بڑی ریٹائرمنٹ چھوٹی ریٹائرمنٹ

44

الیکشن کی تاریخ مانگی جا رہی ہے، بڑی ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آ رہی ہے، چھوٹی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اپریل میں ہے اور ایک تاریخ وہ ہے جو لکھی جا رہی ہے۔ یہ سارا کھیل ہی ان تاریخوں اور ہماری تاریخ کے جبر کا ہے، اگر 28 نومبر کو جنرل باجوہ نے ریٹائر نہ ہونا ہوتا اور اپریل 2022 میں جنرل فیض کی مدت ملازمت ختم نہ ہو رہی ہوتی تو شاید عمران خان حکومت برقرار رہتی، چونکہ جنرل باجوہ کے متبادل کی تعیناتی کے لیے عمران خان کے ممکنہ“حسنِ انتخاب”پر قومی سطح پر سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی اعتراضات تھے تو طے یہ پایا کہ پتھر کے دور میں واپس جانے کی بجائے ایک سیاسی سرکاری ملازم کا تبادلہ کر دیا جائے، اب اس کے لیے نیا بیانیہ پیشہ وارانہ غیرجانبداری یا نیوٹریلیٹی کاطے ہوا
جس پر عمل درآمد کی تاریخ سیاسی سرکاری ملازم کے تبادلے سے چند ماہ پہلے کی طے کی گئی، سو فیصلہ ہوا کہ خان صاحب کو فیض پہنچانے والے ریاست در ریاست کے سیاسی سفیر کو بھی ریاستِ پاکستان سے واپس بلا لیا جائے، یوں خان صاحب کی قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں بندے پورے کرنے کا دھندا کرنے والے صاحب کا پتہ کٹ گیا، اتحادی سمجھ گئے، یوں تاریخ میں پہلی بار بظاہر آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے اس سیڑھی پر سے ہاتھ اٹھا لیے جس پر خان صاحب کو چڑھایا گیا تھا، اتحادی سمجھ گئے اور انکا حکومت سے اعتماد اْٹھ گیا مگر پھر ایک سفارتی مراسلہ خان صاحب کے ہاتھ لگ گیا جس نے سیاست کا پانسا پلٹ دیا، مگر اس سے پہلے عدالت نے بھی آئین کا سہارا لیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ خان صاحب ایسا آرمی چیف نہ لگا پائیں جس کی مدت ملازمت پہلے دن سے ہی چھ سال ہو اور جس کی وجہ سے امریکہ بادشاہ اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی ادارے پاکستان سے ناراض ہو جائیں۔ اگر سیاسی مصلحت اور بزدلی غالب نہ آ جائے تو پاکستان کی کوئی بھی سیاسی حکومت یا اپوزیشن فوج کے کسی بھی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حامی نہیں ہوتیں، بلکہ فوج کا ادارہ خود بھی اپنی عزت و وقار کی خاطر یہ زہر کا گھونٹ پیتا ہے۔ تو ایسے میں عمران خان کا مزید وزیر اعظم رہنے کا واضح مطلب تھا کہ وہ ذہنی طور پر اپنے پسندیدہ جرنیل کو شروع دن سے چھ سال کی مدت کے لیے تعینات کرتے، اسی لیے اب فوج کے پاس آئین کے مطابق سیاست سے دور رہنے کا اعلان کرنے کے سوا کوئی چارا ہی نہ تھا، سلیکٹڈ تو یو ٹرن کے لیے مشہور تھا ہی اب کی بار سلیکٹر نے بھی بغیر اشارے اور آہستہ ہوئے جو یو ٹرن لیا تو اس کے لیے بھی اپنی سیاسی رفتار میں کمی نہیں کی، واضح طور پر مسئلہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا نہیں بلکہ اس ممکنہ عسکری قیادت کا تھا جسے آئین پاکستان اور سرحدِ افغانستان دونوں کی خلاف ورزی میں مہارت حاصل تھی۔ ہمارے وزیر اعظم تو ہمیشہ کی طرح چْونگے ہی میں مارے جاتے رہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ خان صاحب اپنے سیاسی پیر کی سیاسی وجاہت سے اتنے مرغوب ہوئے کہ اسے آئینی دہلیز پار کروا کر ساتھ لے اڑے، اسکی خاطر اپنی سیاست کو داؤ پر لگا لیا مگر پھر سفارتی مراسلہ ان کی سیاست کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آیا۔ اپنے ہی پاکستانی سفیر کے ہاتھوں کا لکھا امریکی دفترِ خارجہ کے ایک اہلکار کی گفتگو سے متعلق اس مراسلے نے خان صاحب اور ان کے سیاسی پیر و
مرشد کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کر دی، عوام کا سمندر ان کے جلسوں اور کچھ ضمنی انتخابات کے نتائج میں نظر آیا،2018ء کے انتخابات میں اقتدار کے گناہِ بے لذت مگر لطفِ بے انتہا سے آشنا ہونے کے بعد عمران خان اپنی سیاسی قوتِ ایمانی و عوامی سے قطع نظر پوچھ رہے ہیں کہ“چولی کے پیچھے کیا ہے؟“ اپنی لانگ مارچ اور لونگ مارچیوں کو بیچ میں چھوڑ کر ابھی بھی“میر جعفر وں اور میر صادقوں ”سے بے شرمی کیساتھ ملاقاتیں کرنے غائب ہو جاتے ہیں اور پھر ریلی میں پرائے بچوں کو خوف سے حقیقی آزادی حاصل کرنے کا درس دیتے نہیں تھکتے۔
لانگ مارچ دھیرے دھیرے اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے اور لگتا ہے کے لانگ مارچ میں شامل ایک اور بیرسٹر اعتزازاحسن کو ایک اور جنرل کیانی کے فون کا انتظار ہے جس کے بعد لانگ مارچ یا تو راستے میں ہی منسوخ ہو جائے گا یا پھر اسلام آباد پہنچ کر واپس ہو جائے گا اس تاثر کے ساتھ کہ اگلے الیکشن کے حوالے سے کسی نامعلوم کیساتھ کوئی نامعلوم انڈر سٹینڈنگ ہو گئی ہے، ویسے بھی عمران خان نے عوامی مہم کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں سے اس کو ممکنہ انتخابات کی تاریخ سے پانچ یا چھ ماہ پہلے نیچے لانا بہت بڑی سیاسی غلطی ہو گی، اب اصل مسئلہ حکومت کے لیے ہے اور وہ یہ کہ حکومت الیکشن کی تاریخ دے نہ دے مگر نئے آرمی چیف کا نام تو بروقت دے دے، نئے آرمی چیف کا نام سامنے آنے کے بعد بھی اگر خان صاحب نے مارچ جاری رکھا تو پھر فوج کی سیاسی پالیسی میں آئینی اور جمہوری ٹچ دینے والی پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے نئے حلف پر بھی سوال اٹھیں گے، سوال تو اب بھی اٹھ رہے ہیں، اپریل 2012 کے بعد سے ضمنی یا کسی لوکل باڈی کے الیکشن میں مداخلت کے ثبوت کا چیلنج دینے والے یہ بھی بتا دیں کہ اس سے پہلے جو ہوا اس کا حساب کون دے گا؟ اور کیا گارنٹی ہے کہ کمان کی تبدیلی کے بعد آئینی ٹچ کی اعلان کردہ پالیسی قائم رہیگی اور مزید پریس کانفرنسوں کی ضرورت نہ پڑیگی؟ اور اپریل کے بعد سیاست، عدالت اور صحافت پھر سے نشانے پر نہ ہونگے؟
عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران خطاب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہمیں بتاتی رہی کہ یہ لوگ (موجودہ حکمران جماعتیں) چور ہیں اور اب انہیں چوروں کیساتھ وہ کھڑی ہو گئی ہے اور پھر پوچھا کہ کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں؟ ویسے تو خان صاحب جب خاموش رہ کر سیاسی مخالفین سے متعلق مارخور کی دی گئی فائلیں پڑھ رہے تھے تو کیا وہ خود کو بھیڑ بکری محسوس نہیں کرتے تھے؟ وہ اب کونسا ہاتھی بن چکے ہیں۔ حکومت گرانے والی اس لانگ مارچ کے دوران انہیں پہلے کی طرح“ایمپائر کی انگلی”تو محسوس نہیں ہو رہی مگر وہ بار بار بغیر کسی شرمندگی کے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔
مگر پھر دوسری طرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گھڑنے والے وزیر اعظم شہباز شریف بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں انکی اجازت سے ہو رہی ہیں۔ اب سیاست سے بیس کلومیٹر کی دوری میں یہ سب کچھ تو ہو گا ہی۔ تاریخ اور تاریخوں کے جبر کے اس دور میں اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کون اور کب کرے گا اور کیا اس تاریخ کا اعلان بڑی ریٹائرمنٹ کے بعد ہو گا اور پھر کیا یہ تاریخ چھوٹی ریٹائرمنٹ کے بعد کی ہو گی؟

تبصرے بند ہیں.