گلگت بلتستان کی آزادی

11

آزادی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے اور غلامی زندگی کی سب سے بڑی ذلت اور اذیت ہے۔ آزادی کی اہمیت کا ادراک وہی کر سکتا ہے جس نے غلامی کی ذلت اور رسوائی دیکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور آزادی کے ساتھ عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزادی کی اہمیت کو واضح کر تے ہوئے غلاموں کو وہ حقوق عطا کیے جو انہیں عہد جاہلیت میں میسر نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آقا اور غلام کی اہمیت و مقام کو برابر رکھا اور فرمایا جو تم پسند کرتے ہو وہ انہیں بھی پسند کرو۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کے معاشرے سے غلامی کا رجحان مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی عہد رسالت کا یہی نظام رائج رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مختلف مقامات پر اس بات کی خاص تاکید کی کہ تم انہیں غلام کیوں بناتے ہو جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے۔ حضرت علیؓ جب بھی اپنے غلام قمبرکے ساتھ بازار جاتے تھے جو کچھ خریدتے تھے پہلے قمبر کو بہتر چیز دلواتے تھے پھر اپنے لیے پسند فرماتے تھے الغرض اسلامی تعلیمات ہمیشہ حریت اور آزادی کا درس دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد بر صغیر میں مسلمان دوسری اقوام کے غلام بن بیٹھے تو تب انہیں آزادی کی اہمیت کا احساس ہوا جس کی وجہ سے تحریک پاکستان کا آغاز ہوا۔ آخر کار لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد 14اگست 1947کو ریاست مدینہ کے بعد دنیا کا پہلا آزاد اسلامی ملک پاکستان کے نام سے وجود میں آیا۔ اس زمانے میں گلگت بلتستان کے علاقوں میں ڈوگرہ اور سکھوں کی حکومت تھی۔ گلگت بلتستان کا موجودہ رقبہ 72971مربع میل اور آبادی تقریباً 22 لاکھ ہے جس میں کُل 10اضلاع 18 تحصیل 3ڈویثرن اور قانون ساز اسمبلی کے 24حلقے مشتمل ہیں۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں شمال کی جانب چین، شمال مغرب میں تاجکستان، مغرب میں افغانستان، جنوب میں کے پی کے، جنوب مشرق میں آزاد کشمیر اور مشرق میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ملتی ہے جو کہ اپنا محل وقوع اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے پاکستان کے دیگر صوبوں اور علاقوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اور افادیت رکھتا ہے۔ اقتصادی راہداری کے کامیاب منصوبے کی وجہ سے گلگت بلتستان پوری دنیا میں عظیم مقام حاصل کرچکا ہے گلگت بلتستان میں تحریک آزادی کا آغاز قیام پاکستان کے ڈھائی ماہ بعد محلہ ڈاکپورہ گلگت سے ہوا۔ یکم نومبر کو گلگت اور بونجی کا علاقہ ڈوگرہ کی غلامی سے آزاد ہوکر پاکستانی پرچم کے سائے تلے جمع ہو چکا تھا۔ تحریک آزادی کی باگ ڈور برٹش کرنل مرزا حسن خان کے ہاتھ میں تھی اس وقت بونجی ہیڈ کوارٹر میں گلگت سکاؤٹس کی کل تعداد 580اور 400افراد دیگر مسلمان فوج تھے جبکہ مختلف علاقوں سے آزاد مجاہدین کی بڑی تعداد کرنل حسن خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک آزادی میں شامل ہوئے۔ کرنل حسن خان فوجی مہارت، جنگی ٹیکنیک اور جغرافیائی حالات سے بڑی مہارت رکھتے تھے بونجی کے مقام پر مجاہدین گلگت سکاؤٹس اور دیگر رضا کاروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک گروپ روندو کے راستے بلتستان کی جانب روانہ کیا اور دوسرا گروپ میجر بابر کی قیادت میں استور کی جانب رواں دواں ہوا۔ خود بونجی میں بیٹھ کر حکمت عملی اور احکامات جاری کرتے رہے۔ انقلاب آزادی کے جانثار اور مجاہدین نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ دونوں گروپوں کی ملاقات سری نگر میں ہو جائے گی۔ ایک طرف مجاہدین استور سے ہوتے ہوئے گریز تک پہنچ چکے تھے دوسری جانب بختاور کا گروپ بارہ مولا تک پہنچ چکا تھا کرنل مرز ا حسن خان کی بہترین قیادت اور حکمت عملی کے تحت آزادی کی تحریک عروج پر تھی اس دوران جنرل جیلانی نے آ کر قیادت سنبھالی اس کے حکم پر مجاہدین کو پسپا ہونا پڑا۔ 14ماہ کی اس طویل جدو جہد نے بلتستان کے عوام اور حکمرانوں کے ساتھ استور کے عوام نے مجاہدین گلگت اور سکاؤٹس کی بڑی جانی و مالی مدد کی۔ ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی تحریک آزادی میں عظیم کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ ان محب وطن عوام قربانی سے سر شار مجاہدین اور سکاؤٹس کے عظیم جذبات اور حوصلوں کی ہی مرہون منت ہے کہ آج گلگت بلتستان کا وسیع خطہ پاکستان کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان سیاحت اور پانی سے مالامال ہے بلکہ وطن عزیز کی سرحدیں چین اور وسطی ایشیا تک پہنچ چکی ہیں اور یہی گلگت بلتستان ہے جو کہ پاک چین دوستی کی لازوال علامت ہے اور خطے کے عوام وطن عزیز کی بہترین محافظ بھی ہیں اگر یکم نومبر 1947 میں تحریک آزادی کا یہ جذبہ منظر عام پر نہ آتا تو شاید پاکستان کی خارجی حکمت عملی شکل کچھ اور ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک آزادی گلگت بلتستان کو واقعی وہ مقام دیا جائے جو ان کا حق بنتا ہے تاکہ یہ جذبہ اور جنون ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ تحریک آزادی گلگت بلتستان کو فعال بنانے کے لیے عوام، حکومت، سیاسی نمائندے سماجی ادارے، مذہبی اہلکار اور میڈیا کو درجہ ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اول یہ کہ بین الاقوامی حالات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت یکم نومبر کو ملکی سطح پر منانے کا اہتمام کرے تاکہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام کو بھی اس دن کی اہمیت واضح ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ تحریک آزادی گلگت بلتستان کے تمام لیڈرز اور ہیروز کو تحریک پاکستان کے لیڈرز اور عمائدین کے برابر مقام دیا جائے۔ تیسرا یہ کہ تحریک آزادی کے گمنام مجاہدین کی خدمات کو منظر عام پر لایا جائے۔ چوتھا یہ کہ گلگت بلتستان کے نصاب تعلیم میں کلاس ہشتم تک تحریک آزادی کے کردار کو مختلف موضوعات کے تحت شامل کیا جائے۔ پانچواں یہ کہ گلگت بلتستان کی حب الوطنی کو دیکھتے ہوئے ہر زاویئے پر عوامی جذبات کا احترام کیا جائے۔ چھٹا یہ کہ تحریک آزادی اور ملکی سالمیت کے متعلق شعور دینے والے افراد کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے۔ ساتواں یہ کہ دشمن کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے گلگت بلتستان میں عظیم اتحاد کی فضا بحال رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ آٹھواں یہ کہ 1947 کے تحریک آزادی میں شامل افراد کے غریب خاندانوں کی کفالت کی جائے اور نواں یہ کہ علاقائی اور ملکی میڈیا یکم نومبر کے اہم تقریبات کو منظر عام پر لانے کے لیے کردار ادا کرے تاکہ تحریک آزادی گلگت بلتستان اپنی اصل روح اور حقیقت کیساتھ سامنے آئے جو کہ ملکی، علاقائی اور عوامی مفاد میں ہے۔

تبصرے بند ہیں.