ٹیکنیکل بنیاد پر نا اہل کرنا زیادتی ہو گی۔ عام طور پر جب بھی کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کا اعلان کرتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کرے ورنہ ہم حکومت کو نہیں چلنے دیں گے اور اس کا انجام مذاکرات کے ذریعے ہی قرار پاتا ہے مگر عمران خان پہلے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات سے انکاری تھے اب اداروں کے ساتھ بھی وہی رویہ ہے تو حل کیسے نکلے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آخری وقت پر کسی دوست ملک کی طرف سے کوئی ایسی کال آجائے جس سے معاملہ رفع دفع ہو سکے مگر ابھی تک ایسی کوئی علامت نہیں ہے۔
میاں نواز شریف نے ن لیگ کو عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے روک دیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے باہمی تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں اور ان حالات میں اتفاق رائے ممکن نہیں ہوتا۔ البتہ صدر پاکستان محترم عارف علوی اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ذریعے اداروں سے مذاکرات کا کچھ نہ کچھ تاثر اب بھی موجود ہے۔ اسی دوران دھرنے میں شریک پارٹی ارکان اتنے پر امید نظر نہیں آتے وہ سمجھتے تھے کہ چند دن کی بات ہے مگر اب یہ سلسلہ طویل ہونے جا رہا ہے۔ پہلے 5 دن کی خبر یہ ہے کہ پارٹی کی سینئر قیادت اور خوشحال طبقہ لاہور کے مہنگے ہوٹلوں اور فارم ہاؤسز میں مقیم ہیں وہ شام کو 2 گھنٹے کے لیے حاضری لگواتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ سیاسی احتجاج کی اس ترقی یافتہ شکل کا زیادہ فائدہ احتجاج کے ایریا میں واقعہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کو ہو رہا ہے۔ ان کی سیل بڑھ جاتی ہے باقی دھرنے اور لانگ مارچ کا ایک ضمنی فائدہ ضرور ہے کہ ایم پی اے ایم این اے حضرات اپنے علاقوں سے جن ہزاروں نوجوانوں کو لے کر آتے ہیں ان کی خوراک ایزی لوڈ اور قیام کے علاوہ ان کی سماجی ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے جس سے دولت کے ارتکاز کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور پیسہ امیروں کی جیب سے نکل کر غریبوں کی ہتھیلی پر آجاتا ہے مگر یہ وہ عارضی علاج ہے جس کے مضر اثرات اس کے فائدے سے زیادہ ہیں۔
عمران خان نے اپنی تقریر میں مجیب الرحمان اور بنگلہ دیش کے قیام کی مثال دی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ یہ ایک طرح کی دھمکی ہے کہ اگر اس کا راستہ روکا گیا تو بنگلہ دیش والے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ دوسری طرف انہوں نے کہا ہے کہ مارشل لاء لگانا ہے تو لگا دیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ کھلم کھلا اداروں سے ٹکراؤ کا اعلان ہے جس کے بعد مذاکرات کا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ اس طرح کا سنگین ڈیڈ لاک پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ عمران خان نے اپنے مخالفین کو اشتعال دلانے میں کوئی ذرہ برابر بھی کسر نہیں چھوڑی۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ میں ملکی معیشت سدھارنے کے بارے میں یا ملک کو در پیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عمران خان کی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ نہ ان کے پاس کوئی معاشی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے اپنے 4 سال میں 5 وزیر خزانہ ٹرائی کیے مگر معاملات قابو میں نہ آسکے۔ پاکستان کی سیاست اس وقت بند گلی میں داخل ہو چکی ہے مگر کوئی سیاسی جماعت پارٹی مفادات سے آگے ملک کے لیے سوچنے کے لیے آمادہ نہیں۔ مشرقی پاکستان جیسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.